وقت آگے کو ہی کیوں بڑھتا ہے، پیچھے کیوں نہیں؟

جب سنہ 1687 میں آئزک نیوٹن نے اپنے مشہور ’قوانینِ حرکت‘ شائع کیے تو ان تین خوبصورت قوانین نے حرکت کے بہت سارے مسائل حل کر دیے تھے۔ ان کے بغیر ہم 282 سال بعد چاند پر جانے کے قابل نہ ہوتے۔

تاہم یہ قوانین ماہرینِ طبیعیات کے لیے ایک نیا مسئلہ بھی سامنے لائے، جس کی تعریف صدیاں بیت جانے کے باوجود بھی پوری طرح سے نہیں کی گئی اور آج بھی ماہرینِ کائنات کو یہ ناگوار گزرتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ نیوٹن کے قوانین ہماری توقعات سے تقریباً دوگنا کام کرتے ہیں۔ یہ اس دنیا کی وضاحت کرتے ہیں جس میں ہم رہ رہے ہیں، جس میں دوسرے لوگ موجود ہیں، گھڑی کے گرد گھومتی سوئیوں کی وضاحت حتیٰ کہ سیبوں کے گرنے کے بھی۔

لیکن یہ اس دنیا کے بارے میں بھی اچھی خاصی وضاحت پیش کرتے ہیں جس میں لوگ پیچھے کی طرف چلتے ہیں، گھڑیاں دوپہر سے صبح تک ٹک ٹک کرتی ہیں اور پھل زمین سے اٹھ کر درخت کی شاخ تک لٹک جاتا ہے۔

نظریاتی طبیعیات دان اور فلسفی شان کیرول جنھوں نے اپنی کتاب ’دا بگسٹس آئیڈیاز ان دا یونیورس‘ میں وقت پر بحث کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ’نیوٹن کے قوانین کی دلچسپ خصوصیت جن کی بہت بعد تک تعریف نہیں کی گئی، یہ ہے کہ وہ ماضی اور مستقبل میں فرق نہیں کرتے لیکن وقت کی سمت، اس کی سب سے واضح خصوصیت ہے۔ میرے پاس ماضی کی تصویریں ہیں لیکن میرے پاس مستقبل کی کوئی تصویر نہیں ہے۔‘

مسئلہ نیوٹن کے صدیوں پرانے نظریات تک محدود نہیں ہے۔ فرانس کے مارسیل میں سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس کے ماہر طبیعیات کارلو روویلی اور دی آرڈر آف ٹائم سمیت کتابوں کے مصنف کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے لے کر اب تک طبیعیات کے تمام بنیادی نظریات نے وقت کے ساتھ ساتھ آگے کی جانب بھی پیچھے کی سمت جتنا ہی کام کیا ہے ۔

روویلی کہتے ہیں کہ ’نیوٹن سے شروع ہو کر اور پھر میکسویل کے برقی مقناطیسیت کا نظریہ، پھر آئن سٹائن کا کام اور پھر کوانٹم میکینکس، کوانٹم فیلڈ تھیوری، نظریہ اضافت اور یہاں تک کہ کوانٹم کشش ثقل۔۔۔ ماضی اور مستقبل میں کوئی فرق نہیں ہے‘۔

وہ کہتے ہیں کہ یہی چیز حیران کن تھی کہ فرق تو ہم سب پر واضح ہے اور اگر آپ فلم بناتے ہیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کون سا راستہ مستقبل ہے اور کون سا ماضی ہے۔

کائنات کی ان وضاحتوں میں سے وقت کی ایک واضح سمت کیسے نکلتی ہے جن میں سب کے پاس اپنے اپنے وقت کی کمی ہے؟ جیسا کہ لزبن یونیورسٹی میں ماہر فلکیات مرینا کورٹس کہتی ہیں ’اس سوال پر غور کرنے سے اس کے بہت سے معنی نکلتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وقت گزر کیوں جاتا ہے؟‘

