سعودی عرب میں احتجاج کرنے والے غیر ملکی مزدوروں کو قید و کوڑوں کی سزا

سعودی عرب میں کئی درجن ایسے غیر ملکی ورکرز کو قید اور کوڑوں کی سزا سنائی گئی ہے جنھوں نےگذشتہ برس تعمیراتی کمپنی'بن لادن گروپ' اور ’سعودی اوگر‘ کی جانب سے اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج کیا تھا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مکہ کی ایک عدالت نے 49 ایسے مزدورں کو قید اور کوڑوں کی سزا سنائی ہے جنھوں نےچند ماہ پہلے تنخواہ نہ ملنے پر احتجاج کیا تھا۔

تنخواہ کی عدم ادائیگی پر احتجاج کرنے کی پاداش میں سزا پانے والے ورکرز کی قومیت کو مخفی رکھا گیا ہے۔

سعودی عرب کے الوطن اخبار نےاپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کچھ احتجاجی مزدوروں کو چار ماہ قید اور 300 کوڑوں کی سنائی گئی ہے جبکہ کچھ کو بدامنی کو ہوا کے دینے کے الزام میں ڈیڑہ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

'بن لادن گروپ نے' جو سعودی عرب کی ایک بڑی تعمیراتی کمپنی ہے، سعودی حکومت کی جانب سے تیل کی کم قیمتوں اور ترقیاتی اخراجات میں کمی کے بعد اپنے 70 ہزار ملازمین کو ملازمت سے نکال دیا تھا۔

عرب نیوز کے مطابق تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کرنے والے ورکرز نے مکہ میں بن لادن گروپ کی کئی بسوں کو نذر آ تش کر دیا تھا۔

القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کے والد نے 80 برس پہلے 'بن لادن گروپ' نامی تعمیراتی کمپنی قائم کی تھی۔ کمپنی کو سعودی عرب میں بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے ملتے رہے ہیں۔

لبنان کے وزیر اعظم سعد ہریری کی کمپنی 'سعودی اوگر' کے ہزاروں ملازمین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا اور ملازمین کو کئی کئی ماہ تنخواہیں نہیں دی گئی تھیں۔

اوگر کمپنی کے ایک ورکر نے دسمبر میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ اسے اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ ادا کر دیا گیا ہے لیکن ابھی بھی پانچ ماہ کی تنخواہ واجب الادا ہے۔