منکی پوکس: وہ گمشدہ وائرس جس نے ویکسین بنانے میں مدد کی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, زاریہ گوروٹ
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
19ویں صدی کے آغاز میں لندن میں ایک عجیب مرض کی وجہ سے خوف پھیلنے لگا۔ شہر میں معلوماتی پرچے تقسیم کیے جانے لگے۔ لوگوں میں سنسنی پیدا کر دینے والی کتابیں شائع ہونے لگیں۔ مشکوک قسم کے طریقہ علاج سامنے آئے۔ لوگوں کو خبردار کیا گیا کہ اُن کی شکلیں گائے جیسی بن جانے کا خطرہ ہے۔
ڈاکٹروں کے ایک متنازع گروپ نے ایک ایسے نئے طبّی عمل کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے شروع کر دیے جس میں بیمار گائے سے وائرس حاصل کر کے اسے انسانوں میں چیچک کی بیماری سے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
اس طریقۂ علاج کو ’ویکسین‘ کہا گیا جو لاطینی لفظ ’ویکیسنس‘ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب گائے ہے۔ اس طریقۂ علاج کے ابتدائی نتائج سے پتہ چلا کہ یہ غیر معمولی حد تک کارگر تھا۔ اس نے 95 فیصد لوگوں کو ایک ایسے انفیکشن (چیچک) سے تحفظ فراہم کیا جس کا شکار ہونے والے 30 فیصد لوگ ہلاک ہو جاتے تھے یا عمر بھر کے لیے اُن کے چہرے داغدار ہو جاتے تھے۔ اس طریقۂ علاج سے یہ امید پیدا ہو گئی کہ شاید مستقبل میں اس مرض سے ہمیشہ کے لیے جان چھوٹ جائے۔
کاؤ پاکس ہسٹیریا
اس پہلی ویکسین کے بارے میں ذہنی انتشار پھیلایا گیا، سنہ 1802 میں ایک ویکسین مخالف پراپیگنڈے میں کہا گیا کہ ایک خوفناک گائے جس کا بڑی شارک جیسا منھ ہے، اس کے جسم پر دھبے ہیں اور اس کی مڑی ہوئی دم ہے اور اسے بچوں سے بھری ہوئی ٹوکری کھانے کو دی جاتی ہے۔
زیادہ مضحکہ خیز دعوؤں میں سے ایک یہ تجویز بھی تھی کہ ٹیکے لگوانے والے بچوں میں مویشیوں کی خصوصیات پیدا ہونا شروع ہو گئی ہیں، جیسا کہ دودھ والی گائیوں پر موجود دھبے، یا یہ کہ بالآخر وہ بیلوں کی طرح سوچنے لگے ہیں۔ ایک وکیل نے مشورہ دیا کہ ٹیکے لگوانے والی خواتین بیلوں کو پسند کرنا شروع کر سکتی ہیں۔
ابتدائی ویکسین سے متعلق شکوک سب غلط ثابت ہوئے۔ بلاشبہ، نئی تکنیک معصوم لوگوں میں گائے بھینسوں کی خصوصیات منتقل نہیں کر رہی تھی۔ کاؤپاکس صرف ایک عام وائرس تھا، اور آنے والی صدیوں میں، یہ چیچک کو معدومیت کی طرف لے جانے والا تھا اور شاید اس کا کبھی بھی گائے کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔
درحقیقت، آج تک کوئی نہیں جانتا کہ چیچک کو ختم کرنے والا وائرس آخر کہاں سے آیا اور اس کے باوجود، یہ پراسرار جرثومہ اب بھی استعمال کیا جا رہا ہے، بشمول منکی پاکس کے خلاف اس وقت لگائی جانے والی ویکسین میں، جسے اب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے عالمی صحت کی ایمرجنسی قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہScience Museum London
