جعلی خبروں کے لیے بدنام صحافی چل بسے

امریکہ میں سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب کے دوران جعلی خبریں پھیلانے کے لیے بدنام ہونے والے مصنف چلے بسے۔

حکام کے مطابق 38 سالہ پال آرنر اپنے گھر میں مردہ پائے گئے اور شبہ ہے کہ ان کی ہلاکت کی وجہ دواؤں کا زیادہ استعمال ہے۔

آرنر جنہوں نے فیس بک اور اپنی ویب سائٹ پر دھوکا دہی پر مبنی مضامین چھاپے اور ان کا دعویٰ تھا کہ نومبر میں صدر ٹرمپ کے انتخاب کی اصل وجہ وہی ہیں۔

امریکی صدارتی انتخاب کے دوران جعلی خبریں ایک بڑا مسئلہ رہیں۔

من گھڑت خبروں کی بھرمار کو بھی امریکی انتخاب پر اثر انداز ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

آرنر کی جعلی خبروں میں یہ دعوی بھی شامل تھا کہ سابق صدر براک اوباما ہم جنس پرست اور بنیاد پرست مسلمان ہیں۔

آرنر کی کئی ویب سائٹس جن میں نیوز ایگامینر شامل ہے۔ تاہم آرنر اپنے زیادہ تر کام کو سیاسی طنز قرار دیتے ہیں۔

انھوں نے ایک بار سی این این کو انٹرویو میں بتایا کہ ’ان خبروں میں کافی طنز و مزاح ہوتا ہے۔ میں یہ لوگوں کو تعلیم دینے کے لیے کرتا ہوں۔ مجھے معاشرے میں کچھ چیزیں غلط لگتی ہیں جو مجھے اچھی نہیں لگتیں۔‘

ان کے بھائی نے فیس بک پر لکھا کہ آرنر اپنی والدہ کے گھر میں مردہ پائے گئے۔ وہ نیند میں ہی وفات پا گئے۔

ایک پولیس اہلکار کے مطابق آرنر پہلے بھی تجویز کردہ مقدار سے زیادہ دوا لے چکے ہیں اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد سے پتا چلتا ہے کہ حادثاتی طور پر زیادہ خوراک لی گئی ہے۔

ایک مرتبہ واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو میں آرنر نے کہا کہ ’میرے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ میری وجہ سے وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہیں۔‘

’ان کے حامی ہر وقت میری سائٹ پر ہوتے اور انھوں نے کبھی حقائق کو نہیں پرکھا، وہ سب چیزیں پوسٹ کرتے۔ ہر چیز پر یقین کرتے۔‘

لیکن جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ انھوں نے جعلی خبروں سے ہیلری کلنٹن کے حامیوں کو نشانہ بنایا تاکہ ان کے حریف کی مدد ہو سکے تو ان کا جواب تھا ’نہیں، مجھے ٹرمپ سے نفرت ہے۔‘