ال سلواڈور: 24 گھنٹوں میں قتل کا کوئی واقعہ نہیں ہوا

،تصویر کا ذریعہReuters
لاطینی امریکی ملک ال سلواڈور میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں قتل کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے، یہ ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ ملک میں جرائم پیشہ گروپوں کے درمیان گينگ وار کے سبب قتل اور غارت گری ایک عام بات ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ال سلواڈور میں قتل کی اموات کی شرح پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
اس برس کے اعداد و شمار کے مطابق ال سلواڈور میں اب تک یومیہ قتل کے 10 واقعات پیش آتے رہے ہیں لیکن بدھ ایک ایسا دن تھا جب غیر متوقع طور پر قتل کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔
تشدد کے اس طرح کی بیشتر واردات جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے انجام دی جاتی ہیں، جنھیں مقامی سطح پر ماراس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس طرح کے کئی جرائم پیشہ گروہ لاطینی امریکہ کے مرکزی علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔
پولیس نے تشدد میں کمی کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی ہے لیکن حکام نے گینگ کے دو گروہوں کے درمیان متنازع جنگ بندی بحال کروانے کی بھی تردید کی ہے۔
یہ جرائم پیشہ گروپ 80 کے عشرے میں ابتدائی طور پر لاس انجلس میں سلواڈور کے پناہ گزينوں کے بچوں نے بنائے تھے جنھوں نے ملک میں جاری خانہ جنگی سے بچنے کے لیے وہاں پناہ لے رکھی تھی۔
لیکن جب سنہ 1992 میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا اور ان میں سے بہت سے اپنے گھر واپس آئے تو ایل اے کے گینگ کلچر کو بھی اپنے ساتھ لے کر آئے۔
ماراس یا پنڈلاز نامی یہ جرائم پیشہ گروہ منشیات کی سمگلنگ، ڈکیتی اور بھتہ خوری جیسے جرائم میں ملوث رہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسے مافیہ سرغناؤں میں سب سے اہم مارا سلواتروکا یعنی ایم ایس 13 اور مارا 18 یعنی اٹھارہویں گلی کا گینگ ہے۔