گذشتہ پانچ دہائیوں میں زیادہ تر کیسز افریقہ میں ملنے کے بعد منکی پاکس دنیا بھر میں پھیلنے لگا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے سائنسدانوں نے دو ویکسینز کا سہارا لیا جو چیچک کے لیے استمعال ہوتی ہیں: ایک ACAM2000 اور دوسری JYNNEOS۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ میں اس وائرس کے خلاف یہ دو لائسنس یافتہ ویکسینز دستیاب ہیں۔ یورپی یونین نے بھی حال ہی میں JYNNEOS کی توثیق کی ہے۔ یہ دونوں دوائیں بہت زیادہ محفوظ ہیں اور انھیں بہت کارگر قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی معمے کا حصہ ہیں۔
ایک صدی سے زیادہ عرصے تک سائنسی برادری میں سمجھا جاتا رہا کہ چیچک کی ویکسین کو کاؤ پاکس سے بنایا جاتا ہے اور یہی وضاحت دنیا بھر میں بہت سی ویب سائٹس اور نصاب میں اب بھی پائی جاتی ہے۔ لیکن 1939 میں، ویکسینیشن کی ایجاد کے تقریباً 150 سال بعد، مالیکیولر ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ ایسا نہیں ہے۔
ابھی حال ہی میں جینیاتی ترتیب نے ان نتائج کی تصدیق کی ہے۔ اس کے بجائے وہ ویکسین جو چیچک کو ختم کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی اور جو آج کل منکی پاکس کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں، ایک نامعلوم وائرس پر مبنی ہیں جس کی کوئی شناخت نہیں کر سکا ہے، ایک ’گھوسٹ‘ جرثومہ جو ویکسین کی شکل میں ہی پایا گیا۔
دہائیاں گزر جانے کے باوجود کوئی نہیں جانتا کہ کیسے اور کیوں یہ چیچک کی ویکسین میں آیا یا پھر یہ کہ یہ اب بھی کھلی فضا میں کہیں موجود ہے یا نہیں۔ اس کے بغیر حالیہ منکی پاکس کا مرض شاید بہت زیادہ تیزی سے پھیلتا۔
جرمنی کے رابرٹ کوچ انسٹیٹیوٹ کے وائرولوجسٹ اور فیلو ہوزے ایسپارزا کہتے ہیں کہ ’کئی برسوں تک، تقریباً 1939 تک، لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جسے ہم ویکسینیا یا چیچک کی ویکسین کہتے ہیں، وہ کاؤپاکس جیسی تھی۔ پھر پتہ چلا کہ وہ مختلف تھی۔ اور تب سے ہم نے تسلیم کیا کہ کاؤپاکس ایک الگ وائرس ہے اور ویکسینیا ایک نامعلوم دوسرا وائرس ہے۔‘
یہ کیسے ہوا؟ یہ وائرس کہاں سے آیا ہو گا؟ اور کیا ہم اسے اس کے قدرتی ماخذ میں تلاش کر سکیں گے؟
انگریزی مصیبت
دنیا بھر میں جس شخص کو بنیادی طور پر اس ویکسین کی ایجاد کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے وہ سفید بالوں والے سرجن ایڈورڈ جینر ہیں جنھوں نے 1796 میں اپنی اس دریافت کا اعلان کیا۔
انھوں نے یہ کیسے کیا اس کی ایک زبردست کہانی ہے جس میں خوبصورت دودھ دھونے والی ملازمہ، کھوج کے لمحات اور اخلاقی طور پر قابل اعتراض تجربات شامل ہیں۔ لیکن یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ مکمل طور پر درست نہیں ہے۔
سب سے زیادہ بیان کی جانی والی کہانی یہ ہے کہ ایڈورڈ جینر نے غور کیا کہ دودھ دھونے والی ملازماؤں کی جلد غیر معمولی طور پر صاف ہوتی ہے۔ چیچک سے صحتیاب ہونے والوں میں سے 85 فیصد تک کے چہرے پر نمایاں داغ رہ جاتے تھے۔ انھوں نے محسوس کیا کہ جو لوگ اپنے کام کے دوران کاؤ پاکس کی ہلکی سی بیماری سے متاثر ہو گئے تھے ان میں چیچک کا شکار ہونے کے امکانات نسبتاً کم تھے۔
