انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کی سرحد پر ’ڈاکوؤں کا چھوٹا سا ملک‘

ڈیبٹ ایبل لینڈز کا قدرتی ماحول آج بھی اسی طرح جنگلی ہے جس طرح بارڈر ریورز کے دور میں تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈیبٹ ایبل لینڈز کا قدرتی ماحول آج بھی اسی طرح جنگلی ہے جس طرح بارڈر ریورز کے دور میں تھا
    • مصنف, کرسٹن ہینٹن
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول

دنیا میں کہیں بھی سردیوں کی دھوپ سکاٹ لینڈ کے مغربی ساحل جیسی نہیں ہے۔ جب میں دریائے اسک کے اس پار دیکھتی ہوں تو ہلکے پیلے رنگ کی سورج کی شعائیں دریا کے پانیوں کی لہروں سے منعکس ہو کر ایک شیشے کے فیتے کا منظر پیش کرتی ہیں۔

اس کے اردگرد کھیت سلووے فرتھ کی جانب جاتے ہیں۔ ایک طرف سے پہاڑوں سے گھری ہوئی ساحل سمندر کی نچلی سطح آئرش سمندر تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں سکاٹ لینڈ کے ڈمفرائی اور انگلینڈ کے گیلووے میں ایک قدرتی دیوار بن جاتی ہے۔

میں تیز ہوا کے سامنے ڈٹ کر انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے بارڈر کے جنوب مغربی کنارے کا معائنہ کر رہی تھی۔ قدرت کے نظاروں کا لطف لیتے ہوئے آپ کو یقین نہیں آتا کہ بظاہر پرامن دیہی علاقہ ایک وقت میں لاقانونیت کا مرکز اور خونی علاقہ تصور کیا جاتا تھا جسے ’ڈیبیٹ ایبل لینڈز‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

تین سو برس تک لاقانونیت کا یہ مرکز آج ایک پرسکون دیہی علاقہ ہے جہاں قدرے سخت جان جانوروں کی افزائش کی جاتی ہے اور یہاں کے قصبوں اور دیہاتوں میں ہم آہنگی جھلکتی ہے۔ برطانیہ کے اس علاقے میں آپ کو ان لوگوں کی کہانیاں ملتی ہیں جو ڈیبیٹ ایبل لینڈز کو اپنا گھر سمجھتے ہیں اور یہاں کے لڑاکا خاندان بارڈر ریورز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

یہ وہ علاقہ ہے جہاں کی مقامی تاریخ، یہاں کے دریاؤں اور جنگلوں کی گھاٹیوں میں چھپی ہے جسے زیادہ بیان نہیں کیا گیا ہے۔

اور یہ کیا دلچسپ کہانی ہے۔ ڈیبیٹ ایبل لینڈز برطانیہ میں علاقے کا آخری بٹوارہ تھا۔ یہاں تیرہویں سے سولہویں صدی تک علاقے کے قبائل نے خوب لوٹ مار کی اور بے بہا خون بہا۔

یہ بھی پڑھیے

ڈیبیٹ ایبل لینڈز میں انتشار اور لاقانونیت کا عروج تھا۔ باوجود اس کے کہ یہ علاقہ آزاد اور مختار نہیں تھا لیکن اتنا خطرناک تھا کہ نہ تو انگلینڈ اور نہ ہی سکاٹ لینڈ نے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔

ڈیبیٹ ایبل لینڈز کی تاریخ برطانیہ اور سکاٹ لینڈ کی حکومت کی جانب سولہویں صدی کے وسط میں جاری ہونے والے پارلیمانی فرمان میں سمو دی گئی ہے۔ اس پارلیمانی فرمان کی رو سے: 'انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے لوگ کسی کو لوٹنے، جلانے، قتل کرنے، تباہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور کسی ایسے شخص کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی۔'

تین سو سال تک ڈیبیٹ ایبل لینڈز ایک انتہائی خطرناک اور نو گو ایریا تصور ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہKirsten Henton

،تصویر کا کیپشنتین سو سال تک ڈیبیٹ ایبل لینڈز ایک انتہائی خطرناک اور نو گو ایریا تصور ہوتا ہے

