امریکہ کا شمالی کوریا کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا عندیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ شمالی کوریا کے خلاف 'خاصی بڑی فوجی طاقت' استعمال کر سکتا ہے۔
شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ میزائل کے تجربے پر بات کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ پیانگ یانگ کے خلاف ایک نئی قرارداد پیش کرے گا۔
سفیر نکی ہیلی نے تجارتی پابندیاں لاگو کرنے کی دھمکی بھی دی۔
شمالی کوریا نے سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کردہ پابندی کے باوجود بین البراعظمی میزائل (آئی سی بی ایم) کا تجربہ کیا تھا۔
سفیر ہیلی نے کہا کہ شمالی کوریا کا آئی سی بی ایم کا تجربہ 'بہت تیزی سے کسی سفارتی حل کے امکان کا راستہ بند کر رہا ہے۔‘
انھوں نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے موقعے پر کہا: 'امریکہ اپنے اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے اپنی مکمل صلاحیت استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔
'ہماری صلاحیتیں ہماری خاصی بڑی فوجی طاقت میں ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم انھیں استعمال کریں گے، تاہم ہم اس سمت میں جانے کو ترجیح نہیں دیتے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانسیسی سفیر نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ فرانس بھی شمالی کوریا کے خلاف نئی قرارداد کے حق میں ہے، جس سے پابندیاں مزید سخت کی جائیں۔
تاہم روس، جس نے تجربے کی مذمت کی تھی، کہا کہ فوجی کارروائی کو 'خارج کر دنیا چاہیے۔'

،تصویر کا ذریعہKCNA
چین کے نمائندے نے کہا کہ بیجنگ کے لیے بھی شمالی کوریا کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں۔ تاہم انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین اور روس دونوں کا مطالبہ ہے کہ امریکہ جنوبی کوریا میں میزائل شکن نظام نصب نہ کرے اور یہ کہ دونوں ملک شمالی کوریا کے قریب اپنی فوجی مشقیں بند کر دیں۔
چین اور روس دونوں سلامتی کونسل کے مستقل اراکین ہیں اور وہ کسی بھی نئی قرارداد کو ویٹو کر سکتے ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی شمالی کوریا کے ساتھ تجارت پر تنقید کی۔
سفیر ہیلی نے کہا کہ امریکہ ان ملکوں کے ساتھ تجارت منقطع کر سکتا ہے جو اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے باوجود شمالی کوریا کے ساتھ تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا: 'ہم کسی بھی ملک کا جائزہ لیں گے جو کسی قانون سے ماورا انتظامیہ کے ساتھ کاروبار کر رہا ہے۔'