اس سوال کے جواب کا کچھ حصہ تو ہمیں 14 ارب سال قبل ہونے والے بگ بینگ میں ملتا ہے۔ اس کے علاوہ سامنے آنے والی توجیہ دوسری حد سے ملتی ہے یعنی کائنات کی حتمی موت۔

تاہم کائنات کے آغاز سے اختتام تک کے اس بہترین سفر کا آغاز کرنے سے پہلے سنہ 1865 میں کا ذکر ضروری ہے کیونکہ اس سال صنعتی انقلاب کے دوران فزکس کا پہلا ’ٹائم ڈائریکشنل‘ یعنی وقت کی سمت کا تعین کرنے والا قانون سامنے آیا تھا۔

بھاپ جمع کرنا

19ویں صدی میں جب بھاپ پیدا کرنے کے لیے کوئلے کو بھٹیوں میں ڈالا جاتا تھا تو سائنسدان اور انجینیئرز نے بہتر انجن بنانے کے لیے نئے قوانین کے بارے میں سوچنا شروع کیا جو حدت، توانائی اور حرکت کے درمیان رشتے کو وضع کر سکیں۔ انھیں بعد میں تھرموڈائنیمکس کے قوانین کا نام دیا گیا۔

سنہ 1865 میں جرمنی میں روڈولف کلاسیئس نامی ماہرِ طبیعیات نے کہا تھا کہ اگر دو چیزوں کے آس پاس کا ماحول تبدیل نہ ہو تو حدت ایک سرد چیز سے گرم چیز میں منتقل نہیں ہو سکتی۔ کلاسیئس نے اسے ’اینٹروپی‘ کا نام دیا تاکہ حدت کے رویے کی پیمائش کی جا سکے۔ حدت ایک سرد چیز سے گرم چیز میں منتقل نہیں ہو سکتی کے تصور کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ’اینٹروپی ہمیشہ بڑھتی ہے کبھی کم نہیں ہوتی‘۔

روویلی ’ان کی آرڈر آف ٹائم‘ میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ فزکس کا ایک بنیادی قانون ہے جو ہمیں ماضی کو مستقبل سے فرق کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک گیند کسی پہاڑی سے سرک کر نیچے آ سکتی ہے یا اسے واپس اوپر پھینکا جا سکتا ہے لیکن حدت کسی سرد چیز سے گرم میں منتقل نہیں ہو سکتی۔

اس بات کی تشریح وہ ایک قلم اٹھا کر اسے اپنے دوسرے ہاتھ کی جانب اچھال کر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’یہ میرے دوسرے ہاتھ میں جا کر اس لیے رک جاتا ہے کیونکہ اس میں کچھ توانائی موجود ہے اور پھر یہ توانائی حدت میں تبدیل ہو کر میرے ہاتھ کو گرما دیتی ہے۔ اس دوران فرکشن اسے دوبارہ اچھلنے سے روکتی ہے کیونکہ اگر حدت نہ ہوتی تو شاید یہ قلم ہمیشہ کے لیے اچھلتا رہتا اور میں ماضی کی مستقبل سے تفریق نہ کر سکتا۔‘

اب تک یہ بات خاصی سیدھی سادی لگتی ہے۔ تاہم یہ اس وقت تک ہے جب تک آپ حدت کو مالیکیولز کی سطح پر جانچتے ہیں۔ گرم اور سرد چیزوں میں فرق دراصل ان کے مالیکیولز کے متحرک ہونے کی شرح سے معلوم ہوتا ہے۔ ایک بھاپ سے چلنے والے انجن میں پانی کے مالیکیولز بہت زیادہ متحرک ہوتے ہیں اور وہ تیزی سے ایک دوسرے ٹکراتے ہیں۔ تاہم یہی مالیکیولز اس وقت بہت کم متحرک ہوتے ہیں جب کھڑکی کے شیشے پر سردی کے باعث یہ اکٹھے ہوتے ہیں۔

