آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’اومواموا‘: خلا میں ملنے والے اجنبی اجسام جو سائنسدانوں کو حیرت میں مبتلا کیے ہوئے ہیں
وہ اکتوبر 2017 میں خلا کے اُس پار سے اُبھر کر سامنے آیا اور ہوائی کی ایک آبزرویٹری (رصد گاہ جہاں سے اجرام فلکی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے) کی ٹیلی سکوپ پر ایک روشن نکتے کی طرح نمودار ہوا۔
خلا میں 57 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے یہ اجنبی چیز ’ویگا‘ کی سمت سے آئی تھی۔ ویگا ایک اجنبی ستارہ ہے جو ہماری زمین سے 237 کھرب کلومیٹر دور ہے۔
اس اجنبی چیز کی ہئیت لمبے سگار کی طرح کی تھی جو ایک غیر معمولی جہاز جیسی ڈسک کی شکل میں ڈھلا ہوا تھا۔ جب تک یہ اجنبی چیز انسانوں کی مشاہدے میں آئی تب تک یہ ہمارے نظام شمسی میں موجود سورج کے سامنے سے گزر چکی تھی اور اس نے بالوں میں لگانے والی پن کی طرح یو ٹرن لے کر ایک مختلف سمت میں سفر شروع کر دیا تھا۔
اس عجیب و غریب خلائی شے کا نام ’اومواموا‘ رکھا گیا جس کا ہوائی میں بولی جانے والی زبان میں مطلب ہے ’دور سے آنے والا پیغام رساں۔‘
ہوائی یونیورسٹی میں ماہر فلکیات رابرٹ ویرک نے سب سے پہلے اس کا پتہ لگایا تھا اور اس خلائی شے کی رفتار جان کر انھیں فوراً ہی علم ہو گیا تھا کہ یہ شے علم طبیعیات کے لیے ایک نئی چیز ہے۔ یہ کوئی عام دم دار ستارہ یا سیارچہ نہیں تھا بلکہ یہ دور دراز کسی نامعلوم شمسی نظام سے آنے والی کوئی چیز تھی۔
درحقیقت یہ دور کی دنیا سے آنے والی وہ پہلی چیز ہے جو ہمارے علم میں آئی ہے اور جس کا ہم نے مشاہدہ کیا ہے۔ یہ بات بہت جلد ہی واضح ہو گئی کہ ’اومواموا‘ نامی یہ خلائی چیز جو کسی انجان دنیا سے آئی ہے اور اسی مناسبت سے یہ تھی بھی اُتنی ہی عجیب و غریب۔ سائنسدانوں کو اس سے جڑے دو حقائق میں سب سے زیادہ دلچسپی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سب سے پہلے اس کی وہ پراسرار رفتار تھی جو سورج سے دور جاتے ہوئے مشاہدے میں آئی۔ اور اس رفتار کی وجہ سے اس کے بارے میں نظریہ قائم کرنا مشکل تھا کہ یہ شے کس مادے کی بنی ہوئی ہے۔
دوسری بات اس کی عجیب و غریب شکل تھی۔ کچھ اندازوں کے مطابق یہ چیز جتنی چوڑی ہے اُس سے 10 گنا لمبی ہے۔ اومواموا سے پہلے خلا میں ملنے والی اس طرح کی لمبوتری چیز جتنی چوڑی تھی اس سے صرف تین گنا ہی زیادہ لمبی تھی۔
اس کی دریافت کے بعد آنے والے برسوں میں سائنسی جریدوں اور عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں اس کے بارے میں قیاس آرائیاں نظر آئیں۔
کیا یہ ٹھوس ہائیڈروجن کا ٹکڑا تھا؟ کیا یہ کائنات میں گردش کرتی ’دھول (خاک) کا ملغوبہ‘ تھا؟ یا جیسا کہ ہارورڈ کے ماہر فلکیات آوی لوئب نے کہا کہ یہ ایک مصنوعی طور پر بنائی ہوئی چیز ہے جسے کائنات کے کسی حصے میں ایک ذہین اجنبی تہذیب نے تیار کیا ہے؟
حیرت میں مبتلا کرنے والا مہمان
