آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عراقی افواج کی دولت اسلامیہ کے گڑھ کی طرف پیش قدمی
دولت اسلامیہ کے خلاف پرسرپیکار عراقی افواج موصل شہر کے اہم پل پر قبضہ کرنے کے بعد مغربی موصل میں داخل ہو گئی ہیں جو عراق میں دولت اسلامیہ کا آخری مضبوط گڑھ ہے۔
عراقی افواج نے گزشتہ روز دریائے دجلہ کے الحریہ پل پر قبضہ کر لیا تھا جو دولت اسلامیہ کے زیر کنٹرول مغربی موصل کو چھڑانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
الحریہ پل شہر کو ملانے کا اہم ذریعہ ہے۔ عراقی افواج نے گذشتہ ہفتے بھی ایک اہم پل پر قبضہ کر لیا تھا۔
عراق افواج نے چند روز پہلے خراب موسم کی وجہ سے اپنا آپریشن دو روز کے لیے معطل کر دیا تھا جسے اب دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ موصل عراق میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا آخری مضبوط گڑھ ہے۔
عراق کی افواج نے گذشتہ ماہ شدید لڑائی کے بعد موصل کے مشرقی حصے کو دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عراق کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ تنگ گلیوں کی وجہ سے موصل کے مشرقی حصے کی نسبت مغربی حصے کو دولتِ اسلامیہ سے چھڑوانا ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دریائے دجلہ کے پار موصل کے مغربی حصے کے تمام پل تباہ ہو چکے ہیں۔
اتوار کے عراق کے ایک سینیئر کمانڈر نے کہا تھا کہ مشرقی موصل کی طرف پیش قدمی میں حکومتی افواج کو سخت مزاحمت کا سامنا کر پڑ رہا ہے۔
مغربی موصل میں شہر کا پرانا حصہ بھی شامل ہیں اور مسجد النوری بھی اس علاقے میں واقعے ہے جہاں سے شدت پسند تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے جولائی 2014 میں ’اسلامی خلافت‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
مہاجرین کی عالمی تنظیم کے مطابق موصل کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانے کی لڑائی شروع ہونے کے بعد 45 ہزار افراد لڑائی سے بچنے کے لیے شہر چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