تاہم یہاں مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ پانی کے ایک مالیکیول کے دوسرے سے ٹکرانے اور اچھل کر دور جانے کی سطح پر بات کرتے ہیں تو وقت کی سمت غائب ہو جاتی ہے۔ اگر آپ نے اس عمل کی کسی مائیکروسکوپ سے بنائی گئی ویڈیو دیکھی ہے اور پھر اسے پیچھے کر کے دیکھا ہے، تو آپ کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس ویڈیو میں کیا پہلا اور کیا بعد میں ہوا۔

بہت ہی معمولی سطح پر جو عمل حدت یا گرمی پیدا کرتا ہے یعنی مالیکیولز کا ٹکرانا، وہ ’ٹائم سمٹرک‘ ہے یعنی اس عمل کے دوران وقت کی سمت نہیں ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وقت کی سمت ماضی سے مستقبل کی جانب صرف اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب آپ ایک قدم پیچھے ہٹ کر مائیکروسکوپک دنیا کی بجائے میکروسکوپک دنیا کو دیکھتے ہیں۔ اس بات کی جانب توجہ سب سے پہلے آسٹریا کے ماہر طبیعیات اور فلسفی لڈوگ بولٹزمان نے دلوائی تھی۔

روویلی کہتے ہیں کہ ’وقت کی سمت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب ہم چیزوں کو دور سے دیکھتے ہیں انھیں باریک بینی سے نہیں دیکھتے۔ دنیا کے بنیادی مائیکروسکوپک تصور سے لے کر آنکھ سے دیکھی جانے والی دنیا کی میکروسکوپک تفصیل تک، یہی وہ مقام ہے جہاں وقت کی سمت ظاہر ہوتی ہے۔‘

ایسا نہیں ہے کہ کائنات صرف خلا اور وقت کے تصورات پر مبنی ہے۔ تاہم جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ روزمرہ کی چیزوں میں ایک سمت موجود ہے، جیسے درخت سے پکے ہویے سیب کا گرنا، یا تاش کے پتوں کا شفل ہونے کے بعد ترتیب میں فرق آ جانا۔‘

جہاں اینٹروپی وقت کی سمت سے جڑی ہوئی ہے، یہ دیکھ کر خاصی حیرت ہوتی ہے کہ فزکس کا ایک قانون جس کا وقت کی سمت سے اتنا گہرا تعلق ہے اس وقت اپنی سمت کھو دیتا ہے جب ہم انتہائی چھوٹی چیزوں کو دیکھتے ہیں۔

روویلی کہتے ہیں کہ ’اینٹروپی کیا ہے؟ اینٹروپی دراصل یہ بنیادی تصور ہے کہ ہم مائیکروفزکس اور مالیکیولز کو کس حد تک نظر انداز کر رہے ہیں۔‘

آغاز اور اختتام کا تصور

اگر وقت کی کوئی سمت ہے تو یہ بنیادی طور پر آئی کہاں سے ہے؟

کیرل کہتے ہیں کہ ’اس کا جواب کائنات کے آغاز میں موجود ہے۔ یہ جواب اس لیے ہے کیونکہ بگ بینگ کے دوران اینٹروپی خاصی کم تھی۔ لیکن پھر بھی 14 ارب سال بعد بھی ہم اس سونامی میں تیر رہے ہیں جو بگ بینگ کے قریب شروع ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے لیے وقت کی سمت ہے۔‘

بگ بینگ کے وقت کائنات کی انتہائی کم اینٹروپی ایک جواب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑا سوال بھی ہے۔ کیرل کہتے ہیں کہ ’وقت سے متعلق جو بات ہمیں بہت کم سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ بگ بینگ کی اتنی کم اینٹروپی کیوں تھی اور کائنات آغاز میں ایسی کیوں تھی۔ اور ماہر علمِ کائنات کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ میرے ساتھیوں نے اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ وہ اس مسئلہ کو اب اتنی اہمیت نہیں دیتے۔‘