سائنسدان کئی دہائیوں سے اس شبے کا اظہار کرتے آئے ہیں کہ ایسا ممکن ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں باقاعدگی سے ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں تک سفر کرنے والے ایسی اشیا آتی جاتی رہی ہوں گی جن میں سے بہت ساری اربوں سالوں تک ایک ستارے سے دوسرے ستاروں کے درمیان گھومتی رہی ہوں گی۔
لیکن چونکہ آج کل ہر رات سینکڑوں جدید آلات آسمان کی نگرانی کر رہے ہوتے ہیں، جن میں قطب جنوبی میں شدید برفباری میں لگے ٹیلی سکوپ سے لے کر چلی کے اینڈیس پہاڑی سلسے میں سورج کی کرنوں سے پُرنور ایٹاکاما لارج ملی میٹر ارے (الما) شامل ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی نے بھی اس سے پہلے ایسی ساخت کی کسی چیز کا مشاہدہ نہیں کیا تھا۔
پھر ’اومواموا‘ کے نمودار ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد کچھ ایسا ہوا جو بالکل غیر متوقع تھا: انھیں ایک اور ایسی ہی چیز مل گئی۔
سنہ 2019 میں اگست کی 30 تاریخ کو انجینئر اور شوقیہ ماہر فلکیات جنناڈی بوریسوف نے اپنی ذاتی آبزرویٹری میں اپنی ہی بنائی ہوئی ٹیلی سکوپ سے الصبح آسمان پر ایک چیز کا حرکت کرتے ہوئے مشاہدے کیا۔ انھیں پہلی ہی نظر میں احساس ہو گیا کہ یہ کوئی خاص چیز ہے۔ یہ دم دار ستاروں سے مختلف سمت میں سفر کر رہی تھی جو عام طور پر نظام شمسی کو گھیرنے والے سیارچوں کی پٹی میں نظر آتے ہیں۔
اسے دریافت کرنے کی وجہ سے اس کا نام ان کے اعزاز میں 2 آئی/ بوریسوف رکھا گیا۔
اس کے بارے میں شک ہے کہ یہ ایک دم دار ستارہ ہے جو کسی ستارے کا پابند نہیں ہے۔ تو یہ کہاں سے آیا؟ اور یہ ہمیں کسی دوسرے اجنبی شمسی نظام کے بارے میں کیا بتا سکتا ہے؟ اور ہمیں اس کا مشاہدہ کرنے کے اور کتنے مواقع ملنے کی امید کرنی چاہیے؟
یہ جاننے کے لیے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ اجسام کس چیز سے بنے ہیں۔
ایک پراسرار صورتحال
اومواموا کی فی الحال ایک دم دار ستارے یا سیارچے کے طور پر قطعی طور پر درجہ بندی نہیں کی گئی ہے کیونکہ یہ بالکل ہی کچھ اور ہو سکتا ہے۔ لیکن سائنس دانوں نے ہمیشہ قیاس کیا ہے کہ کہکشاؤں کے درمیان سفر کرنے والی زیادہ تر چیزیں دم دار ستارے ہو سکتی ہیں۔
ہمارے اپنے نظام شمسی کے دور درازحصوں میں واقع کچھ دم دار ستارے سورج کی کشش ثقل کی گرفت میں آنے سے پہلے ممکن ہے کہ اصل میں مختلف کہکشاؤں کے درمیان سفر کرتے رہے ہوں گے۔
تاہم زیادہ تر دم دار ستاروں کی ’دم‘ ہوتی ہے۔ روشن دھواں خارج کرنے والی دم، جو ان کے پیچھے چلتی ہے اور جو اس وقت بنتی ہے جب وہ سورج کے قریب سے گزرتے ہیں اور یہ گرمی کی وجہ سے اپنے اندر جمی ہوئی گیسوں اور خلائی دھول کو خارج کرتے ہیں۔
مگر اجنبی خلائی شے ’اومواموا‘ نے ایسا نہیں کیا۔ یہ چکرا دینے والی بات تھی کیونکہ اس کا راستہ اس کو نظام شمسی کی گہرائی میں سورج کی طرف لے گیا اور اس کا سورج سے فاصلہ صرف 0.26 اے یو تک رہ گیا تھا، یہ زمین سے سورج کے فاصلے کا ایک چوتھائی بنتا ہے۔
