زیرزمین سڑکوں کا تصور جو ٹریفک اور ماحولیاتی اثرات سے بچاؤ کا سبب بن سکتا ہے

سنہ 1863 میں لندن کی گلیوں میں ٹریفک کو کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں دنیا کی پہلی زیر زمین لائن میٹرو پولیٹن ریلوے کا آغاز کیا گیا۔ اس کے بنائے جانے کی تحریک دو دہائیاں قبل دریائے ٹیمز کے نیچے بننے والی ایک سرنگ بنی جو جلد ہی پیدل چلنے والوں اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئی۔

ابتدا میں تو لندن میں بنایا گیا انڈر گراؤنڈ پٹریوں پر مشتمل تھا جو سطح زمین سے تھوڑی نیچے کھودی گئی تھیں اور ان کو اوپر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ لیکن جیسے جیسے ٹیکنالوجی میں جدت آئی ٹرین کے انجن سٹیم کے بجائے بجلی سے چلنے لگے اور زیر زمین بچھی لائنیں مزید گہری ہوتی چلی گئیں۔

اب اہلِ لندن اپنے قدموں تلے ہلکی سی تھراہٹ ٹیوب لائنز کے اس وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے محسوس کرتے ہیں جو ان کی نظروں سے پرے مسافروں کو تیزی اور مہارت سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتا ہے۔

بریڈے گیرٹ، یونیورسٹی کالج ڈبلن میں کلچرل جیوگرافر ہیں۔ وہ زیر زمین لندن کے حوالے سے کتاب ’سبٹرینیئن لندن‘ کے مصنف ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ انفراسٹرکچر کو زیر زمین رکھنے میں بہت کشش تھی۔ ’انسان ان چیزوں کو پسند کرتے ہیں جو پس منظر میں چل رہی ہوتی ہیں۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کہ سب کچھ بے عیب اور بہترین طریقے سے ہو رہا ہے۔ اس کے بارے میں تقریباً سبھی کچھ جادوئی ہوتا ہے۔‘

ٹرینز، پاور لائنز، کیبلز اور سیورج کی لائنوں کے علاوہ انفراسٹرکچر کا ایک اور حصہ ہے جس کے بارے میں بہت لوگوں کی خواہش ہے کہ یہ بھی زیرزمین چلا جائے اور وہ ہیں سڑکیں۔

دنیا بھر میں سڑکوں کے جال کی لمبائی چھ کروڑ 40 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ بتائی جاتی ہے اور ترقی پذیر ممالک میں ابھی اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

جیسے جیسے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہو رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگ گاڑی رکھنے کے قابل ہو رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سنہ 2040 تک گاڑیوں کی تعداد دو بلین تک ہو جائے گی جس سے ٹریفک کا مجموعی لیول 50 فیصد سے بڑھ جائے گا۔

ٹریفک کا ہجوم نہ صرف وقت کے ضیاع کا باعث بنتا ہے، امریکی ڈرائیورز اوسطاً ہر سال 54 گھنٹے ٹریفک میں پھنس کر گزراتے ہیں، بلکہ یہ ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اس دوران زیادہ ایندھن جلتا ہے، کاربن کا اخراج ہوتا ہے اور فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ صوتی آلودگی بھی ہوتی ہے۔

ٹیسلہ کے بانی ایلون مسک نے سنہ 2018 میں کہا تھا کہ ٹریفک روح کو تباہ کرتی ہے، یہ روح کے لیے تیزاب کی مانند ہے۔

انھوں نے ان خیالات کا اظہار ٹنل بنانے والی اپنی فرم، بورننگ کمپنی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ایلون نے کہا ’بالآخر کوئی چیز ہے جو کہ میرے خیال سے اس ٹریفک کے مسئلے سے نجات دلا سکتی ہے۔ بہتر شاہراہوں کے لیے کھدائی کریں اور سڑکوں کو زیر زمین بنائیں۔‘

ایلون مسک سمیت کسی نے بھی یہ تجویز نہیں دی کہ دنیا کی ہر شاہراہ کو زیر زمین کر دیں۔

