انڈیا: ریاست میزورام کے روایتی قبائلی کھانے جن کی خوشبو انڈیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کو ہے

،تصویر کا ذریعہPearly Jacob
- مصنف, پیئرلی جیکب
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
بانگیں دیتے مرغوں کی آوازیں اور آسمان پر پڑے گلابی ڈورے اس بات کا اشارہ ہیں کہ صبح جلدی اٹھنے والوں کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ اگرچہ گھڑی پر ابھی بمشکل پانچ بجے ہیں لیکن یہ صبح کافی روشن ہے۔
ٹھیک ایک گھنٹے بعد پہاڑ کی چوٹی پر واقع آئزال شہر سورج کی روشنی میں دمک رہا ہے۔ ہوا میں گرمائش بڑھتے ہی وہاں موجود بادل تیزی سے نیچے واقع ٹھنڈی وادیوں کی طرف اڑے جا رہے ہیں۔
سال کے اس دورانیے میں یہ ان پہاڑیوں پر نظر آنے والا ایک معمول کا نظارہ ہے۔
بظاہر یہ موسمیاتی تفاوت انڈیا کے اس خطے میں روزمرہ کی زندگی کا ایک جُزو ہے، اس خطے کو انڈیا کا شمال مشرقی خطہ کہا جاتا ہے۔
یہ خطہ جو ہمالیہ کے دامن میں خود مختار علاقے تبت کے بالکل جنوب سے لے کر بنگلہ دیش کے سیلابی علاقوں سے ہوتا ہوا مشرق میں میانمار تک پھیلا ہوا ہے۔
اگرچہ اس خطے میں شامل آٹھ ریاستوں کی سرحدیں اور گھڑیاں انڈیا سے ایک بندھن میں بندھی ہوئی ہیں لیکن ان کے علاوہ (ان ریاستوں اور باقی انڈیا میں) شاید ہی کوئی قدر مشترک ہو۔ اس خطے کا زمینی جغرافیہ، لوگ، ثقافت اور کھانے اس سے بالکل مختلف ہیں جو باقی رہ جانے والے انڈیا کی پہچان ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنی دیگر کئی ہمسایہ ریاستوں کی طرح ریاست میزورام بھی سنہ 1947 میں برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد انڈیا کا حصہ بنا۔
اس علاقے کی کٹھن پہاڑیوں کو وہاں آباد جنگجو قبائل کی موجودگی کی وجہ سے کبھی نہ قابو میں آنے والی پہاڑیاں سمجھا جاتا تھا۔
برطانوی فوج کے یہاں زبردستی قبضے کے بعد ویلز سے مشنری حضرات کو یہاں بھیجا گیا تاکہ وہ ان قبائل کو مسیحی مذہب کی جانب راغب کریں۔
آج میزورام کے تقریباً 90 فیصد رہائشی مسیحی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور ریاست کے دارالحکومت آئزال کی عمودی ڈھلوانوں پر کنکریٹ سے بنی ہوئی چرچ کی بلند عمارتیں نمایاں نظر آتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPearly Jacob
اگرچہ میزورام کے لوگوں نے اپنے مظاہر پرست خدا ترک کر دیے لیکن وہ اپنے روایتی قبائلی کھانوں سے جدا نہ ہو سکے۔
پودوں کی جڑوں، ٹہنیوں اور پتوں سے بنا شوربہ گوشت اور چاول اب بھی ان کے دسترخوان کا لازمی جزو ہیں: ایک ذرا دیر سے کیا جانے والا ناشتہ اور دوسرا سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے کھایا جانے والا رات کا کھانا۔
اس دور دراز علاقے میں، جو نئی دہلی سے زیادہ بینکاک کے نزدیک ہے، ’کری‘ ایک اجنبی تصور ہے اور اس کی جگہ ’بائی‘ نے لے لی ہے جو کہ ایک یخنی نما شوربے کی ڈش ہے اور میزو میں کھائی جانے والی غذا کا ایک لازمی جزو ہے۔
جس طرح اس کے مصالحوں سے بھرے متبادل کی کئی قسمیں ہیں اسی طرح ’بائی‘ کو بھی نت نئے طریقوں سے بنایا جاتا ہے۔
چین کے باشندوں کی بدولت بانس کی ٹہنی دنیا کی سب سے زیادہ کھائی جانے والی ٹہنی بن گئی ہے۔