آوی لوئب کہتے ہیں کہ ’جب اعداد و شمار سامنے آئے تو انتہائی حیران کن معلومات سامنے آئیں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ انھوں نے اس وقت کے آس پاس اومواموا کے بارے میں ایک کانفرنس میں شرکت کی اور جب یہ اختتام پزیر ہوئی تو وہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ کانفرنس کے کمرے سے نکل آئے۔ اُن کے ساتھی نے کئی دہائیوں تک سیارچوں پر کام کیا تھا۔ انھوں نے کہا ’یہ بہت عجیب بات ہے، کاش یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس نے لوگوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔‘
پہلے سائنس دانوں کا خیال تھا کہ شاید اس کا مطلب ہے کہ اومواموا ایک پتھریلا سیارچہ ہے، پھر مزید مشاہدات ہوئے اور پھر ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر فلکیات اور سیاروں کے سائنسدان ایلن جیکسن نے بتایا کہ ’انھیں پتا چلا کہ اس میں سورج سے دور جاتے ہوئے تیزی آئی ہے۔‘
یہ انتہائی حیران کن تھا۔
واپس جاتے ہوئے سیارچوں کی رفتار میں تیزی آنا بالکل معمول کی بات ہے اور جب وہ سورج کے قریب پہنچ کر واپس جاتے ہیں تو اس تیز رفتاری کی وجہ اُن کی دم بن جاتی ہے جو ان کی رفتار کو بڑھا دیتی ہے، اس کے پیچھے سے گیسوں کا خارج ہونا وہی کام کرتا ہے جو راکٹ پر لگا انجن اسے دھکیلنے کے لیے کرتا ہے۔
آوی لوئب کہتے ہیں ’اگر اس صورتحال کی کوئی مثال دی جائے تو میرے مطابق یہ وہ بوجھ ہے جس نے اونٹ کی کمر توڑ دی۔ سورج کی کشش ثقل کی طاقت کے علاوہ اسے کوئی اور طاقت دھکا دے کر (سورج سے) دور لے جا رہی تھی۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اس دھکے کو سمجھنے کے لیے اس مادے کی مقدار کے دسویں حصے کو بخارات بن کر اڑ جانے کی ضرورت تھی۔‘
ایک خیال یہ تھا کہ شاید یہ چیز ایک ’ہائیڈروجن سے بنی برف کی چٹان‘ تھی۔ منجمد ہائیڈروجن کا ایک دیو ہیکل تودہ جس کی ایسی دم بن سکتی تھی جو زمین سے نظر نہیں آتی۔
تاہم ہر کوئی اس بات کا قائل نہیں تھا۔
پہلے تو یہ کہ کسی نے بھی اس سے پہلے خلا میں ہائیڈروجن کی برف نہیں دیکھی تھی۔ آوی لوئب اور ان کے ساتھیوں کا استدلال تھا کہ یہ مادا اتنی دیر کے لیے اتنا ٹھنڈا نہیں رہ سکتا ہے کہ ’اومواموا‘ جیسی بڑی چیز تشکیل پائے۔ اور یہ کہ اس کا نقطہ انجماد جو منفی 295 ڈگری سینٹی گریڈ ہے کائنات کے تحولی درجہ حرارت سے تھوڑا سا زیادہ ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس کا خلا کے ان حصوں سے جہاں ایسے مادے بنتے ہیں وہاں سے کئی سو ملین سال کے سفر کے دوران بچ جانا ممکن نہیں تھا۔
تمام الجھنوں میں یہ خیال کہ اومواموا ایک ذہین اجنبی تہذیب نے بنایا ہے، تھوڑا قابل فہم نظر آنے لگا۔
