’پاکستان کے سخی اور مخیر عوام کورونا کے خلاف متحد‘

    • مصنف, عائشہ امتیاز
    • عہدہ, صحافی

گذشتہ دو ہفتوں سے کراچی میں کریانے کی دکانوں کے باہر ایک حیرت انگیز منظر نظر آ رہا ہے۔

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اپنی ضروریات کی خریداری کے بعد جلد از جلد گھر جانے کے بعد کئی پاکستانی شہری سڑکوں اور گلیوں میں کھڑے اُن لوگوں کی مدد میں مصروف نظر آ رہے ہیں جو ضرورت مند ہیں اور ان کے پاس نہ کھانے کو کچھ ہے نہ پناہ لینے کے لیے کوئی جگہ۔

خیرات دیتے ہوئے یہ مخیر افراد صرف ایک ہی بات کہتے ہیں، 'دعا کریں کہ کورونا کی یہ وبا جلد از جلد ختم ہو۔'

دنیا بھر کے کئی ممالک کی طرح پاکستان نے بھی اس عالمی وبا سے مقابلے کے لیے سماجی دوری اور اسی نوعیت کے کئی اقدامات اٹھائے ہیں جیسے سکولوں کو بند کرنا، عوامی مقامات پر جمع ہونا اور کاروباری سرگرمیوں کو بڑی حد تک محدود کرنا۔

لیکن دوسرے ممالک کے برعکس، پاکستان میں ان اقدامات، بالخصوص اگر یہ پابندیاں طویل عرصے تک عائد رہتی ہیں، تو ان کے اثرات معاشی طور پر کہیں زیادہ نقصان دہ اور حتیٰ کہ جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں ایک خطاب میں کہا کہ انھیں خدشہ ہے کہ اگر مکمل لاک ڈاؤن کیا گیا تو کورونا سے زیادہ پاکستانی کہیں بھوک سے نہ مر جائیں۔

پاکستان میں نافذ لاک ڈاؤن نے جو کہ بتدریج سخت کیا جا رہا ہے، بڑی تعداد میں عوام کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ گھر پر رہیں اور اس کی وجہ سے وہ افراد جو دیہاڑی دار مزدور ہیں جیسے موچی یا ٹھیلے والے، ان کے لیے یہ وقت نہایت کٹھن ہے اور انھوں نے کئی دن سے کوئی کمائی نہیں کی ہے اور وہ رات میں بھوکے سو رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی کہا: 'ہمارے پاس وہ وسائل نہیں ہیں جو امریکہ یا یورپ کے پاس ہیں۔ ہمارے ملک میں شدید غربت ہے۔'

لیکن ساتھ ساتھ یہاں پر امید بھی ہے۔

اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے غریب شہریوں کی مدد کرنے کے لیے کئی پاکستانی متحد ہوتے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں وہ بڑی تعداد میں زکٰوۃ اور خیرات دے رہے ہیں جس کی مدد سے دن بھر مزدوری کرنے والے افراد اور دیگر مستحق لوگوں تک پیسے پہنچ رہے ہیں۔

عربی زبان کے لفظ 'زکٰوۃ' کا مطلب ہے 'وہ جو کسی چیز کو پاک بنائے'۔ یہ اسلام کے پانچ اہم ترین ستونوں میں سے ایک ہے اور اس پر عمل کرنا ہر اس مسلمان پر لازم ہے جو پیسے دینے کے قابل ہو۔

اس کے تحت مسلمانوں پر لازم ہوتا ہے کہ اپنی سالانہ آمدنی میں ضروریات کے خرچے کے بعد بچنے والی رقم کا ڈھائی فیصد حصہ زکٰوۃ کی مد میں دیں۔

اسلام میں واضح قوانین ہیں جس کے تحت یہ فیصلہ لیا جاتا ہے کہ کون مسلمان زکٰوۃ دینے کا پابند ہے اور کون مسلمان زکٰوۃ لینے کا مستحق ہے۔

اسلامی عقیدہ کہتا ہے کہ یہ دنیا محض عارضی ہے اور ہر انسان کے پاس دی گئی دولت خدا کی جانب سے عطا کی گئی ہے اور زکٰوۃ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وہ لوگ جو مستحق ہیں، ان کے ساتھ وہ دولت بانٹی جائے۔

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے جہاں ایک جانب پوری دنیا میں جسمانی صفائی پر زور دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب ڈاکٹر امتیاز احمد خان کا کہنا ہے کہ زکٰوۃ کا مقصد روحانی صفائی ہے۔