اس کو ثابت کرنے کے لیے، انھوں نے ایک نامعلوم آٹھ سالہ لڑکے کو پہلے کاؤ پاکس وائرس سے متاثر کیا، اور پھر جان بوجھ کر اسے چیچک کا وائرس لگایا تاکہ دیکھ سکیں کہ وہ اب بھی حساس ہے اور بیمار ہو جائے گا، خوش قسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
درحقیقت یہ غیر متوقع دریافت تقریباً تین دہائیاں قبل ایک گاؤں کے ڈاکٹر کے ذریعے ہوئی تھی جو گلوسیٹر شائر کی مارکیٹ میں حال ہی میں منتقل ہوا تھا۔ وہاں جان فیوسٹر نے چیچک کاری کا انتظام کر رکھا تھا، یہ لوگوں کو چیچک سے بچانے کا ایک قدیم طریقہ ہے جس میں ایک صحت مند شخص کے بازو پر کٹ لگا کر اس میں متاثرہ شخص کے چیچک کے دانے کی پیپ رگڑی جاتی ہے۔
اس طریقہ علاج کو صدیوں سے ایشیا بھر میں انڈیا سے تبت تک استعمال کیا جاتا تھا لیکن یورپی باشندے اس سے اس وقت لاعلم تھے جب تک اسے استنبول میں لیڈی میری ورٹلے نے سیکھا نہیں تھا۔
اگر سب ٹھیک رہتا تو اس طریقے کے نتیجے میں جسم پر صرف ایک نشان رہ جاتا جو اس جگہ پر ہوتا جہاں چیچک کا ٹیکا لگا ہے، اور اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اس شخص کے جسم نے چیچک کے وائرس کی پہچان سیکھ لی ہے۔ لیکن کسی گڑبڑ کا مطلب وائرس کا پورے جسم میں سرایت کرنا ہوتا، جیسا کہ دو سے تین فیصد لوگوں کو ہو جاتا تھا، اور ایسی صورت میں اکثر مریض ہلاک ہو جاتے تھے۔
یہ طریقہ ناکام رہا تھا۔ فیوسٹر حیران تھے۔ پھر ایک دن ایک کسان نے بتایا کہ اسے کاؤفاکس سے متاثر کیا گیا ہے، جس کا مطلب تھا کہ اس کے جسم میں امیونیٹی یا مدافعت پیدا ہو چکی ہے۔
14 مئی 1796 کو جینر نے ڈیری فارم پر کام کرنے والی ایک عورت کے دانے سے کاؤپاکس کی پیپ جمع کی۔ اسی سے اس آٹھ برس کے لڑکے کو ویکسینیٹ کیا گیا۔ چھ ہفتے بعد جینر نے دیکھا کہ اس لڑکے کے جسم پر جہاں ٹیکا لگا تھا ایک چھوٹی سی پھنسی نکل آئی ہے۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ تکنیک کامیاب ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مگر سنہ 1939 میں اس طریقے میں بھی رکاوٹ پیدا ہو گئی۔
جب سائنسدانوں نے کاؤپاکس کی اینٹی باڈیز کو سمال پاکس پر ٹیسٹ کیا جو خیال تھا کہ اسی سے بنی ہے، تو انھیں پتا چلا تو وہ ایک جیسی نہیں تھی، بلکہ یہ دونوں بالکل مختلف وائرس تھے۔
کاؤپاکس کی وبا عام نہیں تھی۔ اس لیے زیادہ مقدار میں پیپ جمع کرنا بھی مشکل تھا۔ جینر کے پہلے تجربے کے بعد وہ دو برس تک مزید تجربات نہ کر سکے کیونکہ یہ مرض علاقے سے وقتی طور پر غائب ہو گیا تھا۔
ابتدا میں جینر کا ویکسینیشن کا طریقہ یہ تھا کہ وہ جس شخص کو کاؤپاکس لگاتے تو اسی شخص سے پیپ لے کر دوسرے شخص کو لگا دیتے۔ اس طرح یہ سلسلہ آگے بڑھتا۔ اس وقت نہ تو ویکسین کی جراثیم سے پاک شیشیاں دستیاب تھیں اور نہ انھیں جراثیم سے پاک کرنے کا کوئی طریقہ تھا۔
ایک طریقہ یہ اپنایا جانے لگا کہ دھاگے کو وائرس کے محلول میں بھگو کر خشک کر لیا جاتا تھا۔ اس طرح ویکسین کو دنیا کے دور دراز علاقوں تک پہنچایا جانے لگا۔ سنہ 1800 میں جینر نے ایک ایسا ہی دھاگہ 2,272 میل دور نیوفاؤنڈ لینڈ بھیجا تھا جس کی مدد سے سینکڑوں افراد کو ویکسین لگائی گئی۔