اب یہی دیکھ لیں کہ سٹی انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں کو اس بارے میں اتنا تجسس تھا کہ انھوں نے اپنی ٹیلی سکوپ کا رُخ اس کی طرف کیا تا کہ پتا لگا سکیں کہ آیا یہ کوئی ریڈیو سگنل تو نہیں بھیج رہا۔
اگر اسے دوسری دنیا کی مخلوق کی ٹیکنالوجی تصور کیا جائے تو اومواموا کو سورج سے ملنے والا دھکا جس کی کوئی وضاحت نہیں ہے، اس کی سطح سے سورج کی روشنی منعکس ہونے کی وجہ سے ملا تھا، اس کی سطح کا پتلا، ہموار اور ایسا ہونا جو روشنی منعکس کرے بالکل ایسے ہے جیسے کشتی پر لگا بادبان ہوا کی وجہ سے کشتی کو چلائے۔
آوی لوئب کہتے ہیں کہ اتنا چھوٹا ہوتے ہوئے بھی یہ واقعتاً کافی چمکدار ہے مگر قدرت بادبان نہیں بناتی لہذا اسی وجہ سے مجھے سائنٹفک امیریکن میگزین میں مضمون اور بعد میں ایک سائنٹیفک پیپر (اور اب کتاب) میں یہ تجویز پیش کرنے کی طرف رغبت ہوئی کہ اس کا نقطہ آغاز مصنوعی ہو سکتا ہے۔
آوی لوئب نے وضاحت دی کہ خلا میں سفر کرتی ایک اور چیز جسے ’2020 ایس او‘ کا نام دیا گیا اُسے بھی سورج سے اسی طرح کی پراسرار تیز رفتار حاصل ہوئی تھی۔
ابتدائی طور پر اِسے اُسی ٹیلی سکوپ کے ذریعے دیکھا گیا جس نے ’اومواموا‘ کی دریافت کی تھی، مگر یہ چیز ’سروئیر ٹو‘ نامی ناکام مشن کا راکٹ بوسٹر نکلا جسے سنہ 1966 میں بھیجا گیا تھا اور جس کا مقصد چاند پر خلائی جہاز اُتارنا تھا۔ اس مشن کو کامیابی کے ساتھ خلاء میں روانہ کیا گیا تھامگر سفر شروع ہونے کے تھوڑے ہی عرصے بہت اس سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا اور یہ کئی دہائیوں سے ادھر اُدھر بھٹک رہا تھا۔
ایک لمبی کوشش کے بعد بلآخر سٹی کو کچھ بھی نہیں ملا۔ حالانکہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اومواموا کا تعلق کائنات کی کسی ایسی تہذیب سے ہے جو بہت عرصے پہلے ختم ہو چکی ہے۔
پھر آخر کار اس سال کے شروع میں ایلن جیکسن اور ان کے ساتھی سٹیون ڈیسچ نے ایک ایسی وضاحت پیش کی جس سے لگتا ہے کہ کسی بھی دوسری دنیا کی ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت ثابت کیے بغیر اومواموا کی نرالی خصوصیات کی وضاحت دی جا سکتی ہے۔
انھوں نے غیر ثابت شدہ حقائق کو ایک ایک کر کے مسترد کرنا شروع کیا۔ اولین طور پر وہ یہ جانتے تھے کہ اگر اومواموا سے کوئی گیسز خارج ہوتیں تو ان میں کاربن مونو آکسائیڈ ، پانی یا کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل نہیں ہو سکتی کیونکہ ماہر فلکیات نے انھیں ضرور دیکھا ہوتا۔
سٹیون ڈیسچ کا کہنا تھا کہ ’یہ کچھ ایسی چیز تھی جس کا بارے میں سوچا ہی نہیں گیا تھا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ہائیڈروجن بھی نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ کائنات بہت گرم ہے۔ ہمیں ابھی احساس ہوا ہے کہ منجمد نائٹروجن بالکل اتنی ہی قوت فراہم کر سکتی ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔ اور اس امر کا مشاہدہ پلوٹو پر کیا جا سکتا ہے۔‘