لیکن اگر ہم ان سب کو زیر زمین منتقل کر دیں تو کیا ہو گا؟

ایسے وقت میں جب شہری علاقوں میں اضافہ ہو رہا ہے، عدم توازن بڑھ رہا ہے اور ماحولیاتی بحران ہے، اس کے اثرات کا تصور اس بارے میں اہم سوالات اٹھا سکتا ہے کہ عالمی ٹرانسپورٹ سسٹم کیسے پروان چڑھ رہا ہے۔

دنیا میں اگر زمین کی سطح پر سڑکیں نہ ہوں تو اس کا فوری اثر تو یہ ہو گا کہ پوری دنیا میں بہت زیادہ فالتو جگہ ہو گی۔

دیہی علاقوں میں اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ زیادہ زمین کاشت کاری کے لیے دستیاب ہو گی یا پھر قدرتی خطوں کی مانند ہو جائے گی، جنگلی حیات بڑھانے میں مدد ملے گی اور اس سے ہوا سے کاربن کے اخراج میں مدد ملے گی۔

یہ سڑکوں سے جڑے بڑے مسئلوں میں سے ایک کو بھی حل کر دے گا جو یہ ہے کہ سڑک سے زمین تقسیم ہو جاتی ہے۔

جانوروں کے لیے شاہرائیں دراصل ایک رکاوٹ ہوتی ہیں جو جانداروں کی انواع کو ایک دوسرے سے الگ کر دیتی ہیں یا پھر ان کے شکار سے دور کر دیتی ہیں۔

عالمی سطح پر سڑکوں کی توسیع کے نتیجے میں سب سے زیادہ شکار ہونے والے جانوروں کی بقا خطرے سے دوچار ہے۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق غیر قانونی شکار کی وجہ ریچھ اور ٹائیگر سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ اس تقسیم کی وجہ سے بھی کاربن کے اخراج میں تیزی آرہی ہے۔ یہ زیادہ تر جنگل کے کناروں پر ہو رہی ہے جہاں درختوں کی شرح اموات زیادہ ہے۔

الیسہ کوفن جو کہ ماحول پر تحقیق کرتی ہیں اور امریکی محکمہ زراعت سے منسلک ہیں کہتی ہیں کہ روڈ کی وجہ سے پانی کا بہاؤ بھی متاثر ہوتا ہے۔

وہ نامیامی ٹریل کے بارے میں بتاتی ہیں یہ ایک شاہراہ ہے جو ٹامپا اور میامی کو جوڑتی ہے اور اس نے سدا بہار درختوں پر تباہ کن اثرات چھوڑے تھے کیونکہ اس کے باعث پانی کا بہاؤ متاثر ہوا ہے۔

اس کی وجہ سے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور جانوروں اور درختوں پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

کوفن کا کہنا ہے کہ یہ ایک مثال ہے کہ کیسے شاہراہ کو حقیقی طور پر یہ سوچے بغیر تعمیر کیا گیا کہ اس کا کیا اثر ہو گا۔ اسی طرح جانوروں اور گاڑیوں کے درمیان ٹکڑاؤ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

سارہ پرکنز کارڈیف یونیورسٹی میں لیکچرر ہیں۔ وہ یہاں جاری پراجیکٹ سپلیٹر کی کوارڈینیٹر بھی ہیں۔

یہ پراجیکٹ سیٹیزن سائنس ریسرچ پراجیکٹ ہے جو 10 برس پرانا ہے اور یہ مانیٹر کرتا ہے کہ برطانیہ میں جنگلی حیات کیسے مر گئیں۔

سارہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں یہ رپورٹس ملتی ہیں کہ ہر سال 10 ہزار جانور مر جاتے ہیں۔‘ مگر پرکنز کا ماننا ہے کہ اصل اعداد و شمار کا یہ چھوٹا سا حصہ ہے۔

کچھ تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ صرف یورپ میں ہر سال لاکھوں جانور شاہراہوں پر حادثات کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ سڑکوں کو زیر زمین رکھنے سے جانوروں اور گاڑیوں کا ٹکراؤ کم ہو گا بشرطیکہ جانور سرنگوں کو استعمال نہ کریں۔

وہ کہتی ہیں کہ اس سے روشنی کا استعمال نہیں ہو گا اور شور بھی نہیں ہو گا اور نہ جانوروں کو تیز روشنی کا سامنا ہو گا جو شاہراہوں کے اردگرد جانوروں کے رویوں پر اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

