آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نظریہ ارتقا: زندگی کے آغاز کے بارے میں چارلس ڈاروِن کا خیال شاید درست ہی تھا
- مصنف, مائیکل مارشل
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
یہ تحریر بی بی سی اردو پر پہلی بار نومبر 2020 میں شائع کی گئی تھی۔
اپنے ایک دوست کے نام خط میں معروف ماہرِ حیاتیات چارلس ڈاروِن نے زندگی کے آغاز کا نظریہ پیش کیا تھا۔ ایک شکستہ سی تحریر میں ان کے یہ خیالات نہ صرف شاید درست تھے بلکہ اپنے زمانے کے لحاظ سے ایک صدی قبل از وقت تھے۔
چارلس ڈاروِن کے ذہن میں کئی بڑے نظریات تھے۔
ان کا سب سے مشہور نظریہ نیچرل سلیکشن کے ذریعے ارتقا ہے جو کرہِ ارض پر زندگی کے بارے میں بتاتا ہے۔ انھوں نے اس دوران کئی اور دوسرے سوالات پر بھی غور کیا تھا۔
انھوں نے اپنے ایک دوست کو شکستہ تحریر میں لکھے گئے ایک خط میں ابتدائی زندگی کے ظہور میں آنے کے بارے میں اپنے خیالات کا ذکر کیا تھا۔
آج سے ڈیڑھ سو برس قبل لکھا گیا یہ خط کتنی زبردست پیشگوئی کر رہا تھا بلکہ ایک طرح سے الہامی بات کر رہا تھا۔
عمومی طور پر مقبول خیالات کے برعکس ڈاروِن پہلے سائنسدان نہیں تھے جنھوں نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ انواع کا ارتقا ہوتا ہے۔
یہ خیال کے جانوروں کی آبادی میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مثال کے طور پر یہ کہ اپنی بہت پرانی نسل کے مقابلے میں آج کے زرافے کی گردن زیادہ لمبی ہوتی ہے، انیسویں صدی میں بہت زیادہ موضوعِ بحث تھا۔
تاہم ڈارون کی دریافت اس ارتقا کے نظام کی سطحوں کا ایک خاکہ پیش کرنا تھا: زندگی کا طبیعی انتخاب۔
اس کے پیچھے خیال یہ ہے کہ کسی ایک نوع کے جانور خوراک کے لیے، گھر کے لیے اور اپنی افزائشِ نسل کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے رہتے ہیں یعنی تنازع البقا جاری رہتا ہے۔
بہترین کی بقا یعنی وہ جانور جو اپنے ماحول میں رہنے کے سب سے زیادہ قابل ہوتے ہیں وہ افزائشِ نسل میں کامیاب رہیں گے اور اس طرح ان کی اچھی خصوصیات اگلی نسل میں منتقل ہوں گی اور وہ زیادہ پھیلیں گی۔
یہ بھی پڑھیے
اس لیے اگر ایک زرافے کے لیے لمبی گردن ہونا مددگار ہو گا تو اِس کی اگلی نسلوں میں زیادہ زیادہ سے ممکن حد تک اس کی گردن لمبی ہوتی جائے گی۔
ڈاروِن نے یہ نظریہ سنہ 1859 میں ’اصل الانواع‘ کے عنوان سے لکھی گئی اپنی شاہکار کتاب میں پیش کیا تھا۔
ارتقا کی حقیقت زندگی کے ارتقا کے بارے میں کچھ بین السطور اشارے دیتی ہے۔
ارتقا بتاتا ہے کہ مختلف انواع کے جانور ایک دوسرے کے دور دراز کے رشتہ دار ہیں جو سب کے سب کسی ایک ہی جدِّ امجد کی اولاد ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارا قریب ترین رشتہ دار چِمپینزی بنتا ہے: تقریباً ستر لاکھ برس پہلے ہم دونوں کے جدِّ امجد ایک ہی تھے۔
اس سے بڑھ کے بات یہ ہے کہ ہر حیاتی انواع کے جدِّ امجد ایک نوع کی کوئی پرانی نسل ہے: آفاقی طور پر سب کے سانجھے جدِّ امجد (لُوکا)، شاید ساڑھے تین ارب برس پہلے موجود تھے جب کرہِ ارض ابھی ایک نوجوان سیارہ تھا۔
تاہم نظریہِ ارتقا ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتاتا ہے کہ زندگی کا وجود کیسے عمل میں آیا: یہ صرف اتنا بتاتا ہے کہ کس طرح اور کیوں موجودہ زندگی میں تبدیلیاں آتی رہیں۔
زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟
زندگی کے اصل ماخذ پر ریسرچ سنہ 50 کی دہائی تک شروع نہیں ہوئی تھی۔