اس بارے میں مزید وضاحت دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’اس خیال کی تائید کے لیے انھوں نے اس بات کا حساب لگایا کہ اومواموا کی سطح کتنی چمکیلی ہے اور یہ کتنی روشنی منعکس کرتی ہے اور اس کا موازنہ منجمد نائٹروجن کے ساتھ کیا۔ اس موازنے سے پتا چلا ہے کہ دونوں کے نتائج کم و بیش ایک جیسے ہی ہیں۔‘
ٹیم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس بات کا امکان ہے کہ یہ منجمد نائٹروجن کا ٹکڑا ہو جو پلوٹو کی طرح کے کسی ایسے ایکزوپلینٹ کی سطح سے علیحدہ ہوا جو ایک نوجوان ستارے کے گرد گھوم رہا تھا۔ ہمارے اپنے نظام شمسی کی ارتقا کائپر بیلٹ کے برفیلی علاقے میں ہزاروں ایسے ہی سیاروں کے ساتھ ہوئ تھی۔ انھوں نے یہ تجویز پیش کی کہ شاید یہ ٹکڑا تقریبا ڈیڑھ ارب سال پہلے ٹوٹ کر علیحدہ ہوا تھا۔
سٹیون ڈیسچ کا کہنا ہے کہ ’بالآخر نیپچون اس خطے سے گزرا اور اس سے بہت سارا مواد خارج ہوا۔ اور یہ سب شروعات میں ہوا تھا۔‘ ان کا خیال ہے کہ اومواموا تب سے ہی خلا کے انتہائی سرد اور وسیع خطے میں سفر کر رہا ہے۔
اگرچہ یہ چیز آخرکار بہت سال پہلے شمسی نظام کے بالکل بیرونی کنارے تک پہنچی ہو گی لیکن اس کا نظام شمسی کے انتہائی گرم وسطی خطے تک کے سفر میں بہت لمبا عرصہ لگا ہو گا، اور یہ آہستہ آہستہ یہاں پہنچتے ہوئے پین کیک کی شکل میں ڈھل گئی۔
یہ اس کی غیر معمولی شکل اور اس کی تیزرفتاری کی وضاحت کرتا ہے کیونکہ اس سے خارج ہونے والی نائٹروجن کے بخارات سے ایک پوشیدہ دم بنی ہو گی جس نے اسے آگے بڑھنے میں مدد دی۔ ایلن جیکسن کا کہنا ہے کہ ’ہمارا ماحول زیادہ تر نائٹروجن گیس پر مبنی ہے اور آپ اس کے آر پار دیکھ سکتے ہیں۔ نائٹروجن گیس کا پتا لگانا مشکل ہوتا ہے۔‘
مگر ہر کوئی اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہے۔
ایک بات جس پر آوی لوئب کو پوری طرح یقین نہیں وہ یہ ہے کہ اومواموا پلوٹو نما سیارے سے آیا ہے کیونکہ ایسا ممکن ہونے کے لیے اس کی سطح کے بارے میں اعداد وشمار کے لحاظ سے اس کا رقبہ اتنا بڑا ہونا چاہیے کہ ہمیں اس کا ایک ٹکڑا مل سکے۔
ان کی ٹیم نے اندازہ لگایا کہ ایسا ہونے کے لیے کہکشاں کے ستاروں کی کمیت جتنی ہے اس سے ہزار گنا زیادہ ہونا ضروری ہے تاکہ جتنی نائٹروجن برف کی اس چٹان جیسی چیز میں ہے وہ اتنی مقدار میں ممکن ہو اور جو پھر یوں سیارے سے ٹوٹ کر علیحدہ ہوئی ہو۔ وہ اس بارے میں کہتے ہی کہ ’پلوٹو کی سطح اس کے حجم کا صرف چند فیصد ہے۔ اس لیے ایسا ممکن ہے کہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔‘
لیکن اگر یہ نظریہ درست نکلا تو اومواموا ہمیں شاید ایک نامعلوم نظام شمسی میں کیا کچھ ہے، اس کی نادر جھلک پیش کرتا ہے۔