کیرول نے سنہ 2004 میں اپنے ساتھی جینیفر شین کے ساتھ مل کر ایک مقالہ تحریر کیا تھا جس میں انھوں نے یہ بیان کرنا تھا کہ بگ بینگ کے موقع پر کائنات کی اتنی کم اینٹروپی کیوں تھی، وہ اس تصور کو ماننے یا فرض کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ کیرول بتاتے ہیں کہ ’اس تھیوری میں بہت سارے سقم ہیں اور اس کے متعدد پہلو ایسے ہیں جو مکمل طور پر واضح نہیں ہیں لیکن میرے نزدیک یہ مارکیٹ میں اب بھی اس ضمن میں ایک بہترین تھیوری ہے۔ یہ دھوکا نہیں دیتی۔‘

کاسمولوجسٹس اس بات پر متفق ہیں کہ وقت آ گیا ہے کہ کائنات کے آغاز میں اس کی کم اینٹروپی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جائے۔ کورٹس کہتی ہیں کہ ’ہماری کائنات کی ابتدا میں یہ صورتحال ہونے کا امکان 10 کی پاور 10 کی پاور (1:10^10^124) میں ایک مرتبہ بنتا ہے۔ (اس بات کو کہنے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ اس ایونٹ کے ہونے کا امکان یا پرابیبلٹی (0.000...1) ہے اور اس میں 120 زیرو حذف کیے گئے ہیں۔)

کورٹس کہتی ہیں کہ ’میں یہ آسانی سے کہہ سکتی ہوں کہ یہ ریاضی اور فلسفے کے علاوہ جدید فزکس میں سب سے بڑا نمبر ہے۔‘

کورٹس کہتی ہیں کہ ’جب کم انیٹروپی ہونے کا امکان ہی اتنا کم ہے تو اسے مفروضے کو سچ مان لینا دراصل مسئلے کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ اگر ماہر طبیعیات یہی کرتے رہے تو کچھ دیر بعد نظرانداز کیے گئے مسائل میں بہت اضافہ ہو جائے گا۔ اب یہ ہم کاسمولوجسٹس پر منحصر ہے کہ ہم بیان کریں کہ وقت صرف آگے ہی کیوں بڑھتا ہے؟‘

اگر ہمیں اس کا جواب نہیں بھی معلوم تو کائنات کی ماضی میں کم اینٹروپی وقت کی سمت کا اندازہ لگانے کا ذریعہ ہو سکتی ہے۔ ایسی متعدد چیزیں جن کا آغاز ہوتا ہے، اس سمت کا اختتام بھی ضرور ہوتا ہے۔ اس تصور کو سب سے پہلے سامنے لانے والے آسٹریا کے ماہرِ طبیعیات لڈوگ بولٹزمین ہی تھے۔

روویلی کہتے ہیں کہ ’بولٹزمین نے سوچا کہ ’کائنات میں اینٹروپی بڑھ رہی ہے اور شاید یہ ایک موقع پر اپنے عروج پر ہو گی۔ اس موقع پر پوری کائنات میں گرمی یا حدت یکساں طور پر تقسیم ہو گی اور یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں ہو گی۔‘

یعنی اس دوران کسی کام کے دوران توانائی موجود نہیں ہو گی، یعنی دوسرے لفظوں میں پوری کائنات میں کچھ بھی دلچسپ نہیں ہو رہا ہو گا۔ آسٹرو فزسسٹ کیٹی میک کہتی ہیں کہ ’جہاں یہ مرحلہ جاری ہے وہیں ہر چیز آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے، اتنی زیادہ کہ کائنات میں اگر کچھ موجود ہو گا تو وہ فاضل حدت ہو گی جو اس سب کے بعد موجود ہے جو یہاں پایا جاتا تھا۔‘ اس تصور کو کائنات کی تھرمل ڈیتھ یا حدت یا گرمی سے اختتام بھی کہا جاتا ہے۔