تاہم چینیوں کے برعکس میزو کئی اور پودوں کی بھی ٹہنیاں اور نرم تنے کھاتے ہیں، جن میں کیلا، پتلا گنا، اروی اور کیلے ہی کی ایک مقامی قسم جسے ’میزو سائسو‘ کہتے ہیں۔ اسے لاطینی زبان میں ’موسا گلاؤکا‘ کہا جاتا ہے۔
پسندیدہ مقامی غذاؤں میں ’بئے بنگ‘ جیسے جنگلی پودے اور کانٹوں والی مقامی ورائٹی ’آلوکیسیا فورنیکیٹ‘ شامل ہے۔
ان کے علاوہ پیشن فروٹ، کدو، یام یا شکر قندی، پھلیاں اور سکواش یا پیٹھے کے پتوں اور تنے کو ان کے پھلوں سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPearly Jacob
کچھ پسندیدہ ڈشوں میں ’میئن بائی‘ کو شامل کیا جاتا ہے جو کہ کدو کے چھوٹے پتوں اور روزیلا پودے کے خشک پتوں کو ملا کر بنائے گئے شوربے کو کہتے ہیں۔ یا پھر بہیل بائی، جو کہ پورک کے سٹاک میں ابلی ہوئی سبز پھلیاں ہیں جسے مزید گاڑھا کرنے کے لیے اس میں چاول شامل کیے جاتے ہیں اور اس میں پورک کی چربی بھی ملائی جاتی ہے۔
عام پتے اور جڑی بوٹیاں جو بائی میں ذائقہ ڈالنے کے لیے ڈالی جاتی ہیں ان میں چنگیت بھی شامل ہے جو کہ سچوان مرچ کی ایک ورائٹی ہے اور باہخار جس کے کانٹے دار پتوں کولانترو کہا جاتا ہے۔
مقامی پودے لومبا کے پھول بھی بہت مقبول ہیں۔ اس کا موازنہ لیمن گراس سے کیا جا سکتا ہے جو کہ جنوبی ایشیائی کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اگرچہ میزو خوراک دیکھنے میں کوئی نباتاتی انڈیکس لگتی ہے لیکن کوئی بھی کھانا اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ پورک، چکن یا بیف شامل نہیں ہوتا۔ کلاسک ورائٹیوں میں سرسوں کے پتوں کے ساتھ ابلی ہوئی سموکیڈ پورک اور چاول اور چکن یا پورک کا بنا ہوا شوربہ ’ساچیئر‘ شامل ہے۔
بلڈ ساسیجز اور جڑی بوٹیوں اور جانوروں کے اعضا کو ملا کر بنی ہوئی چٹنیاں خاص مواقعوں پر بنائی جاتی ہیں۔ آلو اور بند گوبھی میں ادرک، لہسن اور ہلدی ملا کر بنائی گئی سبزیاں شاید انڈیا کے دوسرے حصوں میں بننے والی سبزیوں کے ساتھ مشابہت رکھنے والی واحد سبزیاں ہوں۔
میزو لوگ کہاں سے آئے ہیں یہ ابھی بھی ایک راز ہے لیکن خیال ہے کہ کئی صدیوں پہلے یہ جنوبی چین سے ہجرت کر کے یہاں آئے تھے اور ابھی بھی ان کی زبان، نسل اور کھانا پکانے کے طریقے مغربی میانمار کی پہاڑیوں پر رہنے والی قبائل سے ملتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPearly Jacob
ان کا خمیر شدہ سویا بین کا بڑے پیمانے پر استعمال، جسے مقامی زبان میں بیکانگ کہا جاتا ہے اور جسے شوربے میں مزے کے لیے ڈالا جاتا ہے یا اس میں مرچیں ڈال کر چاولوں کے ساتھ کھایا جاتا ہے، ان کے کوریا سے لے کر جاپان تک کے مشرقی ایشیائی ممالک سے قدیم روابط کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
78 سالہ ایئزال زکیہ ملاؤ کے مطابق جیسا کہ قدیم زمانوں میں ہوتا تھا، میزو اب بھی ترجیح دیتے ہیں کہ ان کا ’بیکانگ‘ میانمار سے درآمد کی گئی سویا بین سے پکے۔ خمیر شدہ بیکانگ بنانا ایک لمبا عمل ہے جس میں سویا بین کو ایک رات پہلے بھگویا جاتا ہے اور بھاپ دی جاتی ہے اور پھر تین دن تک اسے ایک گرم چولہے پر ’کیلیکارپا آربوریے‘ کے خشک پتوں پر رکھ دیا جاتا ہے تاکہ خمیر کا عمل بہتر ہو سکے، اس کے بعد اسے تھوڑی تھوڑی مقدار میں تازہ کیلے کے پتوں میں لپیٹ کر فروخت کیا جاتا ہے۔