اس وقت ہم صرف ایسے سیارے دیکھ پاتے ہیں جو بالواسطہ دوسرے ستاروں کے مدار میں گردش کرتے ہیں اور یہ بات ہمارے علم میں اس طرح آتی ہے جب ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ سیارے اپنے ستارے کی کتنی روشنی روک پاتے ہیں جب وہ اس کے سامنے سے گزرتے ہیں تو ان کی کشش ثقل ستارے کی روشنی کو کیسے متاثر کرتی ہے۔
یہ فاصلے اتنے زیادہ ہیں کہ ذہن چکرا کر رہ جاتا ہے۔
ہم سے قریب ترین ستارہ پراکسیما سینچوری ہے جو 4.2 نوری سال (25 ٹریلین میل) دور ہے۔ اس تک کا سفر کرنے میں موجودہ دور کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہزاروں سال لگیں گے۔ اگر وائیجر جیسا خلائی جہاز جو اس وقت ہمارے نظام شمسی سے بالکل باہر کی جگہ کی چھان بین کر رہا ہے اس وقت زمین سے روانہ ہو تو یہ وہاں سنہ 75100 میں وہاں پہنچے گا۔
ایلن جیکسن کا کہنا ہے کہ ’کسی اور ستارے کی گردش کرنے والے سیارے تک پہنچنا میری زندگی میں یا مغربی تہذیب میں ممکن نہیں ہو گا۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’لیکن قدرت اس دوسری دنیا کے ٹکڑوں کو ہمارے پاس پہنچا سکتی ہے جنھیں ہم قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔‘
امر واقعہ یہ ہے کہ اومواموا جب ہمارے نظام شمسی میں داخل ہوا تو وہ تب بھی نسبتاً کافی بڑا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اُس وقت بھی ویسا ہی ہے جیسا یہ جس سیارے کا ٹکرا ہے اس کا حصہ ہوتے وقت اپنی اصلی حالت میں تھا۔ یہ خلا کے برفیلی ماحول میں ایک ارب سال کے نصف حصے تک سفر کے دوران محفوظ رہا ہے۔ اس تمام عرصے میں اس کا سامنا کبھی بھی کسی دوسرے ستارے سے نہیں ہوا سوائے اس وقت کے جب وہ ہمارے ستارے کے پاس آن پہنچا۔
سٹیون ڈیسچ کا کہنا ہے کہ ’یہ شاید ایک نوری سال کے تھوڑے سے حصہ میں دوسرے درجنوں شمسی نظاموں سے گزرا ہو گا مگر یہ ہمارے سورج جیسے دوسرے کسی ستارے کے قریب سے گزر کر نہ بچ پاتا۔‘
اومواموا کی ایک ممکنہ منجمد نائٹروجن کی چٹان کے طور پر شناخت سے پتا چلتا ہے کہ دوسرے شمسی نظام بھی ہمارے نظام شمسی کی طرح کے ہی ہیں۔
ایلن جیکسن کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس سے جو معلومات ملتی ہیں وہ بتاتی ہیں کہ یہ دوسرے سیاروں کے نظام کے بیرونی حصوں میں پلوٹو جیسی بڑی چیزیں موجود ہیں۔‘ حساب لگانے سے یہ اشارہ ملا ہے کہ برف سرخی مائل تھی بالکل ویسی ہی جیسی پلوٹو پر موجود نائٹروجن گلیشیئرز کی پرتوں پر موجود ہے جس میں میتھین ہوتی ہے۔
اومواموا سے پہلے دوسرے سیاروں کے نظام کے بیرونی حصے ایک مکمل معمہ تھے کیونکہ وہاں موجود اشیا اپنے قریبی ستارے کے سامنے آ کر بڑا سایہ ڈالنے کے لیے ستارے سے ہہت دور تھیں۔ ایلن جیکسن کا کہنا ہے کہ ’ہم اُن ہی کے بارے میں جانتے ہیں جو زیادہ قریب ہوتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ کثرت سے گھومتے ہیں اور ستارے سے نکلنے والی روشنی کو روکتے ہیں۔‘
