آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی صدارتی انتخابات پر روسی ہیکرز کے سائے
امریکہ میں صدارتی امیدواروں ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن کے مابین اتوار کی شب ہونے والے دوسرے مباحثے کے دوران اس بات پر گرما گرم بحث ہوئی کہ روسی ریاست سے وابستہ ہیکرز امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس سے دو دن قبل امریکہ کی نیشنل انٹلی جنس کے ڈائریکٹر نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس کے اعلیٰ عہدہ دار اس میں ملوث ہیں۔
اس کہانی کا آغاز رواں برس مئی میں اس وقت ہوا جب ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی (ڈی این سی) کو اپنے کمپیوٹرز کے پرسرار رویے پر شک ہوا اور انھوں نے ان کا جائزہ لینے کے لیے ایک سکیورٹی کمپنی سے رابطہ کیا۔
جائزے سے معلوم ہوا کہ ہیکروں کے دو گروہوں نے کمپیوٹروں کو ہیک کر رکھا ہے۔ ایک گروہ نے حال ہی میں سسٹم کو ہیک کیا تھا جبکہ کچھ ہیکرز ایک سال سے اس سسٹم کو ہیک کیے ہوئے تھے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کراؤڈ سٹرائیک نامی اس سکیورٹی کمپنی کے چیف سکیورٹی افسر شان ہنری کے کہنا تھا کہ ’ ہمیں معلوم ہوا کہ سسٹم میں کوئی مخالف دراندزی کر رہا ہے اور پیغامات اور امیدواروں کے بارے میں موجود معلومات کو دیکھ رہا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس مخصوص واقعے کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ اس میں روس کی حکومت ملوث تھی، وہ امریکی صدارتی امیدواروں کے بارے میں انٹیلی جنس اکھٹی کر رہے تھے۔‘
روس کی جانب سے اس طرح کے بڑھتے ہوئے رجحان پر مغربی ممالک کے پہلے ہی تحفظات ہیں۔
برطانیہ کے مواصلات سے متعلق انٹیلی جنس ادارے جی سی ایچ کیو کے سابق سربراہ سر ڈیوڈ اومنڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ ہم اس طرح کے حربوں کا جارحانہ اور کھلے عام استعمال دیکھ رہے ہیں، معلومات کو ہتھیار کے طور پر اور اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کی نیشنل انٹلی جنس کے ڈائریکٹر نے اس حوالے سے کھلے عام بات کی ہے۔
جمعے کی جاری کیے گئے ایک بیان میں ان کیا کہنا تھا کہ ’ روس کی جانب سے اس طرح کی حرکت کوئی نئی بات نہیں ہے، عوامی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے روس یورپ اور ایشیا میں بھی ایسا کر چکا ہے۔
’اس معاملے کی حساس نوعیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ یقیناً اعلیٰ روسی حکام نے اس کی اجازت دی ہوگی۔‘
دوسری جانب روس نے ان الزامات کو ’احمقانہ‘ قرار دیا ہے۔
اس بارے میں ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ جب اس طرح کی معلومات منظر عام پر لائی جاتی ہیں تو اصل معلومات کے ساتھ اپنے مخالفین کو نقصان پہنچانے کے لیے بے بنیاد معلومات بھی شائع کر دی جاتی ہیں۔
امریکی انٹیلیجنس کے بقول اگرچہ ہیکرز روسی سرور استعمال کرتے رہے ہیں لیکن ان کے پاس ایسے ٹھوس شواہد نہیں ہیں جن سے روس کی حکومت کا ملوث ہونا ثابت ہو سکے۔
خیال رہے کہ سرد جنگ کے دوران بھی روس معلومات کے ذریعے اپنے مخالفین پر اثر انداز ہونے کا طریقہ استعمال کرتا رہا ہے۔
کراؤڈ سٹرائیک سکیورٹی کمپنی کے چیف سکیورٹی افسر شان ہنری کے بقول اس حوالے سے ممالک کو سنجیدہ مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر ہم اس طرح جنگ میں آنے والے دنوں میں اضافہ دیکھیں گے اور ایسا کسی کے بھی حق میں نہیں ہوگا۔