ترک سفارتکار ’سوئٹزرلینڈ میں پناہ کے خواہش مند‘

سوئس ذرائع ابلاغ کے مطابق سوئٹزرلینڈ‌ میں تعینات ترکی کے نائب سفیر نے سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے جرمن زبان کے اخبار ٹیگس انزیئگر کے مطابق وولکن کراگوز کا شمار ان ترک سفارتکاروں میں ہوتاہے جو ملازمت سے معطلی یا گرفتاری سے بچاؤ چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ ترکی میں جولائی 2016 میں ہونے والی ناکام بغاوت کے بعد امریکہ میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن کے مشتبہ حامیوں کو ہزاروں کی تعداد میں گرفتار یا نوکریوں سے فارغ کیا گیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی مائیگریشن سروس کا کہنا ہے کہ وہ انفرادی معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔

تاہم برن میں حکومت کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے کچھ ترک شہریوں نے سیاسی پناہ طلب کی ہے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران ترکی اور یورپی ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی ابھر کر سامنے آئی ہے اس کی ایک وجہ صدر رجب طیب اردوغان کی جانب سے بیرون ملک بسنے والے ترک شہریوں کو اپریل میں ان کے اختیارات میں مزید اضافے کے لیے ہونے والے ریفرینڈم میں حمایت حاصل کرنے کی کوششیں ہیں۔

سوئس اخبار کے مطابق کراگوز اور اس کے خاندان نے اس وقت سیاسی پناہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا جب گذشتہ ماہ ترک حکومت نے وطن انھیں واپس بلایا تھا۔

سوئس حکومت کے مطابق ترکی میں بغاوت کی کوشش کے بعد سے 408 ترک شہریوں نے سیاسی پناہ طلب کی ہے جن میں چند سفارتی پاسپورٹ کے حامل افراد بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس سے زیادہ معلومات نہیں فراہم کرسکتے۔

گذشتہ ماہ جرمنی کا کہنا تھا کہ ناکام بغاوت کے بعد اسے سفارتی پاسپورٹ کے حامل 136 افراد کی جانب سے پناہ کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ خیال رہے کہ قونصلر اور سفارتخانے کے اہلکاروں کے خاندان کے پاس بھی سفارتی پاسپورٹ ہوتا ہے۔ نیٹو میں تعینات متعدد ترک افسروں کی جانب سے حالیہ مہینوں میں پناہ طلب کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ترک صدر رجب طیب اردوغان نے جرمنی کے کئی شہروں میں اپنے حامی ترک شہریوں کی ریلیوں کو روکے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے نازی دور کے اقدام سے تشبیہ دی تھی۔

جمعرات کو اس کے ردعمل میں جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے جرمن ارکان پارلیمان کو بتایا کہ ایسے بیانات قابل افسوس ہیں اور انھیں روکنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'نازیوں کے ساتھ موازنہ کرنے سے صرف تکلیف میں اضافہ ہوگا۔'

یہ ریلیاں ترکی میں آئندہ ماہ آئینی تبدیلیوں کے لیے ہونے والے ریفرینڈم کے تناظر میں منعقد کی جانی تھیں اور ان کا مقصد جرمنی میں مقیم 30 لاکھ ترک باشندوں کو ووٹ دینے پر آمادہ کرنا تھا۔