یہاں تک کہ نائٹروجن کی موجودگی خود بھی ایک خبر ہے۔ نظام شمسی میں یہ ہر جگہ ہے لیکن اومواموا کی دریافت تک یہ کہنا ناممکن تھا کہ آیا کائنات کے دوسرے حصوں میں بھی یہ عام ہے۔
ایک دم دار ستارہ
خوش قسمتی سے 2 آئی / بوریسوف کو کائنات کے کسی دوسرے حصے سے آنے والے ساتھی کے مقابلے میں سمجھنے میں اتنی زیادہ مشکل نہیں پیش آئی۔ اس کی شناخت اب تک کہکشاؤں کے درمیان سفر کرنے والے پہلے دم دار ستارے کے طور پر کی جا رہی ہے جیسے نظام شمسی کے بیرونی کناروں میں گھومتے ہوئے دم دار ستارے ہیں۔
2 آئی / بوریسوف بھی پانی، خلائی دھول اور کاربن مونو آکسائیڈ کے کیچڑ سے بنا ہوا ہے۔ اس کی ایک واضح دم تھی اور یہ کم و بیش ویسا ہی تھا جیسا کہ سائنسدان توقع کر رہے تھے۔ 2 آئی / بوریسوف کو دیکھ کر اومواموا اور بھی زیادہ عجیب وغریب لگتا ہے۔
ایک ناممکن حساب
اگرچہ کچھ ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اومواموا اور 2 آئی / بوریسوف کیسے مختلف ہو سکتے ہیں، دوسرے اس پر کام کر رہے ہیں کہ ان کی طرح کی اور کتنی چیزیں ہو سکتی ہیں۔
ایلن جیکسن کا کہنا ہے کہ ’ہم نے توقع کی تھی کہ ہم آخر کار کہکشاؤں کے درمیان سفر کرنے والی اشیا دیکھیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اپنے نظام شمسی سے دم دار ستارے نکلتے رہتے ہیں۔‘ یہ خیال کرنا منطقی تھا کہ دیگر کہکشاؤں میں بھی یہی عمل کہیں اور ہو رہا ہو گا، لیکن یہ مکمل طور پر قیاس آرائی ہی تھی۔
یہاں تک کہ اومواموا کی دریافت کے بعد بھی اس کی آمد اتنی ہی نایاب یا اعدادوشمار کے لحاظ سے ناممکن تھی جتنا حیرت انگیز اس کا وجود ہے۔ کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ شاید اس کی آمد زندگی میں ایک ہی بار ہونے والا واقعہ ہے۔ یکساں طور پر ہمارے نظام شمسی وسیع تر کہکشاں کے ان ٹکڑوں سے بھرا ہوا ہو سکتا ہے جو اتنے تاریک ہیں کہ وہ صرف تب ہی ظاہر ہوتے ہیں جب ان کا راستہ انھیں سورج کے بالکل سامنے سے گزارتا ہے۔
اب سائنس دانوں کو کہکشاؤں کے درمیان سفر کرنے والی کم از کم دو چیزیں ملی ہیں اور ان کی تصدیق ہو گئی ہے۔ لیکن یہ اندازہ لگانا کہ یہ چیزیں کتنی عام ہیں اور کیا ہم انھیں کتنی بار دیکھنے کی توقع کر سکتے ہیں، بہت مشکل ہے۔
آوی لوئب اور ان کے ساتھیوں نے اس دریافت سے پہلے جو حساب کتاب لگایا اس کے مطابق اس طرح کی کسی چیز کی دریافت کا ان کی پوری زندگی میں امکان بہت کم تھا۔ اومواموا جیسی کسی چیز کی دریافت کی امید اتنا کم ہونی چاہیے کہ سائنسدانوں کو اسے اپنی زندگی میں دریافت کرنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہونا چاہیے تھا۔
لیکن انھوں نے ایسا کیا۔ اس کا کامیابی سے پتہ لگانے کی بنیاد پر ایک ٹیم نے حساب لگایا کہ زمین سے سورج کے فاصلے رکھنے والے ہر تھری ڈائمینشنل سپیس میں آپ کو کسی بھی وقت وہاں تقریباً پانچ ایک ہی حجم والی کائنات کے دوسرے حصوں سے آنے والی اشیا ملیں گی ۔.
