موصل: گندھک بخارات، امریکی فوج نے ماسک پہن لیے

امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کی جانب سے گندھک کے پلانٹ کو آگ لگائے جانے کے باعث قیارہ ایئر فیلڈ میں تعینات فوجیوں نے زہریلے بخارات سے بچاؤ کے لیے ماسک پہن لیے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ قیارہ ایئر فیلڈ موصل کے قریب ہے۔ اس سے قبل امریکی حکام نے کہا تھا کہ گندھک کے پلانٹ کو آگ لگائے جانے کے باعث سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔

تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے ماسک احتیاط برتتے ہوئے اس وقت پہنے جب ہوا کے رخ سے گندھک کے پلانٹ سے اٹھنے والا دھواں قیارہ ایئر فیلڈ کی جانب آیا۔

واضح رہے کہ قیارہ دولت اسلامیہ کے خلاف جاری عراقی فوج کے آپریشن میں اہم مرکز ہے۔

موصل کے جنوب میں واقع قصبے مشراق میں دولت اسلامیہ نے گندھک کےپلانٹ کو دو روز قبل آگ لگائی تھی۔

ہفتے کے روز ہوا کا رخ جنوب کی جانب ہو گیا اور احتیاطی طور پر امریکی فوجیوں نے ماسک پہن لیے۔

ایک عراقی کمانڈر حامد خادم نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پلانٹ سے اٹھنے والے زہریلے بخارات کے باعث دو شہری ہلاک اور متعدد کی طبیعت خراب ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ 2003 میں مشراق میں قائم گندھک کے پلانٹ میں آگ ہفتوں جاری رہی تھی جس کے باعث سلفرڈائی آکسائیڈ کے بخارات ہوا میں پھیل گئے تھے۔ ان بخارات کے باعث مقامی افراد کو سانس لینے میں مسائل ہوئے اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنا۔

ترکی

ایش کارٹر نے عراق آنے سے قبل ترکی کے حکام سے ملاقات کی جس کا مقصد ترکی کو موصل میں جاری آپریشن میں کردار دینا ہے۔ یاد رہے کہ عراق کو ترکی کے ملوث ہونے پر خدشات ہیں۔

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے ایس کارٹر سے کہا 'مجھے معلوم ہے کہ ترکی اس آپریشن میں حصہ لینا چاہتا ہے اور ہم اس کے لیے ان کے شکر گزار ہیں۔ یہ آپریشن ہم عراقی ہی کریں گے۔ اگر ہمیں ضرورت پڑی تو ہم ترکی یا دیگر علاقائی ممالک سے مدد مانگ لیں گے۔'

یاد رہے کہ ترکی اور عراق کے درمیان اختلافات اس وقت بڑھے جب سینکڑوں ترک فوجیوں نے گذشتہ سال شمالی عراق میں سنی جنگجوؤں کو تربیت دینی شروع کی۔

سنی ترک موصل کی آزادی سے خوفزدہ ہیں کیونکہ اس آپریشن میں شیعہ مسلمان اور کرد شامل ہیں۔اس سے قبل امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف موصل میں جاری آپریشن کا جائزہ لینے کے لیے غیر اعلانیہ دورے پر عراق پہنچے۔

موصل کی جنگ

عراقی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ عراقی فوج موصل سے 32 کلومیٹر دور قراقوش قصبے میں داخل ہو گئی ہے۔

جنگ سے قبل عراق کا سب سے بڑا عیسائی قصبہ قراقوش کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہاں سے لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں اور دولت اسلامیہ نے اس قصبے سے موصل میں داخل ہونے والے راستوں پر بارودی مواد بچھایا ہوا ہے۔

دولت اسلامیہ کے جنگجو خود کش بمباروں سے سرکاری فوج پر حملے کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کی جانب سے موصل سے 170 کلومیٹر کے فاصلے پر کرکوک پر حملہ ختم ہو گیا ہے۔ اس حملے میں کم از کم 35 افراد ہلک ہوئے تھے۔

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر کا یہ عراق کا تیسرا دورہ ہے۔ وہ اس دورے میں عراقی رہنماؤں اور فوجی کمانڈروں سے ملاقات کریں گے۔

واضح رہے کہ عراق میں چار ہزار آٹھ سو امریکی فوجی موجود ہیں اور کم از کم ایک سو امریکی سپیشل آپریشنز اہلکار عراق فوج کے ساتھ کارروائیاں کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ منگل کو اعلان کیا گیا تھا کہ قراقوش پر عراقی فوج نے قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد عیسائیوں میں خوشی لہر کی دوڑ گئی۔ تاہم یہ اعلان غلط ثابت ہوا اور دولت اسلامیہ کے نشانہ بازوں نے عراقی فوج کی پیش قدمی میں رکاوٹیں ڈالیں۔