شاہراہوں سے جان چھڑانے کے لیے ان بڑے ماحولیاتی اثرات کے باوجود یہ شہر ہی ہیں جن کے بارے میں یہ اندازہ ہے کہ سنہ 2050 تک دنیا کی 70 فیصد آبادی وہاں ہو گی۔ یہاں نئی خالی ہونے والی جگہ کا لوگوں پر گہرا اثر ہو گا۔

ٹام آئرلینڈ ایک انجینیئرنگ کمپنی آریکون سے منسلک ہیں اور وہاں سرنگیں بنانے کے شعبے میں ڈائریکٹر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں شہر کیسے بدل جائیں گے؟‘

’اگر آپ چاہتے ہیں کہ شہروں کو بدلیں تو آپ سڑک کو پیدل چلنے والوں کے لیے بنائیں۔‘

’یہ درختوں کے لیے گنجائش پیدا کرے گا، لینئرپارکس کے لیے، سڑک کے کنارے کیفے کے لیے اور بہت سی عوامی ضروریات کے لیے۔‘

بوسٹ کا بک ڈگ ایک مثال ہے۔ یہ ایک بڑا پراجیکٹ ہے، جو ہائی وے کو زیرزمین کرے گا۔ اس نے 300 ایکٹر کی کھلی جگہ بنا دی ہے۔ اس میں روز کینیڈی گرین وے بھی شامل ہے جو کہ 17 ایکڑ پر موجود ایک سرسبز پارک ہے جہاں فوارے ہیں اور نمائشوں اور میوزک فیسٹیول کا انعقاد ہوتا ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ ممکنہ طور پر پارکنگ کی جگہ بھی زیر زمین کر دی جائے گی۔

ایمسٹرڈم میں بھی ایسے ہی کیا جا رہا ہے جہاں ہزاروں پارکنگ کے لیے مختص جگہوں کو ہر سال ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

پارک اور سرسبز جگہیں کسی بھی علاقے کو زیادہ مضبوط بناتے ہیں۔ جیسے جیسے موسمیاتی بحران بڑھ رہا ہے، شدید موسمیاتی واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ سبز علاقہ کنکریٹ کی نسبت زیادہ پانی جذب کرتا ہے جس سے سیلابی صورتحال سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔

درخت درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ بڑھنے سے روکنے میں بھی دن کے اوقات میں مدد دیتے ہیں۔

آئرلینڈ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خود کو زیادہ جڑا ہوا محسوس کر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے سے جدا کمیونٹیز یا آبادیاں ایک بڑا مسئلہ ہیں اور اس کی وجہ طویل شاہراہیں ہیں۔

اسی طرح ایک دوسرے سے دور علاقے ہونے سے لوگ ضروری سروسز سے بھی کٹ سکتے ہیں جیسے کہ اشیائے ضروریہ کے سٹور، نقل و حمل کا محدود ہو جانا، آمدن میں عدم مساوات اور آبادیوں میں امتیاز ہو سکتا ہے۔

سنہ 2012 کی رپورٹ میں سیئٹل کی ہائی ویز کے اثرات کو دیکھا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ اردگرد کے علاقوں سے دوبارہ سے جڑ سکتا ہے اور اس سے گھروں کی تعمیر کے لیے چار اعشاریہ سات ملین سکوائر فٹ تک کی جگہ مل سکتی ہے۔

تاہم اس تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس سے سب کو فائدہ ملنا چاہیے تاکہ کم آمدن والے خاندانوں کو نقل مکانی نہ کرنا پڑے۔

اب پیدل چلنے والوں، دوڑنے والوں اور سائیکل چلانے والے شہر میں گاڑی رکھنے پر مجبور نہیں ہوں گے۔

راچل ایلڈریڈ کا کہنا ہے کہ فطری طور پر گاڑیوں کی وجہ سے ٹریفک لوگوں کے لیے ایک مسئلہ ہے۔