کراچی کی ہمدرد یونیورسٹی میں مالیکیولر بائیولوجی کے ماہر ڈاکٹر امتیاز احمد نے کہا کہ 'پیسہ ہاتھ کا میل ہے اور زکٰوۃ دولت سے ناپاکی کو ختم کر دیتی ہے۔ میں خدا کو جواب دہ ہوں گا اگر میرا پڑوسی رات میں بھوکا سوئے اور میرے پاس ضرورت کی تمام چیزیں ذخیرہ ہوئی ہوں۔'

سخاوت کا یہ جذبہ پاکستانیوں کی رگ رگ میں بسا ہوا ہے۔ دنیا کے 47 مسلم اکثریتی ممالک میں سے زیادہ تر میں زکٰوۃ دینا لازمی نہیں ہے لیکن پاکستان ان چھ ممالک میں سے ایک ہے جہاں زکٰوۃ دینا لازمی ہے اور حکومت اسے جمع کرتی ہے۔

دا آکسفورڈ انسائیکلوپیڈیا آف اسلامک ورلڈ کے مصنف رضوان حسین کہتے ہیں کہ پاکستان وہ واحد مسلمان ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے اور مذہب کے اصولوں پر پابند رہنا اس کے قوانین میں واضح ہے۔

امریکی یونیورسٹی سٹینفورڈ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان اپنی مجموعی ملکی پیداوار کا ایک قابلِ ذکر حصہ خیرات میں دیتا ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان سے کہیں زیادہ امیر ممالک جیسے برطانیہ (1.3 فیصد) اور کینیڈا (1.2 فیصد) نسبتاً کم خیرات دیتے ہیں۔

پاکستان بھر میں کی گئی ایک اور تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ 98 فیصد پاکستانی یا تو چندہ اور خیرات دیتے ہیں یا فلاحی کاموں میں اپنا وقت لگاتے ہیں، اور یہ تعداد ان لوگوں سے کہیں زیادہ ہے جن پر زکٰوۃ دینا لازم ہے۔

برطانیہ میں مقیم پاکستانی سہیل خان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس شاید مال و دولت کم ہو لیکن ہمارے دل بہت بڑے ہیں۔

'آپ کسی بھی گاؤں میں چلے جائیں تو وہ اپنے گھروں کے دروازے آپ کے لیے کھول دیں گے۔ دوسروں کو خود پر فوقیت دینا ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔ ہم نے بہت تکالیف دیکھیں ہیں اور اسی وجہ سے ہم میں جذبہ ہمدردی ہے۔ بلکہ ہم میں شاید یہ جذبہ بہت زیادہ ہے اور اسی وجہ سے لوگوں کو کورونا سے بچنے کے لیے سماجی دوری پر عمل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر عوام کو تعلیم دینی ہوگی کہ دور رہنا اور دوسرے کی مدد نہ کرنے میں فرق ہے۔'

کورونا وائرس کے بڑھنے کے بعد پاکستانیوں نے بھی زکٰوۃ اور خیرات دینے میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ مالی امداد ماہانہ راشن جیسے گھی، دال، آٹا، تیل اور چینی جیسی ضروری اشیا کی مد میں جاتی ہے۔

عمومی طور پر زکٰوۃ رمضان میں نکالی جاتی ہے لیکن اب اس وبا کی وجہ سے متاثر ہونے والے مزدور طبقے کے لیے امداد کی جا رہی ہے جس میں جراثیم کش صابن بھی شامل ہیں۔

فیصل بخاری ان غریب علاقوں میں راشن پہنچا رہے ہیں جہاں دیہاڑی دار مزدورں اور ان کے خاندانوں کو سخت ضرورت ہے۔

'لوگوں میں جذبہ ہمدردی بہت بڑھا ہوا ہے اور وہ دل کھول کر امداد دے رہے ہیں۔ مجھے روزانہ کے حساب سے کوئی 20 سے 25 آرڈر آتے ہیں اور کبھی کبھار تو اس سے بھی زیادہ۔'

کراچی کے تعلیمی ادارے آئی بی اے میں پڑھانے والے احمد سجاد نے کہا کہ اس جذبے نے ان کو سنہ 2005 کی یاد دلا دی جب پاکستان میں آنے والے ہولناک زلزلے کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے متحد ہو کر متاثرین کی مدد کی تھی۔

'اب لاک ڈاؤن ہونے کے باوجود لوگوں نے سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے امدادی سلسلہ جاری رکھا ہے۔'