مگر یہ طریقہ زیادہ قابلِ اعتبار نہیں تھا کیونکہ اگر سلسلہ کسی جگہ پر ٹوٹ جاتا تو سارا عمل پھر سے شروع کرنا پڑتا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ ایک اور کاؤپاکس زدہ گائے کو ڈھونڈا جائے۔
ایک حل یہ تھا کہ ایسے جانوروں کی تعداد بڑھائی جائے، اور گھوڑے بھی یہ مسئلہ حل کر سکتے تھے۔ یہ بات جلد ہی واضح ہوگئی تھی کہ گھوڑوں سے حاصل کردہ پاکس وائرس بھی اتنا ہی مؤثر ہے جتنا کہ گائے سے حاصل کردہ پاکس وائرس۔
سنہ 1817 میں جینر وائرس زدہ افراد سے مواد حاصل کر کے اسے دھاگے کی بجائے سونے کے نشتروں پر محفوظ کر کے لندن میں نیشنل ویکسینیشن اسٹیبلشمنٹ بھیجا۔ یہاں سے اسے دوسرے ڈاکٹروں کو بھیجا گیا۔ کیا یہ ہی وہ وقت ہو سکتا ہے جب کاؤپاکس کی جگہ ہارس پاکس نے لی؟ یا یہ وائرس ہمیشہ سے ہارس پاکس ہی تھا جو بعد میں کاؤپاکس میں بدل گیا تھا۔
غیر متوقع موڑ
اگرچہ یہ بہت پرانی بات ہو گئی ہے مگر اب بھی چیچک کی پرانی ویکسین کی نشانیاں دنیا کے مختلف عجائب گھروں میں نظر آ جاتی ہیں۔
سائنسدانوں نے ایسے ہی ایک نمونے سے اس وائرس کا مکمل ڈی این اے (جینوم) حاصل کیا ہے۔ ایسپرزا کہتے ہیں: ’یہ ویکسینیں سو برس سے زیادہ سے عام درجہ حرارت پر رکھی گئی تھیں۔ ان کا تجزیہ جدید تکینک کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔‘
یہ وائرس سنہ 1976 میں منگولیا میں ملنے والے ایک نمونے میں پایا گیا تھا۔ ایسپرزا کا کہنا ہے کہ ’ہارس پاکس کا یہ ہی ایک سیکوینس ملا ہے۔ اس کے بعد سے ایسے 31 نمونوں کا تجزیہ کیا گیا مگر کاؤپاکس کسی میں بھی نہیں تھا۔‘
دوسری ٹیموں کی تحقیق کے نتائج بھی اس سے ملتے جلتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس لیے لگتا ہے کہ 19ویں صدی اور 20ویں صدی کے اوئل کی ویکسینیں ہارس پاکس سے بنائی گئی تھیں۔ یا تو کاؤپاکس کبھی استعمال ہی نہیں کیا گیا یا پھر جلد ہی اسے بدل دیا گیا۔ البتہ یہ معمہ یہاں ختم نہیں ہو جاتا۔
ایسپرا کہتے ہیں، ’ایک بھید سے اب بھی پردہ نہیں اٹھا ہے۔‘ ان کی ٹیم کو بھی ایسی شہادتیں ملی ہیں جن کے مطابق چیچک کی روک تھام کے لیے مختلف مواد کو استعمال کیا گیا تھا۔
یہ ہارس پاکس سے نہیں لیا گیا تھا۔ بلکہ اس کا ڈی این اے مختلف قسم کا تھا۔
گم گشتہ وائرس
ایسپرزا کی نظر میں سمال پاکس ویکسین میں اچانک اس تغیر کا سبب اُن کی تقسیم میں اختلاف کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ان کے مطابق ویکسین کی ایجاد کے پہلے سو برس کے دوران انسانی بازو سے انسانی بازو میں منتقل ہوتا تھا۔ ’1860 میں اٹلی اور فرانس کے سائنسدانوں نے جانوروں سے حاصل شدہ ویکسین متعارف کروائیں، بجائے اس کے کہ وہ انسان سے انسان کو منتقل ہو۔ انھیں پتہ چلا کہ اسے واپس گائیوں منتقل کرنے کے بعد برقرار رکھا جا سکتا ہے۔‘ ویکسین کی بڑے پیمانے پر پیداوار کا عمل دیگر جانوروں تک پھیلا دیا گیا جن میں بھیڑیں، گھوڑے اور گدھے شامل تھے۔