زکیہ ملاؤ کہتے ہیں کہ ’میں نے بیکانگ بیچ کر اپنا گھر بنایا اور بچوں کی پرورش کی۔‘ وہ سمجھتے ہیں کہ صدیوں کے دوران میزو کی خوراک میں کوئی زیادہ فرق نہیں آیا، صرف آج کل کی میزو خوراک ان کے آباؤ اجداد کے لیے شاید کسی ضیافت سے کم نہ ہوتی۔
وہ سمجھتے ہیں کہ ایئزال میں ’کے ایف سی‘ جیسی فاسٹ فوڈ چین آنے کے باوجود میزو لوگوں کی اپنی خوراک سے محبت کی وجہ سے روایتی کھانا پیچنے والے ابھی تک کامیابی سے اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔
باہر سے آنے والے اکثر کھانے جن میں انڈین پوری سے لے کر روٹیوں یا تبت کے مومو تک کو صرف کھانوں کے وقفوں کے دوران سنیک کے طور پر ہی کھایا جاتا ہے۔
اپنی جغرافیائی دوری کی وجہ شمال مشرقی علاقوں کے کھانے اور ثقافت غیر ملکیوں کے لیے تو کیا زیادہ تر دوسرے انڈین باشندوں کے لیے بھی ایک معمہ ہیں۔
میزو فوڈ پراسیسنگ سٹارٹ اپ زوئی کی سربراہ خالزامتے کہتی ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے کھانوں کے مداحوں کو شاید اب تک غیر دریافت شدہ میزو کھانے پسند آئیں۔

،تصویر کا ذریعہPearly Jacob
وہ کہتی ہیں کہ ’اکثر انڈینز کو جنھیں مصالحے کھانے کی عادت ہوتی ہے میزو خوراک کی عادت ڈالنی پڑتی ہے لیکن ہم میں سے زیادہ تر جو بچپن سے یہ کھا رہے ہیں، یہ ایسی چیز ہے جس کے بغیر ہم نہیں رہ سکتے۔‘ خالزامتے پانچ سال تک اپنی طالبِ علمی کے زمانے میں شمالی انڈیا کے شہر چاندی گھر میں رہی ہیں جو بٹر چکن، پالک پنیر اور چھولے مصالحہ جیسی ڈشوں کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔
’اگرچہ انڈین فوڈ ذائقہ دار ہے، اس میں ہمیشہ زیادہ مصالحہ ہوتا ہے۔ مصالحے سبھی ذائقوں پر حاوی ہو جاتے ہیں اور ہم میزو انھیں زیادہ نہیں کھا سکتے۔‘
لیکن میزو افراد کی انڈین مصالحوں سے جھجھک ان کے مرچوں سے پیار پر حاوی نہیں ہوتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ مرچیں یہاں سمندر کے راستے نہیں بلکہ زمینی راستے سے مشرقی ایشیا سے متعارف کرائی گئی تھیں۔ باقی انڈیا کی بندرگاہوں پر مرچیں 16 ویں صدی میں سمندری راستوں کے ذریعے پہنچی تھیں۔ یہاں کا کوئی بھی کھانا چٹنی کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔ یہ اکثر مرچیں کوٹ کر اور ان میں مختلف جڑی بوٹیاں، ادرک اور لہسن ڈال کر بنائی جاتی ہے۔ اسے اکثر چاول کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔
حال ہی میں میزورام نے ایک مقامی مرچ کے متعلق یہ جاننے کے لیے ایک کامیاب مہم چلائی کہ وہ سب سے پہلے کہاں اُگی تھی۔ اس سے اس کی میزورام کی خوراک میں اہمیت کا پتا چلتا ہے۔
زیادہ میزو باشندوں کے دوسری ریاستوں میں تعلیم اور ملازمتوں کے لیے جانے کے ساتھ اب میزو کھانے بھی سرحدیں پار کر رہے ہیں۔
تاہم ریاست کے باہر انھیں پکانے کے لیے اجزا کی عدم دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے۔ کئی میزو ان اجزا کو لے کر جاتے ہوئے کسٹمز والوں کے ہاتھوں پکڑے گئے جنھیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ کیا ہے۔
اسی کو بنیاد بنا کر خالزامتے نے میزو سبزیوں کی مناسب طریقے سے پراسیسنگ اور پیکیجنگ کا بزنس شروع کیا۔ ان کے گاہک اکثر میزو ہی ہیں لیکن اب طلب آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔
خالزامتے نے فارمیسی میں تعلیم حاصل کی ہے اور اسی وجہ سے ان کی میزو خوراک میں شامل ہونے والے پودوں کی طبی خصوصیات میں بھی خاصی دلچسپی ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ کاہٹیبل جیسی سبزیاں، جن کی کلیاں، پھول اور جڑیں اپنی اینٹی آکسیڈنٹ اور شفا بخش خصوصیات کی وجہ سے بہت مشہور ہیں، اپنی گیسٹرونک (فنِ طباخی) اور طبی خصوصیات کی وجہ سے برآمد کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
باقی دوسرے گہرے جڑے ہوئے معاشروں کی طرح میزورام میں بھی باہر جا کر کھانا کھانے کا اتنا رواج نہیں اور یہ صرف ضرورت، جیسا کہ سفر کے دوران، کے وقت ہی کیا جاتا ہے۔
سفر کے دوران مقامی لوگ شاید سڑک کے کنارے بنے ہوئے ان بنیادی سے ریستورانوں پر دوسروں کے ساتھ مل کر کھانا کھا بھی لیں، جہاں عام روایتی کھانیں بہت ہی غیر رسمی طریقے سے چاول کی پلیٹوں کے ساتھ رکھے ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی وہاں کا ماحول اور کھانا پیش کرنے کا طریقہ روایتی میزو باشندوں کو متاثر نہیں کرتا۔
لیکن آئزال پھر بھی آہستہ آہستہ بدل رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPearly Jacob
جو ریستوران کبھی صرف میزو باشندوں کو باہر کے کھانے جیسے تبت کے مومو اور نوڈل یا جنوبی ایشیا کے دوسے پیش کرتے تھے، وہ اب اچھے ماحول میں میزو روایتی کھانے بھی پیش کر رہے ہیں۔
آئزال میں ریڈ پیپر ریستوران میں میزو کھانا بانس کی روایتی پلیٹ پر کیلے کے پتے پر رکھ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میں چاولوں کے گرد بڑے سلیقے سے خشک چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔
اس کے علاوہ سٹیو (شوربے) اور گوشت کو علیحدہ پیالوں اور پلیٹوں میں رکھا گیا ہے۔ ریستوران کو روایتی میزو گاؤں کی طرز پر بنایا گیا ہے جس میں بانس کی دیواریں ہیں اور گھانس پھونس سے بنی ہوئی چھت۔ ریستوران کے مالک زوڈنپویا کہتے ہیں کہ یہ آنے والے کو میزو کھانے اور ثقافت کا ذائقہ دیتا ہے لیکن حیرت اس بات کی ہے کہ ان کے گاہکوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میزو خاندانوں کی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’زیادہ سے زیادہ میزو خاندان چاہتے ہیں کہ وہ اپنی فیملی کو خاص مواقعوں پر باہر لے کر جائیں اور اچھے ماحول میں روایتی کھانے کھائیں۔‘ تاہم انھوں نے بتایا کہ اکثر دنوں میں ان کے ایک تہائی گاہک دوسری انڈین ریاستوں سے ہوتے ہیں۔
سنہ 1998 میں میزورام کے پہلے اور واحد ہوائی اڈے کے کھلنے کے بعد اس کا فضائی رابطہ دوسرے اہم انڈین شہروں سے آسان ہو گیا ہے۔
اس کے علاوہ میانمار کے ساتھ اس کی سرحد کھلنے کے بعد دوسرے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک سے بھی لوگ یہاں زمینی راستوں کے ذریعے آنا شروع ہو گئے ہیں جس سے سیاحت کو بہت فروغ ملا ہے۔
بہت سے نوجوان، جیسا کہ ریڈ پیپر پر کام کرنے والے، میزبانی کے سیکٹر میں باقاعدہ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ اور اب وہ دن شاید زیادہ دور نہیں جب میزو کھانوں کو وہ توجہ ملے گی جس کے وہ مستحق ہیں اور وہ ان کٹھن اور کھردری پہاڑیوں کی سرحدوں سے نکل کر میدانی علاقوں میں ان طباخی لذتوں کا حصہ بن جائیں گے جن کی وجہ سے انڈیا مشہور ہے۔