پاکستان بھر میں امداد کے لیے اپیلیں کی جا رہی ہیں اور اس کے لیے واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال ہو رہا ہے۔

خواتین اپنے گھروں کو امدادی کاموں کے لیے کھول رہی ہیں تاکہ لوگ وہاں پر راشن اور دیگر ضروری اشیا جمع کر سکیں۔ کئی لوگوں نے اپنے ذاتی فون نمبر دینا شروع کر دیے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ امداد حاصل کی جا سکے۔

رضاکارانہ ادارے جیسے رابن ہڈ آرمی مستحقین میں ریستورانوں میں بچنے والا کھانا اور راشن پہنچانے میں مصروف ہیں۔ اور ایدھی فاؤنڈیشن اور سیلانی ویلفئیر ٹرسٹ کی ہیلپ لائن اور واٹس ایپ نمبرز ہیں جس پر لوگ رابطہ کر کے مستحق لوگوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔

بظاہر تو لگتا ہے کہ یہ امدادی کارروائیاں کارآمد ثابت ہو رہی ہیں۔

کراچی کی رہائشی صوبیہ شاہد کہتی ہیں کہ انھوں نے حال میں رابن ہڈ آرمی سے رابطہ کیا تاکہ وہ کچھ مدد کر سکیں تو انھیں کہا گیا کہ چند ہفتے انتظار کریں۔

'انھوں نے مجھے بتایا کہ کراچی میں مدد کرنے والے اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ اُن کے پاس اپریل مئی تک کی ضروریات پوری ہو چکی ہیں۔'

حکومت پاکستان کے ایک سروے کے مطابق سال 2018-19 میں پاکستانی بینکوں نے سات ارب سے زیادہ رقم زکٰوۃ کی مد میں جمع کرائی ہے۔ مگر کئی پاکستانی براہ راست زکٰوۃ مستحقین کو دیتے ہیں جس کے باعث یہ یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ زکٰوۃ کی مد میں دی جانے والی رقم کی کل مالیت کہیں زیادہ ہے۔

اس وقت حالات یہ ہیں کہ کورونا کے باعث کئی گھرانوں نے وائرس کے خطرے کے باعث اپنے گھر میں کام کرنے والے افراد کو چھٹی دے دی ہے لیکن ان کی تنخواہیں نہیں روکیں۔

بینکر عمران بلوچ کہتے ہیں کہ پاکستان ایک سخی ملک ہے اور ان کی سرمایہ دارانہ نظام اور انفرادیت پر قدرے مختلف تشریح ہے۔

'وہ پاکستانی جو خوش قسمت ہیں اور پیسے والے ہیں، وہ کھل کر ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو مستحق ہیں، کیونکہ وہ اسے اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھتے ہیں، اور یہ عمل کورونا جیسی وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران میں بہت کارآمد ثابت ہوتا ہے۔'

پاکستان میں زکٰوۃ دینے کا عمل سب سے زیادہ رمضان کے مہینے میں ہوتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ نیکی کرنے پر دگنا ثواب ملتا ہے۔ لیکن اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے حال ہی میں ٹی وی پر کہا کہ کورونا وائرس کو مد نظر رکھتے ہوئے رمضان سے قبل زکوۃ دینا کارِخیر ہے۔

کراچی میں نجی ریڈیو سٹیشن پر میزبانی کرنے والی سندس رشید کہتی ہیں کہ اہلیانِ کراچی زکٰوۃ کے علاوہ بھی چندہ اور خیرات دیتے ہیں۔

'میری اپنی بچت اتنی نہیں ہے کہ میں زکٰوۃ دینے کے لیے اہل ہوں لیکن ہم نے حفظان صحت کی غرض سے چھوٹے چھوٹے پیکٹ بنائے جو مزدورں میں بانٹے۔'

یہ کہنا درست ہوگا کہ پاکستانی زکٰوۃ اور خیرات کو کار خیر اور ثواب سمجھ کر کرتے ہیں اور ان کی ایمان ہے کہ اس نیکی کے عوض یہ بحران ختم ہو سکے گا۔

انھیں یقین ہے کہ نیکی کرنی سے نیکیاں پھیلتی ہیں اور شاید یہ سخاوت وائرس پھیلنے کی رفتار سے زیادہ تیزی سے پھیلے اور اس کی مدد سے انسانیت کی فلاح ہو، اور ان لوگوں کو امید پہنچے جنھیں اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

اور ان دنوں، ہم سب کو اس امید کی ضرورت ہے۔