دریں اثنا، حالیہ تحقیق جو 2 آئی / بوریسوف کی دریافت کے بعد کی گئی تھی اس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں کسی بھی وقت کم از کم 50 میٹر بڑے 50 کے قریب ایسے ٹکڑے موجود ہیں جو دوسری کہکشاؤں سے آئے ہیں۔
یہ اہم بات ہے۔ کیونکہ ہمارے نظام شمسی میں داخل ہونے والی جتنی چیزیں ہیں وہ اتنی بے ضرر نہیں ہیں۔ اگرچہ ڈائنو سارز کو صفحہ ہستی سے مٹانے والی چیز ہمارے اپنے نظام شمسی کے اندر پیدا ہوئی تھی لیکن دوسری کہکشاؤں سے آنے والے سیارچوں اور دم دار ستاروں کے کہیں زیادہ تباہ کن ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ وہ ہمارے اپنے سورج کے گرد چکر لگانے والی چیزوں کی نسبت بہت زیادہ تیز رفتار سے سفر کرتے ہیں۔
مزید کی تلاش
بہرحال سائنسدانوں کو کچھ جوابات ملنے والے ہیں۔ کہکشاؤں کے درمیان سفر کرنے والی اشیا کی دھیمی چمک کا پتہ لگانے کے لیے طاقتور تکنیکی ساز و سامان کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالکل ویسی جو چلی میں زیر تعمیر ایک نئی آبزرویٹری کے پاس ہوں گی۔
’ویرا روبن‘ آبزرویٹری ملک کے شمال میں 2682 میٹر بلند پہاڑی ’سیرو پاچون‘ کی چوٹی پر ہے۔ امید ہے کہ یہ سنہ 2022 یا 2023 میں کام شروع کرے گی اور اس میں ماہرین فلکیات کے لیے اب تک بنایا جانے والا سب سے بڑا ڈیجیٹل کیمرا موجود ہو گا۔ یہ آسمانوں کے بارے میں رات کے وقت سروے کرے گا اور زمین کے قریب اشیا کی تلاش میں کم از کم 140 میٹر (500 فٹ) بڑی چیزوں کی تلاش کر سکے گا جو اومواموا کا 1.7واں حصہ بنتا ہے۔
بہت سے ماہرین فلکیات پرامید ہیں کہ ان کو کہکشاؤں کے درمیان سفر کرنے والی اگلی چیز مل جائے گی۔
آوی لوئب کو امید ہے کہ ٹیلی سکوپ کہکشاوں کے درمیان سفر کرنے والی اگلی چیز کی نشاندہی اس وقت کرے گا جب وہ ہمارے نظام شمسی میں داخل ہو رہی ہو گی جو ہمیں کافی وارننگ دے گی اور ہمارے پاس وقت ہو گا کہ اس کو روکنے کے لیے کوئی خلائی جہاز بھیجا جائے اور جو اس کا قریب جا کر جائزہ لے۔
انھوں نے اوسائرس ریکس مشن کا حوالہ دیا جس نے ستمبر 2016 میں اپنا سفر شروع کیا تھا اور اس نے زمین سے 200 ملین میل سے زیادہ دور سفر کرنے والے سیارچے ’بینوں‘ تک کامیابی سے سفر کیا اور اس پر اتر کر نمونے اکٹھے کیے۔ یہ فی الحال واپسی کے سفر پر ہے اور سنہ 2023 میں تصاویر اور نمونوں کے ساتھ زمین پر پہنچے گا۔
آوی لوئب کہتے ہیں ’اور یہ ہمیں بتائے گا کہ آیا یہ مصنوعی ہے یا قدرتی۔ اور واقعی اگر یہ مصنوعی طور پر بنایا گیا ہے تو یہ بہت ہی دلچسپ ہو گا۔‘
کہکشاؤں کے درمیان سفر کرنے والی چیزوں کے سفر کے بارے میں سٹیون ڈیسچ بھی اتنے ہی پُرجوش ہیں، اگرچہ ان کی وجوہات کچھ روایتی قسم کی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جب ہم اپنے نظام شمسی میں کسی بھی طرح کے اڑن طشتری کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے پاس ایسی چیزوں کی ایک فہرست ہوتی ہے جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کچھ اہم اشیا کی فہرست دیتے ہوئے کہا ’جیسا کہ اس میں امینو ایسڈ شامل ہیں، ممکنہ نامیاتی زندگی کی نشاندہی کرنا، اور اس بات کا تعین کرنا کہ اس میں پانی یا کاربن مونو آکسائیڈ موجود ہے یا نہیں۔ میں ایسی چیز کی کیمیا کے بارے میں تمام معلومات حاصل کرنا چاہوں گا۔‘
لیکن جو بھی ہو آوی لوئب چاہتے ہیں کہ سائنسی برادری اپنا ذہن کھلا رکھے، خاص طور پر اگر کہکشاؤں کے درمیان سفر کرنے والی ایسی تیسری چیز کے ساتھ ہمارا ٹاکرا ہو جو اومواموا کی طرح حیران کن ثابت ہوتی ہے۔
وہ کہتے ہیں ’اگر ہمیں کوئی ایسی چیز مل جاتی ہے جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تو آئیے اس پر مزید ڈیٹا اکٹھا کریں اور اس کی نوعیت کا پتہ لگائیں کیونکہ اس کے بعد ہم اُن نرسریوں یا فیکٹریوں کے بارے میں کچھ نیا سیکھیں گے جو ایسی چیزیں بناتی ہیں۔‘