روویلی کہتے ہیں کہ ’ستاروں کا جلنا بند ہو جائے گا، کچھ بھی نہیں ہو گا۔ معمولی تھرمل تبدیلیاں آئیں گی۔ فرض کریں یہ ہوتا ہے، اور ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ایسا ہو گا لیکن فرض کریں یہ ہو جاتا ہے تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ اس موقع پر وقت کی کوئی سمت نہیں ہے؟ ظاہر ہے اس موقع وقت کی کوئی سمت نہیں ہو گی کیونکہ جو بھی واقعہ ایک سمت میں ہوا وہ دوسری سمت میں بھی ہو سکتا ہے۔ وقت کی دو سمتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں رہے گا۔‘

کیرول کہتی ہیں کہ ’شاید یہ وقت کی سمت کے بارے میں سب سے عجیب بات ہے، یعنی یہ صرف کچھ ہی دیر ظاہر رہ سکتی ہے۔‘

اس بارے میں سوچنا خاصا مشکل ہے کہ اگر وقت کی سمت غائب ہو جاتی ہے تو کیا ہو گا۔ روویلی کہتے ہیں کہ ’جب ہم سوچتے ہیں تو ہمارے نیورونز میں گرمی پیدا ہوتی ہے۔ سوچنا ایک مرحلہ ہے جس میں نیورونز کو کام کرنے کے لیے اینٹروپی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وقت کے گزرنے کا احساس دراصل اینٹروپی کا ہمارے دماغ پر اثر ہے۔‘

اینٹروپی کے باعث ظاہر ہونے والی وقت کی سمت ہمیں یہ سمجھنے میں مدد کرتی ہے کہ وقت ہمیشہ آگے ہی کیوں بڑھتا ہے۔ لیکن اس سمت کے علاوہ بھی وقت کی دیگر سمتیں ہو سکتی ہیں، بلکہ ماضی سے مستقبل کی جانب وقت کی متعدد قسم کی سمتیں موجود ہیں۔ ان کے بارے میں جاننے کے لیے ہمیں فزکس سے فسلفلے میں قدم رکھنا ہو گا۔

انسانی وقت

نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں فلسفے کی پروفیسر جینان اسماعیل کہتی ہیں کہ ہم جس طرح وقت کو فطری طور سمجھتے اسے کسی طور بھی کم اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ اگر آپ وقت سے متعلق اپنے تجربے کے بارے میں سوچیں تو بہت جلد آپ اس بات کو سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے کہ یہ مختلف سمتیں کون سی ہیں جو انسانی تجربے کا محور بنی ہوئی ہیں۔ اسماعیل کے مطابق ان میں سے ایک سمت ’فلو‘ یا روانی ہے۔

وہ وضاحت کرتی ہیں کہ ’اگر آپ دنیا پر نظر ڈالیں، تو آپ کو دنیا کی ایک ساکت شکل دکھائی نہیں دے گی۔ جیسے ایک فلم کو متعدد ساکت تصاویر کی مدد سے بنایا جاتا ہے ایسے ہی ہم ایک ایسی دنیا کو دیکھتے ہیں جو بدل رہی ہوتی ہے۔‘

وقت کی روانی کا یہ احساس ہماری سوچ میں پنہاں ہوتا ہے۔ اسماعیل کہتی ہیں کہ ’آپ کی نظر کسی فلم کے کیمرے کی طرح بالکل بھی نہیں ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ آپ کا دماغ ایک مخصوص دورانیے کے لیے معلومات اکٹھی کرتا ہے، یوں آپ جو آپ کو نظر آ رہا ہے وہ آپ کے دماغ کی جانب سے ان معلومات کو جمع کرنے اور پھر اس کا نتیجہ آپ کو پیش کرنے کا عمل ہے۔ تو ایک طرح سے آپ وقت کو دیکھ سکتے ہیں۔

وقت کا ایک اور پہلو جسے اسماعیل فلو سے علیحدہ کرتی ہیں، اسے وہ پیسج قرار دیتی ہیں۔