اس پارلیمانی فرمان کو قانون کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس پارلیمانی فرمان کی وجہ ذمہ داری سے بچنے کی کوشش تھی کیونکہ کوئی فریق اس علاقے کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہ تھا۔ جب سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ دونوں کا اس پر اتفاق نہ ہو سکا کہ یہ کس کا علاقہ ہے تو اس علاقے کو بانٹ لیا گیا۔

نیشنل میوزیم سکاٹ لینڈ کی پرنسپل کیوریٹر ڈاکٹر اینا گراؤنڈ واٹر نے مجھے بتایا کہ یہ علاقہ اپنے خدو خال کی وجہ سے کسی کے کام کا نہیں تھا۔ نہ تو یہاں قیمتی زمین تھی جہاں فصلیں اگتیں۔ لہذا کوئی بھی اس کو کنٹرول کرنے کے لیے لڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

یہ ایک چھوٹا سا علاقہ بھی تھا، جس نے مجھے اس وقت متاثر کیا جب میں نے سکاٹش شہر گریٹنا کے شہر میں واقع ایک کچن میں گرما گرم چائے کے انتظار میں نقشے کا جائزہ لیا۔

یہ علاقہ صرف آٹھ میل چوڑا اور پہاڑی چوٹی سے نیچے ساحل تک صرف تیرہ میل لمبا ہے۔ اے سیون روڈ جو ایڈنبرا اور کارلائل کو ملاتی ہے، وہ اس علاقے سے گزرتی ہےجو ایک وقت ڈیبیٹ ایبل لینڈز کہلاتا تھا۔

گریٹنا اور اس کے گرین کو گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والوں کی جنت کہا جاتا ہےلیکن اس کی شہرت اس کے علاوہ بھی ہے۔ پہلی عالمی جنگ میں وہاں صنعتی سطح پر اسلحہ اور بارود کی تیاری ہوتی تھی جس کی وجہ سے وہاں کی ساری آبادی میں تبدیلی آئی۔

یہاں کی تعمیرات بیسویں صدی کے اوئل کی عکاسی کرتی ہیں۔ میں جس کیفے میں بیٹھی چائے پی رہی تھی وہ بھی اسی فن تعمیر کا مظہر ہے۔

انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ میں 1237 میں ٹریٹی آف یارک کے تحت پہلی بار سرحدوں کا تعین ہوا۔ 'دی ڈیبیٹ ایبل لینڈ: دی لاسٹ ورلڈ بیٹوین سکاٹ لینڈ اینڈ انگلینڈ' کے مصنف گراہم راب لکھتے ہیں کہ 1237 میں انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے مابین سرحدوں کے تعین کا شاید یہ یورپ میں پہلا ایسا واقعہ تھا۔

گریٹنا گرین بلیک سمتھ گھر سے بھاگ کر سکاٹ لینڈ کے قانون کے تحت شادی کرانے کے لیے مشہور تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگریٹنا گرین بلیک سمتھ گھر سے بھاگ کر سکاٹ لینڈ کے قانون کے تحت شادی کرانے کے لیے مشہور تھا

لیکن جب سرحد کے تعین کا عمل ختم ہوا تو معلوم ہوا کہ مختلف خاندانوں کی جائیدادوں کے درمیان لکیر کھینچ دی گئی جس سے لوگ سخت ناراض ہوئے اور اس ناراضی نے بغاوت کی سی شکل اختیار کر لی۔

سرحد کی لکیر کھینچے جانے کے بعد یہاں کے طاقتور خاندانوں نے انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ میں لوٹ مار کرنی شروع کر دی اور دونوں میں سے کوئی حکومت بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی وسائل خرچ کرنے پر تیار نہ تھی۔

یہ علاقہ نو گو ایریا بن گیا جہاں سرحدی ڈاکوؤں جنھیں مقامی زبانی میں ’بارڈر ریورز‘ کے طور پر جانا جاتا تھا، کی آماجگاہ بن گیا۔ ریونگ سکاٹش زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں لوٹ مار کرنا۔

بارڈر ریورز نے ایک دوسرے کے مال مویشی چوری کرنے شروع کر دیے۔ ڈاکٹر اینا گراؤنڈ واٹر کہتی ہیں کہ یہ وارداتیں نہ صرف بارڈر کے پار ہوتی تھیں بلکہ سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ میں بھی ایسی وارداتیں عام تھیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے جھگڑے سے زیادہ جرائم پیشہ لوگوں کی کارروائیاں تھیں۔

