جنگ زدہ حلب میں فٹبال لوٹ آئی

اس سنیچر کو ایک مقامی فٹبال میچ شائقین کے لیے خاص معنی رکھتا تھا۔ گذشتہ پانچ سالوں میں جنگ زدہ شامی شہر حلب میں یہ پہلا فٹبال میچ تھا۔

مقامی ٹیم الاتحاد نے حریف شہر حوریہ کی ٹیم کو 2-1 سے شکست دیۓ

2011 میں حکومتی فوجوں اور باغی جنگجوؤں کے درمیان بٹ جانے کے بعد سے حلب میں پیشہ وارانہ قٹبال ختم ہوگئی تھی۔

تاہم گذشتہ ماہ حکومتی فوجوں نے شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

میچ جس گراؤنڈ میں کھیلا گیا وہاں موسمِ سرما کے اثرات اور عدم دیکھ بھال گھاس پر واضح نظر آ رہے تھے جس کا رنگ بھورا تھا۔ سٹیڈیم پر بطی نصف دہائی کی جنگ کے نشانات واضح تھے۔ مگر ماحول وہی تھا جو دنیا میں کسی بھی جگہ مقامی فٹبال میچ میں ہوتا ہے۔

شہر کے لوگوں کے منقسم ہونے کے شواہد صرف ایک بینر کی شکل میں دیکھے گئے جس پر صدر بشا الاسد کی تصویر تھی یا پھر گراؤنڈ کے باہر کھڑے پولیس والوں کی شکل میں۔

مگر شائقین پرجوش رہے اور نعرے بازی ہوتی رہی، ڈھول بجتا رہا اور جھنڈے لہرہاتے رہے۔

میچ میں شریک کھلاڑی عمر حمیدی نے میچ سے پہلے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ حلب میں گراؤنڈ میں واپس آنے سے میں کیسا محسوس کر رہا ہوں۔ میرا دل تیزی سے دھرک رہا ہے۔‘