پیسیج دراصل وقت سے جڑے تجربات سے قریب تر تصور ہے جیسے یادداشت اور توقعات۔ کسی شادی کی مثال لیتے ہیں، یا کسی بھی ایسے موقع کی جس کا آپ کو بے صبر سے انتظار ہے۔ ان مواقعوں سے متعلق ہمارے تجربے کے متعدد پہلو ہیں۔ جیسے منصوبہ بندی کے مراحل، اس دن کے دوران کی مصروفیات اور پھر اس کے بارے میں آنے والے سالوں میں ہماری یادیں۔ ان تمام تجربوں میں بھی سمتیں ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔ جس طرح ہم کسی تقریب کے بارے میں اس کے ہونے سے قبل سوچتے ہیں وہ اس سے یکسر مختلف ہوتا ہے جیسا ہم اس کے گزر جانے کے بعد سوچتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اسماعیل کہتی ہیں کہ ’میرے نزدیک یہ پیسیج کے تجربے کے جیسا ہے، یعنی یہ تصور کہ ہمارے لیے ہر واقعے کا تجربہ ماضی میں کی گئی توقعات، جنھیں حال میں محسوس کیا گیا اور انھیں مستقبل میں یاد کیا جائے گا۔ یہ اپنے آپ میں ایک پروسٹیئن تصور (فرانسیسی مفکر کی سوچ اور کام سے متعلق) جیسا ہے۔‘

وقت کی سمت سے متعلق یہ پہلو اور اس جیسے کئی دوسرے بھی جیسے ماضی کے مقابلے مستقبل کے بارے میں ہماری سوچ کی وسعت، ان سب کے تانے بانے صنعتی انقلاب کے دوران وقت کی سمت کی ایجاد سے کیا جا سکتا ہے۔

اسماعیل کہتی ہیں کہ ’یہ سب دوبارہ اینٹروپی سے پر ہی ختم ہوتا ہے۔ یعنی مجھے اس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ انسانی نفسیات میں موجود وقت کی مختلف سمتوں کی جڑ دراصل اینٹروپک ایرو ہیں۔ لیکن یہ ایک تجرباتی سوال ہے۔ اینٹروپک ایرو سے متعلق انسانی تجربے کو سمجھنا کوئی ایسا منصوبہ نہیں ہے جو فیل ہو جائے۔‘

یہ وہ منصوبہ ہے جو کیرول شروع کرنا چاہتے ہیں یعنی وقت سے متعلق ہمارے تجربے کے متعدد پہلوؤں کا تجزیہ کرتے ہوئے انھیں اینٹروپی سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ ان کا پہلا ہدف اس کی شروعات اور آغاز کی وجوہات معلوم کرنا ہیں۔

یہ منصوبہ تمام فلسفیوں اور ماہرِ طبیعیات کے لیے ایک غیر معمولی منصوبہ ہے۔ تاہم پھر بھی ان تمام اقدامات اور منصوبوں کے سائے میں اب بھی کہیں اس سوال کی گنجائش موجود ہے کہ کائنات کے آغاز میں اینٹروپی اتنی کم کیوں تھی۔

روویلی کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں اب ہم یہ جان چکے ہیں کہ ہمیں وقت کی روانی کیوں محسوس ہوتی ہے۔ ہم یہ بھی سمجھ چکے ہیں کہ ماضی کیوں ہمارے لیے منجمد اور مستقبل ممکنات کا سلسلہ نظر آتا ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ کچھ واقعات دوبارہ کیوں نہیں سکتے اور ہم اس سب کو تھرموڈائنیمکس کے دوسرے قانون تک محدود کر سکتے ہیں یعنی اینٹروپی میں اضافہ۔‘

اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ اگر ہم اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہوئے پیچھے جاتے رہیں اور اس امر کو جاننے کی کوشش کریں کہ کائنات کا آغاز انتہائی معمولی تھا اور یہ انتہائی عجیب صورتحال میں ہوا۔ اس انتہائی عجیب صورتحال کے بعد سے یہ تیزی سے نیچے آ رہی ہے۔‘

’تاہم ایک سوال کا جواب اب بھی ہم تلاش کر رہے ہیں اور وہ یہ کہ کیا وجہ تھی کہ یہ سب اسی طرح شروع ہوا۔‘