راچل برطانیہ کی ویسٹ منسٹر یونیورسٹی میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پروفیسر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پانچ سے 29 سال کی عمر کے لوگوں میں موت کی ایک بڑی وجہ ٹریفک حادثات ہیں اور تقریباً 13 لاکھ لوگ ہر سال اس کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ میں ایندھن کی بجائے الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے استعمال کا راستہ بھی کھلے گا۔ جیسے کہ ٹریمز وغیرہ۔ اور یہ زیادہ پرکشش آپشن بنے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں ڈرائیونگ کو زیادہ مشکل بنانے کی ضرورت ہے، ہمیں ایکٹو ٹریول یعنی گاڑی کے بغیر پیدل، سائیکل یا سکوٹر پر سفر کرنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کو کچھ بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا بہت سے لوگوں کے لیے زیر زمین سڑکیں ٹریفک کے مسئلے کا حل کر دیں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ایسا ہو سکتا ہے۔

ٹام آئرلینڈ کا کہنا ہے کہ اگر زمین کے اوپر شاہراہوں کو زیر زمین بنا دیا جائے تو میرا نہیں خیال کہ بھیڑ کم ہو جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ یہی وہ چیز ہے جس کی ڈیمانڈ کی جا رہی ہے۔

’شاہراہیں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں کہ وہ اسے استعمال کریں، تو پھر بھیڑ کا مسئلہ تو فقط شاہراہوں کو وسیع کرنے سے حل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔‘

اس کے لیے کوئی اور مختلف حل ہونا چاہیے۔

آٹو میٹک کاریں جو مسلسل اور کنٹرول ایبل رفتار سے چل رہی ہوتی ہیں وہ زمین پر گاڑیوں کے رکنے اور سٹارٹ کرنے کے ٹائم کے مسئلے کے حل کی صورت میں، رش میں بہتری لا سکتی ہیں۔

’آپ ایسی دنیا دیکھ سکیں گے جہاں پرائیویٹ گاڑی کی ملکیت کوئی بڑی بات نہ رہے۔ آپ اپنا فون استعمال کر کے رائڈ شیئر پر کال کر سکتے ہیں جو کہ فوری طور پر آپ کے لیے چل پڑے گی۔‘

تاہم دنیا اب خود کار گاڑیوں سے کئی برس کی دوری پر ہے جس کی وجہ سیفٹی مسائل ہیں۔ اور کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خودکار گاڑیوں کی وجہ سے ٹریفک مزید بدتر ہو سکتی ہے کیونکہ شاید لوگ بنا ڈرائیور کے کار کو پبلک ٹرانسپورٹ پر ترجیح دیں اور کار شیئر پر بھی آمادہ نہ ہوں۔

گیریٹ کا کہنا ہے کہ زیر زمین ڈرائیونگ کا تجربہ شاید آسان ہو، کیونکہ اس کے ذریعے بہت سے لوگ ناخوشگوار موسم جیسا کہ شدید گرمی یا سردی یا بارش میں زمین پر ڈرائیونگ کرنے سے کتراتے ہیں۔

’آپ ہر چیز کنٹرول کر سکتے، زیر زمین آپ اپنے لیے بہتر طور پر پلان کر سکتے ہیں۔‘

گیریٹ کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم زیر زمین جو انفراسٹرکچر بنائیں گے وہ دیر پا چلے گا۔

بروئیر کا کہنا ہے کہ زیر زمین انفراسٹرکچر کے بارے میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس کو زلزلے سے نسبتاً کم خطرہ ہوتا ہے۔

چلی میں سنہ 2010 میں شدید زلزلے کے نتیجے میں زمین کی سطح پر تو تباہی ہوئی تھی تاہم سانتیاگو میں موجود زیر زمین میٹرو سسٹم کو نہ ہونے کے برابر نقصان پہنچا تھا۔

ٹنل اور مٹی دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اس لیے زلزلے کا سرنگ کے سٹرکچر پر بہت کم اثر ہوتا ہے۔

لیکن دیگر لحاظ سے دیکھیں تو زیر زمین روڈ زیادہ پرخطر ہوتے ہیں۔ سیلابی صورتحال جو کہ بہت زیادہ عام ہوتی ہے اور یہ بھی دیکھیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا بحران شدید ہوتا جا رہا ہے۔

بروئیر کے مطابق اس صورتحال سے پیدل چلنے والوں کے لیے خطرہ ہوتا ہے۔ مسافروں کے لیے پورٹلز زمین سے کچھ میٹر اوپر ہونے چاہیے تاکہ پانی کے اندر جانے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

