آسٹریلیا میں زنانہ ٹریفک سگنلز

آسٹریلیا میں خواتین کی ہیئت والے ٹریفک سگنلز کی رونمائی کے بعد سے صنفی برابری کی مہم شروع ہو گئی ہے۔

میلبورن میں تجرباتی بنیادوں پر شروع کیے جانے والے اس پروگرام کے پیچھے کام کرنے والے والے گروپ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ’غیر ارادی تعصب میں کمی‘ لانا ہے۔

لیکن مرکزی شہر میں ان دس سگنلز پر مختلف قسم کا ردعمل سامنے آرہا ہے، اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ غیر ضروری ہیں۔

منتظمین کو امید ہے کہ شہر میں پیدل سڑک کراس کرنے والوں کے لیے مختص راستوں پر خواتین اور مردوں کی برابر تصاویر دکھائی جائیں گی۔

ان سگنلز پر کام کرنے والے گروپ کمیٹی فار میلبورن کی چیف ایگزیکٹیو مارٹین لیٹز کا کہنا ہے کہ ’غیر ارادی تعصب سوچ کو مضبوط کرتا ہے اور روز مرہ کے فیصلوں اور رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ سگنلز ان مسائل کی جانب مثبت اور عملی انداز میں ہماری توجہ دلائیں گے۔‘

مقامی حکام کی جانب سے حمایت حاصل کرنے والے اس پروگرام کو 12 ماہ کے لیے تجرباتی بنیادوں پر شروع کیا گیا ہے لیکن تمام لوگ اس تبدیلی کا خیر مقدم نہیں کر رہے ہیں۔

میلبورن کے لارڈ میئر رابرٹ ڈوئل نے ہیرلڈ سن کو بتایا کہ ’میں صنفی برابری کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہوں، لیکن کیا واقعی؟‘

’بدقسمتی سے، میرے خیال میں اس قسم کے اقدامات صرف مذاق کی وجہ بنتے ہیں۔‘

دوسری جانب اس تجرباتی پروگرام پر سوشل میڈیا پر بھی لوگ تنقید کر رہے ہیں۔

وکٹوریا میں خواتین کے لیے کام کرنے والی وزیر فیونا رچرڈسن نے کہا ہے کہ ’بہت سے چھوٹے لیکن علامتی طور پر اہم طریقے ہیں کہ خواتین کو عوامی مقامات سے نکال دیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ خواتین کو عوامی مقامات میں شامل کرنے کے لیے زبردست طریقہ ہے۔‘

ان تجرباتی سگنلز کو منگل کے روز خواتین کے عالمی دن سے قبل نصب کیا گیا تھا۔