بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے تاجکستان کا روگن ڈیم

تاجکستان نے ممکنہ طور پر دنیا کے بلند ترین ڈیم کی تعمیر کا کام شروع کر دیا ہے۔ بی بی سی کے سہراب ضیا نے بتایا کہ یہ ڈیم 1100 فٹ بلند ہو گا۔
وسط ایشیا کے غریب ترین ملک تاجکستان کو کئی سالوں سے بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔
روگن ڈیم کی تعمیر بجلی کی قلت کے خاتمے کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس ڈیم سے اتنی بجلی بن سکے گی کہ ملکی طلب پوری ہونے کے ساتھ ساتھ افغانستان اور پاکستان کو بجلی بیچی جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہEmpics
روگن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں دریائے وخش کا پانی جمع کیا جا ئے گا اور اس کے بہاؤ کو قابو کرنا انجینیئرز کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
اس ڈیم کی افتتاحی تقریب میں مہمانوں نے امن کا پیغام دیتے ہوئے کبوتر چھوڑے۔ تاجکستان کے ڈاؤن سٹریم ہمسائے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEmpics
ازبکستان اور قزاقستان کو خدشہ ہے کہ ان کی کپاس اور گندم کے کھیتوں کو جانے والا پانی روک دیا جائے گا۔
دریائے وخش امو دریا کا اہم معاون دریا ہے۔ ورلڈ بینک نے اس پراجیکٹ کی دو سال قبل منظوری دی تھی۔
تاجکستان کے صدر بے خود ڈیم کے افتتاح کے موقعے پر بل ڈوزر چلایا اور مزدوروں کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی


،تصویر کا ذریعہEmpics
روگن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ 40 سال قبل شروع کیا گیا تھا۔ لیکن سوویت یونین کا خاتمہ، تاجکستان میں خانہ جنگی اور ڈیم کی تعمیر کے لیے سرمایہ کاری کے حصول میں مشکلات کے باعث اس ڈیم کی تعمیر میں تاخیر ہوئی۔ پچھلے سال اٹلی کی تعمیراتی کمپنی کو تین ارب 90 کروڑ ڈالر کا ٹھیکہ ملا۔

اس ڈیم میں چھ ٹربائن بجلی پیدا کریں گے۔
اس ڈیم کی تعمیر کے لیے مزدورلاکھوں ٹن مٹی اور پتھر ہٹائیں گے۔
اس ڈیم سے کچھ بجلی 2018 میں بننی شروع ہو جائے گی لیکن اس ڈیم سے بڑی تعداد میں بجلی بننے میں ساڑھے سات سال لگیں گے۔