مثال کے طور پر بینکاک میں میٹرو سسٹم کا داخلی راستہ زمین کی سطح سے کچھ میٹر اوپر بنایا گیا ہے تاکہ اسے مون سون کے موسم میں بچایا جا سکے۔

سنہ 2001 مییں سوئٹزر لینڈ میں گوتھل ٹنل کے واقعے کے موقع پر زیر زمین اتنی آگ بھڑک اٹھی کہ اس کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھا اور گاڑیاں ایک دوسرے سے جڑ گئی۔

بروئیر کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی کمی ڈرائیوروں کو اپنی کاریں چھوڑنے کے بعد خطرناک حالات میں بھی ڈال سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ زیر زمین روڈ کے نیٹ ورک میں ہمیں لوگوں کو زمین کی سطح پر لے جانے کے لیے لفٹ یا پھر راستوں کی ضرورت ہو گی۔

اگر گاڑیاں پرائیویٹ مالکان کے پاس ہی ہوں تو لوگوں کو انھیں پارک کرنا ہو گا، یا تو گیراج میں یا ممکنہ طور پر زیر زمین سٹیشنز کے داخلی راستوں کے پاس کثیر منزلہ بلڈنگز میں اور پھر لوگ دیگر ذریعوں سے گھر پہنچیں گے۔

اگر کوئی شخص اکیلا ہو اور وہ رات دیر سے ڈرائیونگ کرے تو یہ اس کے لیے خوفناک ہو سکتا ہے۔

بروئیر کا کہنا ہے کہ سوشل سیفٹی کے لحاظ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ محفوظ نہیں ہے کیونکہ آپ کیلے ہوتے ہیں۔

لاکھوں گاڑیاں جو ایندھن پر زیر زمین چلتی ہیں وہ بھی صحت کے لیے خطرہ ہیں۔

یہاں اچانک آگ لگ جانے کی صورت میں حادثے کا خطرہ بہت اہم ہے۔ یہ زیر زمین ہونے کی وجہ سے نتائج کے اعتبار سے بھی اہم ہو گا کیونکہ وہاں آگ سے لگا دھواں خود سے باہر نہیں نکلے گا۔

گیریٹ کا کہنا ہے کہ آپ کو انخلا کے بارے میں بھی بہت سوچنا ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ سرنگوں کو بہت چوڑا ہونا چاہیے تاکہ ان سے کاریں بھی روڈ سے ہٹ کر چل سکیں اور ایمرجنسی سروسز کے لیے لوگوں کے پاس پہنچا جا سکے۔

دنیا بھر میں ہر سال تین لاکھ 85 ہزار کے قریب لوگ قبل از وقت وفات پا جاتے ہیں جس کی وجہ فضائی آلودگی ہے۔

اگر سڑکوں کا نظام زیر زمین کر دیا جائے تو اس سے گاڑیوں کی وجہ سے زمین کی فضا میں آلودگی تقریباً ختم ہو جائے گی۔ اس سے ہوا پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔

لیکن گیریٹ کہتے ہیں کہ یہ آلودگی کہیں اور منتقل ہو جائے گی۔ آپ کو ان جگہوں پر وینٹیلیشن یعنی ہوا کی تازگی کے لیے بھی بہت کچھ سوچنا ہو گا۔

بروئیر کا کہنا ہے کہ اگلی کچھ دہائیوں میں الیکٹرک گاڑیاں ہوں گی۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ آلودگی کے بہت سے پہلوؤں کو ختم کر دیں گے۔

اگرچہ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2050 تک 80 فیصد نئی بکنے والی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی لیکن پھر بھی پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کی طویل زندگی یا پائیداری کا مطلب ہے کہ یہ تب بھی زیادہ تعداد میں ہی روڈ پر ہوں گی۔

زیر زمین شاہراہیں شور کو کنٹرول کریں گی جو کہ آلودگی کی ہی ایک قسم ہے۔ یورپ میں سڑکوں پر شور آلودگی کی ایک بڑی قسم ہے۔عالمی سطح پر ماحول پر دباؤ کی یہ دوسری خطرناک قسم ہے۔

