آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جرمنی آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی
جرمنی کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ 2016 میں جرمنی میں آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں 2015 کے مقابلے میں چھ لاکھ کی کمی ہوئی ہے۔
گذشتہ سال جرمنی پہچنے والے تارکین وطن کی تعداد 2,80,000 تھی جبکہ سنہ 2015 میں آنے والوں سے چھ لاکھ سے کم ہے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ بلقان روٹ کی بندش اور ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہے۔
واضح رہے کہ 8,90,000 تارکینِ وطن کی ریکارڈ تعداد نے یونان اور بلقان کی ریاستوں سے جرمنی کا سفر کیا تھا۔
یہ تارکینِ وطن جرمنی چانسلر انگیلا میرکل کی جانب سے عارضی سیاہ پناہ کی پالیسی کھولنے کے حکم جاری کرنے کے بعد وہاں پہنچے تھے۔
انگیلا میرکل کی تارکینِ وطن پالیسی پر تنقید کی گئی تھی اور گذشتہ سال ہونے والے وفاقی انتخابات سے پہلےتارکینِ وطن کا موضوع ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جرمنی کے ووٹروں نے انگیلا میرکل کی جماعت سی ڈی یو کو علاقائی انتحابات میں ووٹ نہیں دیا تھا جس کے بعد انھوں نے تسلیم کیا تھا کہ تارکینِ وطن کا مسئلہ بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا تھا۔
جرمنی کے وزیرِ داخلہ تھامس ڈی میزیئر کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور یورپی یونین کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے فائدہ ہو رہا ہے اور ہم پناہ گزینوں کے معاملے کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
جرمن وزیرِ داخلہ تارکینِ وطن کے حوالے سے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے معاہدے کا حوالہ دے رہے تھے۔
تھامس ڈی میزیئر نے کہا کہ سنہ 2016 میں 2,70,000 خواہشمند افراد نے درخواستیں دیں جب کہ سنہ 2015 میں یہ تعداد 7,45, 545 رہی۔
سنہ 2015 برس جرمنی میں مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور افریقہ سے 10 لاکھ سے زائد تارکین وطن داخل ہوئے تھے۔
جرمن حکومت نے البانیہ سے آنے والے تارکینِ وطن کی پناہ کی درخواستوں کو 'محفوظ ملک' قرار دے کر مسترد کر دیا تھا اور وہ افغان باشندوں کو بھی ڈی پورٹ کر رہی ہے۔
حکومت نے گذشتہ برس کہا تھا کہ جرمنی سے واپس آنے والے زیادہ تر تارکینِ وطن عراق اور افغانستان واپس جا رہے ہیں۔