جیسا کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک نامعلوم جانور سے حاصل کردہ وائرس کو چیچک یا سمال پاکس ویکسین کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ یہ معلوم نہیں کہ ایسا کس نے اور کیسے کیا، مگر ممکن ہے کہ ایسا محض حادثاتی طور پر ہو گیا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ کسی نے یہ ویکسین ایسے مواد سے تیار کی ہے جس کے بارے میں اس کا خیال ہو کہ یہ گائے یا گھوڑے سے حاصل کیا گیا ہے، مگر درحقیقت وہ کسی نامعلوم جانور سے لیا گیا تھا۔ چونکہ اس کی کارکردگی بہت اچھی تھی اس لیے کسی نے اس پر زیادہ غور نہیں کیا۔
سنہ 1930 کے بعد کسی وقت یہ پُر اسرار وائرس زیادہ عام ہو گیا، اور 20ویں صدی کے وسط تک اس کی مختلف اقسام دنیا بھر میں گردش کرنے لگیں۔ 1966 میں عالمی ادارۂ صحت نے چیچک کے خاتمے کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا اور اس مقصد کے لیے صرف 6 اقسام کی ویکسینوں کا انتخاب کیا۔ ہر گزرتی دہائی کے ساتھ یہ نامعلوم وائرس زیادہ مضبوط ہوتا چلا گیا۔
مگر اب یہ کہاں ہے اور اب تک اس کے قدرتی میزبان کا پتا کیوں نہیں لگ سکا ہے؟

،تصویر کا ذریعہWellcome Trust
اگرچہ منکی وائرس کے ظہور سے لگ سکتا ہے کہ پاکس وائرس پھلتے پھولتے رہے ہیں مگر خاصے عرصے سے ان کی کئی اقسام کو ختم ہو جانے کا خطرہ لاحق تھا، اور سمال پاکس شاید اکیلا ایسا وائرس نہ ہو جو دنیا سے ختم ہو گیا ہے۔
خیال کیا جاتا تھا کہ ایک زمانے میں یورپ کے بعض حصوں میں ہارس پاکس کی وبا باقاعدگی سے پھوٹ پڑتی تھی، بلکہ شاید عام تھی، مگر 1976 کے بعد سے یہ جنگلی حیات میں بالکل نہیں پایا گیا۔ جب منگولیا میں گھوڑے بیمار پڑتے تھے تو ان میں بخار اور ایسی ہی دوسری علامات ظاہر ہوتی تھیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جانوروں کے لیے حفظان صحت کی بہتر سہولیات اور بہتر تشخیص کے نتیجے میں یہ صفحۂ ہستی سے بالکل مٹ گیا ہو۔
ایسپرزا کا کہنا ہے کہ ’بنیادی طور پر ہارس پاکس 20ویں صدی کے شروع میں یورپ سے غائب ہو گیا تھا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ سمال پاکس کی ویکسین میں استعمال ہونے والے پراسرار وائرس کا انجام بھی ایسا ہی ہوا ہو۔ وہ کہتے ہیں: ’ہم نے اس امکان کے بارے میں سوچا تھا۔‘
البتہ ایسپرزا نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس سلسلے میں کافی تحقیق نہیں کی گئی۔ چیچک یعنی سمال پاکس کے خاتمے کے بعد اس سے متعلقہ وائرسوں کی اقسام میں لوگوں کی دلچسپی ختم ہو گئی۔
ایسپرزا کے خیال میں ’(منکی پاکس) موجودہ علم میں اضافے کا باعث ہو گی، یعنی کام میں مقابلہ زیادہ ہو جائے گا۔‘
ایک نیا استعمال
در اصل وہ پراسرار وائرس پہلے کے مقابلے میں زیادہ کارآمد ہے۔
منکی پاکس، سمال پاکس کا قریبی رشتہ دار ہے جو عام طور پر استوائی سینٹرل افریقہ میں پایا جاتا ہے، جہاں روڈینٹ (بِل بنا کر رہنے والے جانور) اور بن مانس کی نسل کے جانور اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا پکڑنا قدرے دشوار ہے، اور یہ زیادہ تر جسمانی رطوبتوں اور متاثرہ چیزوں، جیسا کے بستر وغیرہ، کے استعمال سے منتقل ہوتا ہے۔ چیچک کے برعکس منکی پاکس بہت کم جان لیوا ہے، تاہم زیادہ شدید کیسوں کے بارے میں بھی رپورٹس آئی ہیں جو جنسی طور پر لگنے والے انفیکشن سے ملتے جلتے ہیں۔ اس میں عام طور پر بخار ہوتا ہے جس کےبعد جلد پر آبلے نکل آتے ہیں جن میں پیپ بھر جاتی ہے اور یہ بہت زیادہ درد کرتے ہیں۔