عالمی ادارہ صحت دل کے امراض، سٹریس، بلڈ پریشر اور حتیٰ کے قبل ازوقت موت کا تعلق بھی اس سے جوڑتا ہے۔ پرسکون اور گاڑیوں کے بغیر موجود علاقوں میں لوگوں کی جسمانی اور دماغی صحت میں واضح بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔

لیکن اگر ہم یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم زیر زمین سڑکوں کی تعمیرکو ترجیح دیں گے تو کیا اس پر زیادہ لاگت لگے گی؟

یہ بھی پڑھیے

گیرٹ کہتے ہیں کہ یہ موٹر وے کی نسبت زیادہ خرچ والا کام ہے۔ اس میں نہ صرف کھدائی مہنگی ہے بلکہ بہت سا پیسہ کنکریٹ پر بھی لگتا ہے۔

زیر زمین میٹرو سٹیشن بنانے میں کتنا پیسہ لگے گا اس کا انحصار اس پر بھی ہوتا ہے کہ یہ کس جگہ بنایا جا رہا ہے۔

چین، انڈیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں زیر زمین سرنگ بنانے میں فی میل لاگت اندازاً 100 سے 200 ملین امریکی ڈالر ہے۔ یورپ میں فی میل خرچ 250 سے 500 ملین ڈالر ہے اور امریکہ میں ایک اعشاریہ پانچ سے دو اعشاریہ پانچ بلین خرچ آئے گا۔

بوسٹن میں بگ ڈگ جس میں 12 کلومیٹر زیر زمین روڈ بنایا گیا ہے، اس کو تیار کرنے میں تقریباً 15 برس لگ گئے تھے۔ تقریباً اس پر 20 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ لاگت آئی ہے جبکہ اصل میں لاگت کا اندازہ دو اعشاریہ چھ بلین لگایا گیا تھا۔

اگرچہ سرنگ کھودنے کے لیے اب جدید ٹیکنالوجی موجود ہے تاہم یہ اب بھی آہستہ اور بہت احتیاط سے کرنے والا کام ہے۔

اس میں فقط مشین کی قیمت، مزدوری اور دیگر سامان ہی شامل نہیں ہے بلکہ اس میں اجازت نامے اور ماحول پر اس کے بنانے سے پڑنے والے اثرات کے جائزے بھی شامل ہیں۔

گیریٹ کہتے ہیں کہ پراجیکٹس میں زیر سطح انفراسٹرکچر سے گزرنا پڑتا ہے۔ لندن کی مثال لیں جس میں سیوریج سسٹم ہے، بجلی، پانی اور گیس کی سرنگیں ہیں۔ ٹیوب، گہرے لیول، دوسری جنگ عظیم اور سرد جنگ کی پناہ گاہیں اور اس سب سے نیچے نیا انفراسٹرکچر بشمول سپر سیوریج اور نیو کراس ریل سسٹم۔

زیر زمین جگہ کے بارے میں غلط اندازہ لگانا بھی بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔

سیئٹل میں آلاسکن وے وائے ڈکٹ کا پراجیکٹ دو سال تک تعطل کا شکار رہا۔ وجہ سرنگ کو کھودنے والی مشین میں بہت زیادہ مرمت کا کام کرنا بنی۔ ٹنل کے ٹھیکیداروں نے الزام لگایا کہ مشین کے ہیڈ نے زمین میں دبے ہوئے سٹیل کے پائپ کو نشانہ بنایا تھا۔

آئرلینڈ کہتے ہیں کہ اس پراجیکٹ پر آنے والی لاگت کنسٹرکشن کا کام ختم ہونے کے بعد رکتی نہیں ہے۔ تازہ ہوا کی فراہمی کے لیے پنکھے لگانا اور روشنی کا انتظام کرنا اس میں شامل تھا۔

انھیں 24 گھنٹوں تک چلنا ضروری ہوتا ہے، مسلسل ایندھن کی فراہمی، آپریٹرز کو آگ اور کسی اور خطرے سے نمٹنے کے لیے سسٹم کو مانیٹر کرنا ہوتا ہے۔

حکومتیں کوشاں ہوتی ہیں کہ وہ اس بڑے مالی خرچے کو اٹھا سکیں۔ کچھ پیسہ تو ٹول فری کے ذریعے لیا جاتا ہے۔

