آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شاہ سلمان کو بالی جزیرہ کیوں پسند آیا؟
سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود ایک بڑے وفد کے ساتھ انڈونیشیا کے دورے پر ہیں اور وہاں سرکاری مصروفیات کے بعد مشہور سیاحتی جزیرے بالی میں اب چھٹیاں گزار رہے ہیں۔
شاہ سلمان کو بظاہر بالی جزیرہ خاصا پسند آیا ہے اور اسی وجہ سے انھوں نے اپنے قیام کو تین دن بڑھا دیا۔
انڈونیشیا میں بی بی سی کی نامہ نگار کرسٹین فرانسسکا نے بتایا کہ سعودی بادشاہ کے غیر معمولی دورے پر انڈونیشیا میں لوگ کھلے ساحل لیکن بانس کی باڑ کے بارے میں کیوں باتیں کر رہے ہیں۔
شاہ سلمان ایشیا کے ایک ماہ طویل دورے کے دوران انڈونیشیا اور ملائیشیا کے علاوہ برونائی، جاپان، چین اور مالدیپ بھی جائیں گے۔
سعودی بادشاہ جکارتہ میں دو طرفہ بات چیت مکمل کر کے سنیچر کو 25 شہزادوں سمیت 15 سو افراد پر مشتمل اپنے وفد کے ساتھ ایک ہرکولیس اور چھ بوئنگ ہوائی جہازوں کے ذریعے بالی پہنچے۔
جب شاہ سلمان سنہری رنگ کی بجلی سے چلنے والی لفٹ کے ذریعے جہاز سے اترے تو اس وقت پولیس اور فوج کے 25 سو اہلکار جزیرے کی سکیورٹی پر تعینات تھے۔
وہ نوسا دوعا ساحل سے چند قدم دور واقع لگژری ہوٹل میں ٹھہرے ہیں۔ ان کے قیام پر سوالات کیے جا رہے تھے کہ آیا ساحل کو عام لوگوں کے لیے بند کر دیا جائے گا جیسا کہ دو برس قبل ان کے دورۂ فرانس کے موقع پر کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن ایسا نہیں ہوا اور اطلاعات کے مطابق ہوٹل انتظامیہ نے پیدل چلنے کے لیے خصوصی راستے تعمیر کیے ہیں جبکہ شاہی خاندان کی نجی زندگی میں کوئی دخل نہ دے اس کے لیے بانس کی مدد سے خصوصی باڑ بنائی گئی اور اسے سفید کپڑے سے ڈھانپا گیا ہے۔
شاہ سلمان کے دورے کے دوران بالی میں خواتین کے نیم برہنہ مجسموں کا کیا ہو گا؟
جب بھی قدامت پسند مسلمان ممالک کے رہنما کسی دوسرے ملک کا دورہ کرتے ہیں تو بحث شروع ہو جاتی ہے کہ مہمان کے احترام کی خاطر کیا برہنے مجسموں کو ڈھانپ دینا چاہیے؟
جیسا کہ گذشتہ برس جب ایران کے صدر حسن روحانی اٹلی کے دورے کے دوران روم کے عجائب گھر میں گئے تھے تو وہاں برہنہ مجسموں کو لکڑی کے تختوں کی مدد سے چھپا دیا گیا تھا۔
انڈونیشیا میں اس کو جواب ہاں اور نہ دونوں میں ہے۔
شاہ سلمان نے جب جکارتہ کے بوگور محل میں صدر جوکو ودودو سے ملاقات کی تھی تو وہاں موجود برہنہ مجسموں کو مسلمان بادشاہ کو احترام دینے کے لیے کپڑے کی مدد سے ڈھانپ دیا گیا تھا لیکن بالی جہاں ہندو اکثریت میں ہیں ایسا نہیں ہوا اور حکام کے مطابق خواتین کے نیم برہنہ مجسموں کو نہیں ڈھانپیں گے۔
بالی کی مقامی حکومت کے ترجمان دیوا مہندر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ' ہم ان مجسموں کو ایسا ہی رہنے دے رہے ہیں جیسے کہ وہ ہیں اور ہم اپنی ثقافت کی وجہ سے کسی بھی چیز کو نہیں ڈھانپ رہے۔'
اگرچہ سعودی بادشاہ کی نجی زندگی کوئی عمل دخل نہیں دے رہا لیکن پولیس نے دو خواتین کو گرفتار لیا ہے جو سکیورٹی حصار کو توڑتے ہوئے سعودی بادشاہ سے ملنا چاہتی تھیں۔
پولیس حکام کے مطابق ان میں سے ایک 41 سالہ خاتون نے ہوٹل میں داخل ہونے کی کوشش کی تاکہ کے بادشاہ کو 500 سو صفحات پر مشتمل شاعری دے سکیں۔
بالی پولیس کے انسپکٹر جنرل آر گلوز کے مطابق ایسے واقعات بڑا خطرہ نہیں ہیں کیونکہ مقامی میڈیا میں سعودی بادشاہ کے دورے کی بہت زیادہ تشہیر ہونے کی وجہ سے بہت سارے لوگ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔
'پرکشش شہزادے'
ایک طرف جب متعدد مداحوں کو بادشاہ سے ملاقات کرنے میں کامیابی نہیں ملی لیکن وہ چند سعودی شہزادوں کو انسٹا گرام پر دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں یا ان کی کیا مصروفیات ہیں۔
ان میں شہزادہ فیصل بن خالد بن سلطان اور شہزادہ عبدالرحمان بن بدر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سرگرم ہیں تاہم نیوز ایجنسی انترا کے مطابق شہزادہ فہد بن فیصل السعود کو خاصی توجہ مل رہی ہے۔