منکی پاکس کا وائرس پہلی بار 1970 میں ملا تھا اور زیادہ تر انفیکشن افریقہ تک محدود تھے۔ مگر مئی 2022 میں یہ دنیا بھر میں پھیلنے لگا۔ اس طرح سے پھیلاؤ کی کوئی مثال پہلے نہیں تھی۔ کئی ملکوں نے اس رفتار پر قابو پانے کے لیے دو ویکسینوں کی لاکھوں خوراکیں منگوائی ہیں۔ یہ دونوں اسی وائرس کی بعد کی شکلیں ہیں جس سے 1930 کی دہائی میں چیچک پھیلی تھی۔
پہلی قسم JYNNEOS ویکسین ہے۔ یہ نئی اور قدرے محفوظ قسم پرانی سمال پاکس ویکسین سے حاصل کردہ ہے اور 1960 کے عشرے میں حادثاتی طور پر تیار ہو گئی تھی۔
دوسری ویکسین ACAM2000 ہے جو منکی پاکس کی روک تھام میں زیادہ استعمال نہیں کی جاتی۔ یہ پہلی مرتبہ سنہ 2000 میں تیار کی گئی تھی۔ اور ویکسینیا کی اسی قسم سے بنائی گئی تھی جو سمال پاکس کے خاتمے کے لیے استعمال کی گئی تھی۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں اسے ذخیرہ کیا گیا تاکہ اگر دہشت گردوں نے چیچک کا حملہ کیا تو اسے ہنگامی طور پر روکا جا سکے۔
ACAM2000 ویکسین منکی پاکس کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے، مگر ابھی اس کی باقاعدہ منظوری نہیں دی گئی ہے۔ اگرچہ یہ زیادہ تر افراد کے لیے بالکل محفوظ ہے مگر اس میں بھی کچھ خطرات ہیں۔ یہ انسانی جسم میں اپنی نقل تیار کر سکتی ہے اس لیے یہ ان افراد کے لیے موزوں نہیں ہے جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے۔
جولائی 2022 میں امریکہ نے چیچک کی دونوں ویکسینوں کی سات ملین کے قریب خوراکوں کا آرڈر دیا تھا، جو اگلے برس تک تیار ہوں گی۔ مگر اس کی وجہ سے عالمی سطح پر اس کی قلت واقع ہو گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ منکی پاکس کی وبا اس سبب سے شروع ہوئی کہ ہم نے سمال پاکس کی ویکسینیشن بند کر دی تھی۔
ایسپرزا کہتے ہیں، ’اس وقت ہم جو کچھ منکی پاکس سے متعلق دیکھ رہے ہیں بہت دلچسپ ہے۔ سمال پاکس کے بارے میں 1980 میں اعلان کیا گیا تھا کہ دنیا سے ختم ہو گئی ہے۔ اور اس کے بعد سے اکثر ملکوں کے اندر چیچک کی ویکسینیشن بند کر دی گئی تھی، اور لوگوں کے اندر پاکس وائرسوں کے خلاف مدافعت کمزور پڑ گئی تھی۔ اور شاید دنیا میں منکی پاکس کے ظاہر ہونے کا سبب یہ ہی ہے۔‘
دیگر وائرس بھی شاید موقع کا فائدہ اٹھا رہے ہوں۔ اگرچہ کاؤپاکس اب گائیوں میں کم پائی جاتی ہے لیکن روڈینٹس میں ابھی موجود ہے۔ اور چونکہ 1970 کی دہائی میں سمال پاکس کی ویکسین بند کر دی گئی تھی اس لیے اب بچوں میں زیادہ سے زیادہ کیس ظاہر ہو رہے ہیں۔
تو ویکسینیا کے لیے ڈیمانڈ اب بھی موجود ہے۔ مگر کیا کبھی یہ پتا چل سکے گا کہ پاکس وائرس آیا کہاں سے تھا۔ ایسپرزا کو اس بارے میں شک ہے۔ ’ہمارے پاس اب بھی جوابات کے مقابلے میں سوالات زیادہ ہیں۔‘
سمال پاکس یعنی چیچک کی ویکسین جس چیز سے بھی بنی ہو، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس کے بغیر دنیا بہت مختلف ہوتی۔