تب تک اکثر سائنسدانوں کا خیال تھا کہ زندگی کا آغاز سمندر سے ہوا۔ اس وقت نظریہ یہ تھا کہ کاربن سے جڑے کئی کیمیکلز کرہِ ارض کے ابتدائی ادوار میں وجود میں آئے اور سمندر میں گھل گئے جس کی وجہ سے سمندر کا پانی گاڑھا ہو گیا: جسے مادوں اور گیسوں کا وہ اول آمیزہ (پرائی مورڈیل سُوپ) کہا جاتا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ زمین پر زندگی کے وجود سے پہلے موجود تھا۔
یہ خیال سویت یونین کے ایک ماہرِ حیاتیات الیگزنڈر اوپرین نے سنہ 1920 میں پیش کیا تھا۔
سنہ 1953 میں ایک نوجوان امریکی طالبِ علم سٹینلے مِلر نے ثابت کیا کہ امائنو ایسڈ جو کہ پروٹین کی تشکیل کے لیے ایک اہم جزو ہے۔ وہ کسی ایک جگہ پر مادوں اور گیسوں کے سمندر میں بننے والے آمیزے جیسی نقل بنا سکتا ہے جو زندگی کے زمین پر پیدا ہونے سے پہلے موجود تھا۔
یہ خیال کہ زندگی کا آغاز سمندر سے ہوا کئی دہائیوں تک درست تسلیم کیا جاتا رہا لیکن اس میں ایک بہت ہی واضح قسم کا مسئلہ تھا۔
سمندر بہت وسیع ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر کاربن سے جڑے کیمیکلز وجود میں آتے ہیں تو وہ بہت بڑی مقدار میں ہوتے اور وہ ایک بہت ہی لمبے عرصے تک سمندر میں تیرتے رہتے اور ان کا آپس میں کوئی رابطہ نہ بنتا۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج کی ایم آر سی لیبارٹری آف مالیکیولر بائیولوجی سے وابستہ کلاڈیا بون فیو کہتی ہیں کہ ’(یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے) آپ کے سامنے پانی کی ایک بہت بڑی مقدار ہوتی جس میں مالیکیولز کی مقدار بہت ہی قلیل ہوتی۔‘
ایک متبادل نظریہ جس پر کافی بات ہوئی ہے وہ یہ کہ شاید زندگی کا آغاز بحرِ اوقیانوس میں گمشدہ اٹلانٹک شہر سے خارج ہونے والی الکلائن سے ہوا ہو۔
وہاں سطح سمندر کی تہہ میں مو جود چٹانوں سے گرم اور معدنیات سے بھرپور پانی اوپر کی جانب اٹھتا ہے اور سفید رنگ کا خوفناک قسم کا ہیولہ بنتا ہے۔
یہ اخراج ایسی کیمیکل انرجی کا ذریعہ ہیں جو اول ترین حیاتیاتی انواع (آرگینیزم) کو تشکیل دے سکتا ہے۔
لیکن مئی سنہ 2020 میں شائع ہونے والے ایک مقالے کے مطابق ’امائینو ایسڈ اور نیکلیوبیسز دونوں کے اشتراک (دونوں ہی ہمارے موجودہ علم کے مطابق زندگی کے وجود میں آنے کے لیے اہم ہیں) کا الکلائن کے اخراج کے دوران مشاہدہ نہیں کیا گیا ہے۔‘
یہاں سے ہمیں پھر واپس ڈاروِن کی طرف لوٹ جانا پڑتا ہے۔
دوست کے نام ایک خط
ڈارون نے اپنی تصانیف میں کہیں نہیں لکھا ہے کہ زندگی کا آغاز کیسے ہوا لیکن انھوں نے اپنی نجی زندگی میں اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
اس سلسلہ میں کلیدی دستاویز اُن کا ایک خط ہے جو انھوں نے یکم فروری سنہ 1871 کو اپنے ایک قریبی دوست جوزف ڈالٹن ہُوکر کے نام لکھا تھا۔
یہ خط اب تقریباً 150 برس پرانا ہے۔
یہ بہت مختصر ہے۔ اس کے صرف چار پیرے ہیں اور ڈاروِن کی کیڑے مکوڑوں جیسی لکھائی کی وجہ سے اسے پڑھنا کافی مشکل ہے۔
اس میں پھپھوندی کے بارے میں اُس دور کے تجربات پر ایک مختصر سی بات کرنے کے بعد ڈاروِن اپنے نظریے کا ایک خاکہ پیش کرتا ہے:
’اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ اول ترین حیاتیاتی نوع (آرگینیزم) کو وجود میں لانے والے تمام حالات اب موجود ہیں، جو کہ ممکنہ طور پر کبھی بھی موجود ہو سکتے تھے۔
