ایشیا کو جوان رکھنے والی گوجی بیری

شمال مغربی چین کے کچھ حصے ایسے ہیں جو ایک مختلف نوعیت کی دولت سے مالا مال ہیں۔ ییلو ریور کے کنارے لیوپن پہاڑی سلسلے کی چھاؤں میں ننگزیا خطے کے لوگ صدیوں سے ایشیا کے سب سے من پسند بیر کی پیداوار کو بڑھانے میں لگے ہیں۔

یہاں پائی جانے والی چھوٹی سی، بیزوی شکل والی بیری کو ’ریڈ ڈائمنڈ‘ یا ’لال ہیرا‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں بڑھتی عمر کے اثرات روکنے کی طاقت ہے اس لیے اس نے ایک سپر فوڈ کے طور پر نئی عالمی حیثیت حاصل کر لی ہے۔

لیکن چین کے عوام کے لیے، جو تقریباً تیسری صدی سے اسے طب میں استعمال کر رہے ہیں، یہ صرف گوجی بیری یا ولف بیری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گوجی بیری پورے چین میں اگایا جاتا ہے لیکن یہ ننگزیا خطے کی زمین کی انوکھی ساخت ہے جس نے اس پھل کی سب سے بہترین قسم کو پیدا کیا ہے۔

ننگزیا بیشی ہینگ زنگ فوڈ ٹکنالوجی کمپنی جو کہ ایک نامیاتی یعنی آرگینیک گوجی فارم ہے۔ اس کے سیلز مینیجرایون گو کہتے ہیں کہ، ’یہ ٹھنڈی ہواؤں ، معدنیات سے زرخیز مٹی اور ییلو ریور کی آبپاشی کا نتیجہ ہے کہ اس خطے میں گوجی بیریز کی سب سے اعلی قسم پیدا ہوتی ہے۔‘

ننگزیا کے کسان اب بھی اسی طرح پھل کی کاشت کرتے ہیں جس طرح کئی صدیوں سے اب تک ہوتی آئی ہے۔ ہر سال جولائی سے ستمبر تک ،حد نگاہ تک کھیت ٹماٹر کے رنگ کی اس بیر سے بھرے دکھائی دیتے ہیں۔

چین کی گوجی بیری سے محبت سیکڑوں سال پرانی ہے اور روایتی چینی طب کے ماہرین کے خیال میں اس میں بہت سی ایسی چیزیں موجود ہیں جو میڈیسن کی تیاری میں کام آسکتی ہیں۔

اس کا قدیم ترین ریکارڈ میٹیریا میڈیکا کے کمپینڈیم میں موجود ہے جو ایک تاریخی طبی متن ہے۔ اسے مشہور ہربل سائنس دان لی شیزن نے 16ویں صدی میں لکھا تھا۔

روایتی چینی طب کے ڈاکڑ یو یان سانگ جو کہ چین ، ملائشیا اور سنگاپور میں اپنے کلینک چلاتے ہیں، کہتے ہیں کہ ’یہ ایک بہت وسیع ، مشہور ریکارڈ ہے اور اس کتاب میں گوجی بیری کا ذکر بھی درج ہے۔ لی نے بتایا ہے کہ اس میں ہر بوٹی کس طرح کی دکھتی ہے اور آپ اسے کیسے استعمال کرسکتے ہیں یہ سب بتایا گیا ہے۔‘

چین کے لوگ گوجی بیری کو پھل اور جڑی بوٹی دونوں کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ گوجی بیری میں وٹامن سی، اینٹی آکسیڈنٹس ، امیانو ایسڈز اور معدنیات موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ روایتی چینی طب کے ماہرین جگر اور گردے کے بہتری کے لیے اس کے استعمال کو تجویز کرتے ہیں۔

بیجنگ میں چینی طب کی تعلیم حاصل کرنے والی ژینگ کا کہنا ہے کہ ’چینی مائیں اکثر اپنے بچوں کو یہ کہتی ہیں کہ انھیں یہ زیادہ کھانے کی ضرورت ہے۔ یہ کیروٹین سے بھرپور ہے جو بینائی بہتر کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ لیکن میں اسےگردے اور جگر کے نظام کو بہتر کرنے والے پھل اور جڑی بوٹی کے طور پر لوں گی۔ روایتی چینی طب کے مطابق آنکھیں اس پورے سسٹم کا حصہ ہیں،اس سے الگ نہیں۔‘

جب ژینگ مریضوں کو نسخہ لکھ کر دیتی ہیں تو وہ اسے دوسری جڑی بوٹیوں کے ساتھ ملا کرد دیتی ہیں۔ ژینگ کا کہنا ہے کہ ’ہم عام طور پر ایک جڑی بوٹی پورے علاج کے لئے استعمال نہیں کرتے ہیں بلکہ یہ ایک مرکب کا حصہ ہوتی ہیں۔‘

ژینگ کے مطابق اگر کسی کو بخار یا گلے کی سوزش ہو تو وہ مریض کو گوجی بیری کے استعمال سے منع کرتے ہیں۔

’اگر وہ معدے کے مسائل سے دوچار ہوں تو بھی ہم انھیں بیری سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں، لیکن اگر آپ تندرست ہیں تو گوجی بیری کھانے میں کوئی حرج نہیں۔‘

گوجی بیری طویل عرصے سے چینی ثقافت کا حصہ رہی ہے۔ روایتوں میں ملتا ہے کہ دو ہزار سال پہلے ایک ڈاکٹر چین کے گاؤں میں پہنچا جہاں ہر شخص کی عمر 100 سال سے زیادہ تھی۔