جان میٹیوٹ جو کہ ٹرانسپورٹ کی تعلیم سے متعلق ادارے یو سی ایل اے میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں کا کہنا ہے کہ بہت سی شاہراہیں عوام کے لیے ہیں، حکومت کچھ مہنگے شہروں میں اپنی زمین بیچتی ہے تاکہ تعمیراتی فنڈ کے لیے مدد مل جائے۔

ایلڈرڈ کہتے ہیں کہ حکومتیں کھربوں روپے انفرادی سطح پر کاروں کے لیے سسٹم پر خرچ کرتی ہیں، مثال کے طور پر ٹیوب جیسے میٹرو نیٹ ورک ہونے کا مطلب ہو گا کہ ایک ایسی چیز پر بہت بڑی رقم مختص کرنا جو فطری طور پر زیادہ موثر نہیں ہو گی۔

یہ ہر مسافر کے لیے فی میل سستا ہو گا کہ وہ پرائیویٹ گاڑیوں کی بجائے زیادہ وسعت والی گاڑی استعمال کرے جیسا کہ ٹرین یا بس۔

کار کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر مزید شاہراہوں کے لیے جگہ کی پہلے سے موجود ضرورت کو کم کر سکتا ہے۔

اب بھی بجٹ کو زیر زمین بڑے پراجیکٹس کی طرف موڑنے سے دیگر پبلک سروسز بشمول پبلک ٹرانسپورٹ کو نقصان ہو گا۔ ماس ٹرانزٹ سسٹم کو پہلے ہی بہت سے ممالک میں نہ چاہتے ہوئے کم فنڈ فراہم کیے جا رہے ہیں، یہ مزید برے حالت کا شکار ہو سکتا ہے۔

اس سے عدم مساوات پیدا ہو گی خاص طور پر کم آمدن والے ممالک میں جہاں وہ لوگ جو اپنی گاڑی نہیں لے سکتے وہاں لوگوں کو مجبوراً ایسی سروسز ہر انحصار کرنا پڑے گا جو نہ صرف قابل بھروسہ نہیں ہوں گی بلکہ وہ غیر محفوظ بھی ہوں گی۔

میٹیوٹ کہتے ہیں کہ اس سب کا مطلب یہ ہے کہ زیر زمین سڑکوں کو بنانے کا فائدہ انفرادی ہو گا۔

’لوگوں کے پاس اپنی ذاتی گاڑی کی صورت میں ایک نجی جگہ ہو گی جس سے وہ زیر زمین نیٹ ورک تک رسائی حاصل کر لیں گے۔۔۔ زیادہ تر فوائد نجی ہیں۔‘

کم پیچیدہ اور نسبتاً مہنگی پالیسیاں، جیسا کہ پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں پر بھیڑ کے اوقات میں لگائے جانے والے چارجز گاڑیوں کے کم استعمال میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس سے آلودگی کا لیول بھی کم ہو گا اور مزید پارکس، درخت اور سرسبز مقامات اور درختوں کو لگانے کے لیے پیسہ بھی اکھٹا ہو سکے گا۔

ہمارے ماحولیاتی نظام اور جانور پر سڑک کے اثرات کو کچھ اقدامات کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے جیسا کہ جانوروں کے لیے پل بنانا یا پھر پانی کے بہاؤ کو متاثر نہ کرنے کے لیے زمین کی سطح سے اونچی شاہرائیں بنانا۔

کافن کہتے ہیں کہ فلوریڈا کی تمیامی ٹریل پر پہلے سے ہی کچھ ایسا ہو رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ کچھ شاہراہیں ایسی ہیں جنھیں جانوروں کی نقل مقانی کے وقت بند بھی کیا جا سکتا ہے۔

میٹیوٹ کہتے ہیں کہ کسی بھی تجویز کو جانچتے ہوئے جو سوال پوچھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ مذکورہ پراجیکٹ کس کے مسائل کو حل کر رہا ہے؟

ہم شہروں کو کیسے آپریٹ کرتے ہیں جب یہ سوال آتا ہے تو بہت سے سماجی مسائل سامنے آتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے کبھی بھی کوئی ایک سادہ سا حل نہیں ہو گا۔