امریکی انتخاب: ’مبینہ ہیکنگ میں ملوث روسی ایجنٹس کی شناخت کر لی گئی‘

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images/AP

،تصویر کا کیپشننومنتخب صدر ٹرمپ نے انٹیلی جنس اداروں کی تحقیقات پر سوال اٹھائے ہیں

اطلاعات کے مطابق امریکہ میں گذشتہ سال نومبر میں صدارتی انتخاب سے قبل مبینہ ہیکنگ میں ملوث روسی ایجنٹس کی شناخت کر لی گئی ہے۔

امریکی حکام نے ان ایجنٹس کے نام ظاہر نہیں کیے گئے اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ڈیموکریٹس کی ای میل سے ڈیٹا چرا کر وکی لیکس کو منتقل کیا تھا تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ووٹنگ اثرانداز ہوسکے۔

تاہم روس اس میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے اور وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کا کہنا ہے کہ اسے معلومات ماسکو سے نہیں ملی تھیں۔

نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان دعوؤں پر شکوک و شبہات ہیں اور انٹیلی جنس حکام اس حوالے سے انھیں تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

اس سے امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ نو منتخب صدر کے لیے انٹیلی جنس ایجنسیوں پر یقین نہ کرنا 'سراسر بیوقوفی' ہے۔

اسی دوران نومنتخب صدر ٹرمپ نے انٹیلی جنس اداروں کی تحقیقات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے کمپیوٹروں کا معائنہ کرنے کی درخواست کا فیصلہ کیوں نہیں کیا۔

پوتن

،تصویر کا ذریعہEPA/AP

،تصویر کا کیپشنروسی مداخلت کی رپورٹ کو آئندہ ہفتے جاری کیا جائے گا

ہیکنگ کے الزامات کیا ہے؟

امریکی میڈیا کے رپورٹس کے مطابق جو بائیڈن نے کہا کہ انھوں نے امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ پڑھی ہے جس میں روسی مداخلت کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سی این این، واشنگٹن پوسٹ اور این بی ای نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ خفیہ اداروں نے امریکی انتخاب کے بعد روس کے سینئیر سرکاری اہلکاروں کی گفتگو انٹرسیپٹ کی تھی جس سے ڈونلڈ ٹرمپ کی ہلیری کے خلاف کامیابی کے جشن کی نشاندہی ہوتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈیموکریٹک ای میل چرا کر وکی لیکس کو منتقل کرنے والوں کی بھی شناخت کر لی گئی ہے تاہم اس حوالے سے مزید معلومات مہیا نہیں کی گئی۔

این بی ای نیوز کا کہنا ہے کہ مبینہ روسی ہیکنگ کا نشانہ صرف ڈیموکریٹس ہی نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس، جوائینٹ چیفس، محکمہ خارجہ اور امریکی کارپوریشنز تھی۔

اس رپورٹ کو آئندہ ہفتے عوام کے لیے جاری کیا جائے گا۔

جو بائیڈن

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن'روس نے باضابطہ پالیسی کے طور پر امریکی انتخابی عمل کو متاثر کرنے اور اسے بدنام کرنے کی کوششیں کی'

امریکی سیاستدان کیا کہتے ہیں؟

پی ایس بی نیٹ ورک کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران جو بائڈن نے کہا: 'روس نے باضابطہ پالیسی کے طور پر امریکی انتخابی عمل کو متاثر کرنے اور اسے بدنام کرنے کی کوششیں کی۔'

انھوں نے کہا کہ ہیکنگ ہلیری کلنٹن کو کمزور کرنے کے لیے روس کی جانب سے ہونے والی ایک مستقل مہم کا حصہ تھی اور جس سطح پر سمجھا گیا، اس سے کہیں بڑے پیمانے پر ہیکنگ کی گئی۔

جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ہیکنگ کے حوالے سے انٹیلی جنس کو نظرانداز کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

جمعرات کو نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر جینرل جیمز کلیپر نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا تھا کہ روسی صدر ولادی میر پوتن نے ہیکنگ کا حکم دیا تھا اور ان کے مقاصد کے بارے میں اگلے ہفتے بتایا جائے گا۔

ایک ہفتہ قبل صدر براک اوباما نے ان 35 روسی شہریوں کو امریکہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا جن پر شک ہے کہ وہ امریکہ میں روس کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو باضابطہ طور پر امریکی صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔

ٹرمپ کا مؤقف کیا ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ بارہا مرتبہ ہیکنگ میں روسی مداخلت کے الزامات مسترد کرچکے ہیں۔

بدھ کو ان کا ایک بار پھر کہنا تھا کہ کوئی '14 سالہ' نوجوان ممکنہ طور پر اس کا ذمہ دار ہوسکتا ہے۔

جمعرات کو ان کا کہنا تھا کہ وہ انٹیلی جنس اداروں کے 'بہت بڑے مداح' تھے تاہم بعد میں انھوں نے ہیکنگ کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے ردعمل پر سوالات اٹھائے تھے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ پر لکھا تھا کہ 'وہ ہیکنگ کے بارے میں کیسے اور کیوں اتنے یقین سے کہہ رہے جب انھوں نے اپنے کمپیوٹر سرورز کے معائنے کے لیے کبھی درخواست ہی نہیں کی؟ یہ کیا ہو رہا ہے؟'

گذشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہا تھا کہ وہ منگل یا بدھ کو ہیکنگ کے بارے میں معلومات پیش کریں گے لیکن ان کی جانب سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو باضابطہ طور پر امریکی صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