بارڈر ریورز کی کارروائیاں صرف ڈیبیٹ ایبل لینڈز تک محدود نہیں تھیں۔ ان کی سب سے خونی کارروائیاں ایسے علاقوں میں تھیں جن کے بارے میں تصور کیا جاتا تھا کہ کوئی انھیں چھو بھی نہیں سکتا۔ بارڈر ریورز کی کارروائیوں کی وجہ سے ڈیبیٹ ایبل لینڈز برطانیہ کا انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ کے بعد عملاً چوتھا ملک بن گیا جہاں اس کے اپنے اصول اور ضابطے تھے اور کوئی اس علاقے میں گھس نہیں سکتا تھا۔

ڈیبیٹ ایبل لینڈ کی سرزمین بنجر اور وہاں آبادی بہت کم ہے۔ کیننبی اور لینگہوم کی آبادی ڈیبیب ایبل لینڈز کے رہائش پذیر لوگوں کی اولادیں ہیں۔ اب کیننبی اور لینگہوم ماہی گیری اور ہائیکنگ کے مرکز ہیں۔

الیگزینڈر آرمسٹرانگ المعروف لینگ سینڈی سکاٹ لینڈ کے آرمسٹرانگ قبیلے کے آخری سردار تھے جنھیں گیارہ بیٹوں کے ہمراہ پھانسی دی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہKirsten Henton

،تصویر کا کیپشنالیگزینڈر آرمسٹرانگ المعروف لینگ سینڈی سکاٹ لینڈ کے آرمسٹرانگ قبیلے کے آخری سردار تھے جنھیں گیارہ بیٹوں کے ہمراہ پھانسی دی گئی تھی

ڈیبیبٹ ایبل لینڈز کی نشانیاں اب بھی موجود ہیں جن میں 173 میل طویل ریورز سائیکل روٹ بھی ہے۔ میں نے اے سیون روڈ پر ایک چکر لگا کر رونبرن نامی گاؤں میں پہنچ گیا جہاں اب بھی پبلک گارڈن ہے جہاں لینگ سینڈی کا لکڑی کا مجسمہ لگا ہوا ہے۔

لینگ سینڈی کا قد چھ فٹ سے زیادہ جو سولویں صدی میں بہت طویل القامت تصور ہوتا تھا۔ لینگ سینڈی کا اصلی نام الیگزینڈر آرمسٹرانگ تھا اور وہ ڈیبیٹ ایبل لینڈز کے طاقتور ترین قبیلے کے آخری سردار تھے جس کی اپنے علاقے میں عزت بھی بہت تھی اور ان کا دبدبہ بھی بہت تھا۔

لینگ سینڈی نے برطانیہ کے بادشاہ کی طرف علاقے میں قانون کی عملداری کو قائم کرنے کی کوششوں کی سخت سے مخالفت کی اور انھیں 1610 میں اپنے گیارہ بیٹوں کے ہمراہ پھانسی دی گئی تھی۔ لینگ سینڈی کے علاوہ اور بہت سارے بارڈر ریورز کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا۔

آرمسٹرانگ قبیلے کا گلناکی ٹاور آج بھی محفوظ ہے۔

میں رونبرن سے چند منٹوں کی مسافت کے بعد گلناکی ٹاور کے علاقے کا دورہ کرنا چاہتا تھا۔ میں تھوڑی دیر میں گلناکی ٹاور کی سڑک پر موجود تھا جو سکاٹ لینڈ کے لولینڈ کے پیل ٹاور کا خوبصورت نمونہ ہے۔ یہ اب ڈیبیٹ ایبل لینڈز کے آرمسٹرانگ قبیلے کا میوزیم ہے۔

گلناکی ٹاور اپنے قریب واقع گاؤں ہالوز کی وجہ س ہالوز ٹاور کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

گلناکی ٹاور

،تصویر کا ذریعہKirsten Henton

،تصویر کا کیپشنگلناکی ٹاور ایک ایسی جگہ ہے جو ڈیبٹ ایبل لینڈز کی یاد تازہ کر دیتا ہے

