آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی جج نے ٹرمپ کی سفری پابندیوں کی شدت کم کر دی
امریکی ریاست ہوائی کے ایک جج نے کہا ہے کہ امریکہ میں مقیم افراد کے دادا، دادی، نانا، نانی اور دیگر عزیز و اقارب کو صدر ٹرمپ کی سفری پابندیوں کے تحت ملک میں داخلے سے نہیں روکا جا سکتا۔
خیال رہے کہ تقریباً تین ہفتے قبل امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمان ملکوں پر سفری پابندیوں کے قانون کو جزوی طور پر بحال کر دیا تھا۔
اس حکم نامے میں چھ مسلمان ممالک پر 90 روز کی سفری پابندی اور پناہ گزینوں پر بھی 120 روزہ پابندی عائد کرنے کا کہا گیا تھا۔
جمعرات کو ریاست ہوائی کے ضلعی جج ڈیرک واٹسن کی جانب دیا جانے والا یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کے امیگریشن کریک ڈاؤن کے مقابلے میں تازہ کارروائی ہے۔
گذشتہ ماہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ فقط انتہائی قریبی رشتے دار ہی امریکہ میں آ سکیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے فیصلہ کیا تھا کہ ان میں وہاں کے رہائشیوں کے دادا دادی یا نانا نانی، پوتے پوتیاں یا نواسے نواسیاں، بھائیوں یا بہنوں کی اولاد، شوہر اور بیوی کے بہن بھائی یا کزن وغیرہ شامل نہیں۔
تاہم جج نے قریبی رشتے داروں سے متعلق حکومتی وضاحت کو 'بہت محدود' قرار دیا ہے۔
اپنے فیصلے میں جج ڈیرک واٹسن کا کہنا تھا کہ 'مثال کے طور پر عقل سلیم یہ کہتی ہے قریبی خاندان کے افراد میں دادا اور دادی بھی شامل ہیں۔ بے شک دادا اور دادی قریبی خاندان کے افراد میں سب سے اہم ہوتے ہیں۔'
جج واٹسن کے فیصلے کے نہ صرف ہوائی بلکہ پورے امریکہ میں دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔
وہ ضلعی عدالتوں کے 700 ججوں میں سے ایک ہیں جو مقامی ریاستی عدالتوں کے بجائے وفاقی نظام کا حصہ ہیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف سے حاصل کردہ اختیارات کے تحت وفاقی معاملات کی قانونی وضاحت کریں۔
اس سے قبل امریکی اپیل کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چھ مسلم ممالک کے افراد پر 'سفری پابندی' کے ترمیم شدہ حکم نامے کو متعصبانہ قرار دیتے ہوئے معطلی کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں امریکی شہریوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے حملوں سے بچنے کے لیے ضروری تھیں۔ تاہم ان پابندیوں کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی برتاؤ ہیں۔