اس نے دریافت کیا کہ وہ سب ایک ایسے کنویں سے پانی پیتے ہیں جس کے ارد گرد گوجی کے بیر موجود ہیں۔ اس کے بعد نظریہ سامنے آیا تھا کہ جیسے ہی پھل پک جاتا ہے اور کنویں میں گر جاتا ہے تو اس کے وٹامن سے بھرے پھل پانی میں شامل ہوجاتے ہیں۔

17 ویں صدی کے لی کنگ یواین کا قصہ بھی گوجی بیری سی جڑا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ روزانہ یہ بیری کھاتا تھا جس کی وجہ سے اس نے دو سو باون سال کی عمر پائی۔

لیکن اس سادہ بیری کے لیے بھی وقت بدل رہا ہے، بشمول یہ کہ اس کا استعمال کس طرح ہوتا ہے۔ اب اسے چین اور دیگر ممالک میں بھی ایک سپر فوڈ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایشیا کی نوجوان نسلیں گوجی بیری کے فوائد کو سمجھ رہی ہیں، لیکن اپنے انداز میں۔ مثال کے طور پر جین زی کے ممبر گوجی کے بیر کی چائے کے لیے ’ویل نس کیٹلز‘ خرید رہے ہیں۔

ان کے والدین ان کو روایتی سوپ کیٹلز کے طور پر پہچان سکتے ہیں جسے بائڈیم جیسے برانڈز نے دوبارہ پیک کیا ہے اور اس سے زیادہ انسٹاگرام کے قابل بناتے ہوئے گلابی رنگ دیا ہے۔

چین میں جین زی پر کی گئی 2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق نئی نسل صحت کو زندگی کی بنیادی ترجیح کے طور پر دیکھتی ہے ، یہاں تک کہ پیسہ ، کیریئر ، ذاتی تفریح اور ایک کنبہ ہونے سے بھی زیادہ۔

گوجی کے بیر بین الاقوامی صارفین میں بھی مقبول ہوگئے ہیں۔ ’سپر فوڈ‘ کے نام سے مشہور اس بیر کے ایک پیکٹ کے لیے لوگ دس امریکی ڈالر تک کی قیمت ادا کر رہے ہیں جو مشرق میں اسکی قیمت سے تین گنا زیادہ ہے۔

سپر فوڈ کا پرائس ٹیگ کسانوں کی حوصلہ افزائی کررہا ہے تاکہ ان کی فصل سپر مارکیٹ تک تیزی سے پہنچ جائے۔

اگرچہ ننگزیا کے کسان ہر سال ایک لاکھ اسی ہزار ٹن تازہ گوجی بیریوں کو اکٹھا کرتے ہیں ،لیکن وہ اپنی بیشتر فصل کو خشک شکل میں فروخت کرتے ہیں کیونکہ بیری کی تازہ زندگی مختصر ہے۔

گرمی کی دھوپ میں بیر تیزی سے پک جاتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ کاشتکاروں کو اپنی فصل کو اکٹھا کرنے کے لئے جلدی سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

گوجی بیری کی ایسی نہیں لگتی جس کی اہمیت جلد ماند پڑجائے گی کیونکہ حالیہ سنگلز ڈے کی فروخت کے دوران چین میں ریکارڈ تعداد میں گوجی بیری فروخت ہوئے ہیں۔

ایجیلیٹی ریسرچ اینڈ سٹریٹیجی کی منیجنگ ڈائریکٹر امرتتا بنٹا اس بیری کو مشرق کے نوجوانوں میں صحت مند زندگی گزارنے کے طریقہ کے طور پر دیکھتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کئی برسوں سے چینی صارفین چین میں بنی ہر چیز کو پرانا اور غیر سائنسی مان کر ترک کرتے آئے ہیں لیکن اب ہمیں یقین ہے کہ چین میں بہت ساری روایتی مصنوعات اور طریقے ایک بار پھر فخر کا باعث بنیں گے۔

’پھر بھی گوجی کے بیر کی مقبولیت ان کی خصوصیات کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔ آج چینی نوجوان انھیں کھاتے ہیں کیونکہ انھیں ایک سپر فوڈ سمجھا جاتا ہے۔ یہ دیکھنا حیرت انگیز ہے کہ چین اپنے ماضی پر اتنا فخر کرتا ہے پھر بھی باقی دنیا سے اس قدر جڑا ہوا ہے۔‘

ایشیا کے نوجوان شیف بھی اپنے کھانوں میں گوجی بیری استعمال کر رہے ہیں تاکہ انھیں مقامی ذائقہ بھی دیا جاسکے۔

یہ گوجی بیری ہی تھی جب شیف انا لم نے گوجی بیری کا استعمال کیا جب انھیں فاسٹ فوڈ دیو کمپنی مکڈونلڈز کے لئے محدود ایڈیشن ناشتے کی ڈش بنانے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

سوپ سپون کے مالک نے گوجی بیر کے ساتھ ایک دلیہ تیار کیا اور یہ سنگاپور میں اس قدر مشہور ہو گیا کہ اسے مستقل مینو میں شامل کردیا گیا۔

کھانے پینے کے علاوہ صحت کی جانب توجہ دینے والے افراد کچھ گوجی بیریوں کو اپنے سوپ یا چائے میں ڈال سکتے ہیں ، اور کشمش جیسی مٹھاس کے ذائقہ سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

٭٭٭یہ تحریر پہلی بار 3 اپریل 2020 کو شائع کی گئی تھی۔