یہ پانچ سو سالہ پرانا ٹاور دفاعی نکتہ نظر سے تیار کیا اور اس کی پتھر کی دیواروں کو توڑنا ناممکن تھا۔

ٹاور کے منتظم مارٹن نے مجھے بتایا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس میوزیم کو سارا سال عوام کے کھلا رکھا جائے۔ مارٹن نے بتایا کہ پیشگی بکنگ کے ذریعے ٹورز کی بھی اجازت ہے۔ ان ٹورز کا انتظام کرنے کا مقصد سولویں صدی کی زندگی کی عکاسی کرنا ہے۔ ان ٹورز میں سولویں صدی میں فیملی لائف کی بھی جھلک دکھائی جاتی ہے کہ وہ ادوار کتنے مشکل تھے۔

جب میں مارٹن کے ساتھ اے سیون روڈ کے قریبی علاقوں کے بارے میں بات کر رہا تھا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ یہاں سیاحوں کو علاقے کی طرف متوجہ کرنے کی خواہش پائی جاتی ہے۔ 'جب آپ بارڈرلینڈز سے کیننبی ، گلناکی ٹاور اور لیگنہوم کی طرف ڈرائیو کرتے ہیں تو ٹیکسٹائل انڈسٹری کی تاریخ آپ کے سامنے آتی ہے۔'

مارٹن کہتے ہیں کہ ان تمام چیزوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو اس علاقے میں سیر پر آنے کے لیے قائل کیا جا سکے کیونکہ یہ علاقہ بہت عرصے سے نظر انداز کیا گیا ہے۔

البتہ بارڈرریورز کے لیے علاقے کی دوری پریشانی کا سبب نہیں تھا۔ درحقیقت ڈیبٹ ایبل لینڈز سولویں صدی کے وسط تک انتہائی تنہائی میں رہا ہے۔

انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے مابین پہلی مرتبہ 1551 میں ہونے والے معاہدے کےبعد 1552 میں سکاٹ ڈائیک تعمیر ہوئی جس نے انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کی باونڈری کو ہمیشہ کے لیے متعین کر دیا۔ ساڑھے تین میل تک بنائے گئے پشتوں نے ڈیبٹ ایبل لینڈز کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ان پشتوں کے کچھ آثار اب بھی موجود ہیں۔

ٹریل

،تصویر کا ذریعہKirsten Henton

،تصویر کا کیپشنیہاں کے قصبے، گاؤں کے آس پاس کا قدرتی ماحول آج بھی اسی طرح جنگل بیابان ہے جیسے بارڈر ریورز کے زمانے میں تھا

ابتدا میں ان پشتوں کی حثیت صرف نمائشی ہی تھی اور سے بارڈ ریورز کی کارروائیوں پر کوئی اثر نہ پڑا اور چوری ڈاکے کی وارداتیں پہلے کی طرح جاری رہیں۔

جب 1603 میں انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کا الحاق ہوا تو اس وقت برطانیہ کی بادشاہت کی توجہ اس سرحد پر مرکوز ہوئی۔ اس علاقےمیں قانون کی عملداری کو یقینی بنانےکے لیے نئے نگران تعینات کیے گئے۔ علاقے کو چوروں ڈاکوؤں سے پاک کرنے کے لیے لینگ سینڈی جیسے بہت سے بارڈر ریورزکو پھانسی لگا دی گئی اور کئی کو ملک بدر کر دیا گیا ۔

جب میں اے سیون روڈ پر شمال کی طرف بڑھ رہا تھا تو میری پشت گلناکی ٹاور تھا جسے میں اپنی کار کے شیشے میں دیکھ سکتا تھا، میں سوچ رہا تھا کہ کیسے حکومتوں کے علم میں ہوتے ہوئے صدیوں تک اس چھوٹےسے علاقے میں اتنی لاقانونیت پھیلی رہی اور کئی دلچسپ کردار اور کہانیاں پروان چڑھتی رہیں۔

ڈیبٹ ایبل لینڈ میں دلچسی کی وجہ بھی نہ سمجھ آنے والے ادوار تھے۔ یہاں کے قصبے، گاؤں کے آس پاس کا قدرتی ماحول آج بھی اسی طرح جنگل بیابان ہے جیسے بارڈر ریورز کے زمانے میں تھا۔

۔