آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹرمپ میمو: ایم آئی 6 کا سابق افسر روپوش
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کا وہ سابق افسر جس نے ایک دستاویز تیار کی تھی کہ روس کے پاس امریکی نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے قابل اعتراض مواد موجود ہے روپوش ہوگیا ہے۔
کرسٹوفر سٹیل لندن میں ایک انٹیلی جنس فرم کے مالک ہیں جو رواں ہفتے گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
ان دستاویزات میں غیرمصدقہ طور پر دعویٰ کیا گیا ہے روسی سکیورٹی اہلکاروں کے پاس ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں قابل اعتراض مواد موجود ہے۔
نومنتخب امریکی صدر کی جانب سے ان دعوؤں کو ’جھوٹی خبریں‘ قرار دیا گیا ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی دستاویزات میں کرسٹوفر سٹیل کا نام لیا گیا ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی نجی زندگی اور ان کی انتخابی مہم میں روسی تعلق کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
بی بی سی نیوز کے نامہ نگار پال ووڈ کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم ہوا ہے کہ کرسٹوفر سٹیل منگل یا بدھ کو اپنا نام عوامی سطح پر سامنے آنے سے پہلے اپنے گھر سے نکلے تھے اور اب وہ روپوش ہیں۔
نامہ نگار کا کہنا تھا کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ کرسٹوفر سٹیل نے اپنے ہمسائے کو ان کی بلیوں کی دیکھ بھال کرنے کا بھی کہا تھا۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انھیں گذشتہ سال اکتوبر میں بتایا گیا تھا کہ کرسٹوفر سٹیل کی ’زندگی کو خطرہ‘ ہے اور انھیں ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے دستاویزات دکھائی گئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس اہلکاروں نے انھیں بتایا ہے کہ کرسٹوفر سٹیل کو 'بہت زیادہ قابل' سمجھا جاتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دستاویزات میں یہ بنیادی الزام عائد کیا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ’بلیک میلنگ کا نشانہ بن سکتے ہیں۔‘
بی بی سی نے کرسٹوفر سٹیل سے ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بات کرنے کے لیے رابطے کی کوشش کی تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