آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’پھر ہم نے رقص کیا اور کہانی یہیں سے شروع ہوئی‘
کینیڈا کے ایک سابق فوجی اور ان کی برطانوی اہلیہ 75 برس تک ایک ساتھ زندگی گزارنے کے بعد اس دنیا سے ایک ہی دن رخصت ہوئے۔
جمعرات کو کینیڈا کے ایک ہسپتال میں ان دونوں کا انتقال ہوا۔ ڈاکٹروں کے مطابق دونوں کے انتقال میں صرف پانچ گھنٹوں کا فرق تھا۔
انھوں نے حال ہی میں شادی کی 75 ویں سالگرہ کا جشن منایا تھا۔ اس جوڑے نے دوسری جنگ عظیم کے دوران شادی کی تھی۔ ان کی پہلی ملاقات سنہ 1941 میں لندن کے پاس ایک ڈانس ہال میں ہوئی تھی۔
94 سالہ جین سپیئر کو نمونیا کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ایک دن بعد ان کے 95 سالہ شوہر جارج سپیئر کو بھی ہسپتال میں داخل کرنا پڑا۔
ہسپتال کا عملہ جارج سپیئر کو بھی اسی منزل پر منتقل کرنے کی تیاری کر رہا تھا جہاں ان کی بیوی کا علاج چل رہا تھا لیکن ایسا کرنے سے پہلے ہی جین صبح چار بجے چل بسیں۔ اس کے چند گھنٹوں کے بعد ہی ان کے شوہر جارج نے بھی آخری سانس لی۔
دونوں بزرگوں نے سوگواروں میں اپنے پیچھے دو بچوں کو چھوڑا ہے۔
اپنی شادی کی 72 ویں سالگرہ کے موقع پر جارج سپیئر نے مقامی اخبار 'اوٹاوا سٹیزن' کو اپنی پہلی ملاقات کے متعلق بتایا تھا 'جینی نے میرے فوجی جوتوں کو دیکھا اور کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اتنے بڑے اور وزنی جوتوں کے ساتھ آپ رقص کر سکتے ہیں۔'
جارج نے کہا 'ہمارا تعارف کچھ اس انداز سے ہوا تھا، میں نے کہا کہ میں کوشش کروں گا، اور پھر ہم نے رقص کیا اور کہانی یہیں سے شروع ہوئی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے کچھ عرصے بعد دونوں نے 22 اگست سنہ 1942 کو دریائے ٹیمز کے پہلو میں بسے جین کے شہر کنگسٹن میں شادی کر لی۔
جین کے شوہر اب تک اٹلی میں تعینات تھے اور جب باقی فوجیوں کی تریبتب کے لیے انھیں کینیڈا واپس بھیجا گيا تو وہ بھی سنہ 1944 میں اپنے شوہر کے ساتھ کینیڈا آ گئیں۔
جین نے جنگ سے متاثرہ فوجیوں کی بیویوں کے لیے کافی فلاحی کام کیے تھے اس لیے سنہ 2006 میں ملکۂ برطانیہ نے انھیں 'آرڈر آف دی برٹش امپائر' کی رکنیت سے نوازا تھا۔
اس تقریب میں شرکت کے لیے وہ اپنے شوہر جارج کے ساتھ لندن آئیں تھیں۔ محترمہ سپیئر نے جنگ میں متاثر ہونے والے فوجیوں کی بیویوں کے لیے کینیڈا میں پہلا کلب قائم کیا تھا۔
چونکہ بہت سی برطانوی خواتین نے کینیڈین فوجیوں سے شادی کر لی تھی اس لیے دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد تقریباً 50 ہزار برطانوی خواتین کینیڈا منتقل ہو گئی تھیں۔
سنہ 2011 میں برطانوی شہزادے ویلیم نے شہزادی کیتھرین سے شادی کرنے کے بعد جب کینیڈا کیا دورہ کیا تھا تو ان کے استقبالیے میں اس جوڑے کو بھی ذاتی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔
جارج سپیئیر نے شہزادی کیتھرین کو اپنی سارجنٹ والی کیپ دکھائی تھی جس میں جین کی شادی سے پہلے والی ایک تصویر تھی۔
شہزادی کیتھرین نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا آپ نے ہمیشہ اس تصویر کو اپنے ساتھ رکھا ہے تو اس پر جارج کا جواب تھا: 'جی ہاں، جنگ کے دوران اور پھر اس کے بعد سے آج تک۔'