برطانوی انتخابات: پاؤنڈ کی قدر میں تیزی سے کمی

برطانیہ میں عام انتخابات میں معلق پارلیمان کے نتائج سامنے آنے کے بعد برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی ہے۔

برطانوی کرنسی پاؤنڈ سٹرلنگ کی قدر میں گذشتہ رات سے کمی شروع ہوئی اور اس میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں 1.7 فیصد کمی کے بعد اس کا ریٹ 1.2737 ڈالر تک گر گیا ہے جبکہ ملک کی بے سیاسی صورتحال میں بے یقینی سے سٹاک مارکیٹس میں بھی پریشانی کا عالم ہے۔

یورو کے مقابلے میں پاؤنڈ کی قدر میں 1.4 فیصد کمی کے بعد یہ 1.1386 تک پہنچ گیا ہے۔

تاہم ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس میں تیزی دیکھی گئی اور یہ 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 7,508.47 تک پہنچ گیا۔

پاؤنڈ کی قدر میں کمی کا اثر عام طور پر ایف ٹی ایس سی 100 انڈیکس میں تیزی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے کیونکہ بیشتر کمپنیاں بیرون ملک کاروبار کر رہی ہیں۔ پاؤنڈ کی قدر میں کمی کا مطلب یہ بھی ہے کہ بیرون ملک حاصل ہونے والے منافعے کو جب پاؤنڈ سٹرلنگ میں تبدیل کیا جاتا ہے تو اس کی قدر زیادہ ہوتی ہے۔

بین الاقوامی کمپنیاں جیسا کہ گلیکسو سمتھ کلین اور ڈائیگو کی حصص میں سب سے زیادہ تیزی دیکھی گئی اور اس میں دو فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔

لیکن وہ کمپنیاں جو برطانیہ میں کاروبار کرتی ہیں یہ انتخابی تنائج سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

ہاؤس بلڈرز کی حصص میں پانچ فیصد کمی جبکہ ریٹیل کمپنیوں کے حصص میں بھی کمی دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے یہ بے یقینی کی یہ صورتحال صارفین کی خرچ کرنے کی طاقت کو مزید کم کر سکتی ہے۔

تاجر ٹریزا مے کی کنزرویٹیو پارٹی کی واضح کامیابی کی امید کر رہے تھے تاہم اب انھیں سیاسی بے یقینی کے بارے میں خدشات ہیں۔

انتخابی نتائج کے مطابق کنزرویٹیو پارٹی اب بھی سب سے بڑی جماعت ہے تاہم اسے حکومت بنانے کے لیے چند مزید نشستیں درکار ہیں۔