لیکن اگر (اور یہ ایک بہت بڑا اگر ہے) ہم ایک نیم گرم پانی کے جوہڑ میں ہر قسم کے امونیا اور فاسفورس کے نمکیات، روشنی، حرارت، الکٹریسیٹی وغیرہ کی موجودگی میں پروٹین کمپاؤنڈ کیمیاوی طور پر تخلیق کر سکتے، جو اس سے بھی بڑھ کر مزید پیچیدہ تبدیلیوں کا سلسلہ شروع کرسکتے ہیں، آج کل کے دنوں میں اس قسم کا مادہ فوراً ہی کھا لیا جائے گا یا جذب کرلیا جائے گا، جو کہ ایک زندہ نوع کے وجود میں آنے سے پہلے نہیں ہو سکتا تھا۔‘
ڈاروِن نے یہ کہا کہ زندگی کا کھلے سمندروں میں آغاز نہیں ہوا بلکہ زمین پر پانی کہ کے ایک چھوٹے جوہڑ میں ہوا۔
اس سے کئی ایک پیچیدہ معاملات سلجھنا شروع ہو جاتے ہیں کیونکہ بہت سارے خیالات ایک دوسرے سے مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں: یہ ایسے لگتا ہے جیسے ڈاروِن اپنے مفروضے پر اس طرح بات کر رہا ہو جیسے اس نے اسے ایک مکمل تحریری شکل دے دی ہو۔ لیکن یہ خیال اپنی نوعیت میں بہت ہی سادہ ہے۔
ڈاروِن نے یہ کہا کہ زندگی کا کھلے سمندروں میں آغاز نہیں ہوا بلکہ زمین پر پانی کے ایک چھوٹے جوہڑ میں ہوا جو کیمیاوی لحاظ سے بہت زیادہ بھرپور تھا۔
یہ اصل میں مادوں اور گیسوں کے اُس اول آمیزے کی ایک دوسری شکل ہے جسے ’پرائی مورڈیل سُوپ‘ کہا جاتا ہے۔
لیکن اس میں اضافی فائدہ ہے: ایک تالاب میں ہے اور محلول شدہ کیمیکلز گاڑھا ہو جائے گا جب دن کی گرمی کی وجہ سے پانی ہوا میں تحلیل ہو جائے گا۔
زندگی کے کیمیکلز کی ابتدائی آمیزش کو روشنی، حرارت اور کیمیکل انرجی کے ایک مخصوص مجموعے کی بدولت نِمو ملے گی۔
کئی لحاظ سے ڈاروِن کا نظریہ مایوس کن حد تک غیر مکمل ہے لیکن اس کے لیے اُسے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
انھوں نے یہ تحریر اس وقت لکھی تھی جب ڈی این اے جیسے نیوکلِک ایسڈ دریافت نہیں ہوئے تھے، جب ماہرینِ حیاتیات جینیاتی نوعیت اور وہ کس طرح کام کرتے ہیں ان کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے تھے، اور جب ایک خلیے (سیل) کا اندرونی عمل ایک معمہ تھا۔
ڈاروِن کا تصور تھا کہ زندگی پروٹین سے شروع ہوئی لیکن سنہ 1902 میں جب یہ دریافت ہوا کہ پروٹین امائنو ایسڈ کی ایک چین کا نام ہے تب تک یہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کون سے پروٹین تھے جو زندگی پیدا کرتے تھے۔
لیکن آج بھی وہ بنیادی خاکہ زندگی پر تحقیق کا بنیادی موضوع ہے۔ اور کئی ایک سائنسدان اس بات کے قائل ہیں کہ شاید یہ زندگی کے آغاز کی بہترین وضاحت ہے۔
حرارت اور روشنی
ایک ایسا سائنسدان جن کی ریسرچ جوہڑ کے ماحول کی مثال سے مطابقت رکھتی ہے ان کا تعلق یونیورسٹی آف وِسکانسن-میڈیسن کی لینا وِنسنٹ سے ہے۔
اگرچہ وہ اب بھی کسی نئی دریافت کے لیے اپنا ذہن کھلا رکھنا چاہتی ہیں۔
وہ اس وقت کوشش کر رہی ہیں کہ کیمیکلز کے ایک ایسے سیٹ کو بنائیں جو اپنے ایک گروپ کے طور پر نقلیں تیار کرے۔ اس کی ایک سادہ سی مثال یہ ہو گی کہ کیمیکلز 'اے' او ر 'بی' کا ایک جوڑا، جس میں دونوں میں اتنی صلاحیت ہو کہ وہ ایک دوسرے کو تشکیل دے رہے ہوں، تاکہ 'اے' 'بی' کی تشکیل کر رہا ہو اور 'بی' 'اے' کی تشکیال کر رہا ہو۔
کیمیکلز کا اس طرح کا جوڑا اپنا ہی متبادل تیار کرنے کی صلاحیت رکھے گا، چاہے وہ کیمیکلز اکیلے کچھ بھی نہ کرسکیں۔ عملی طور پر کیمیکلز کے سیٹس اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں، لیکن بنیادی اصول یہی ہے۔
یہ اہم تجربات وِنسنٹ نے معدنیات کی سطح پر کرتی ہے۔
اگر کلیدی کیمیکلز معدنیات کی سطح پر ہے تو وہ کہتی ہے کہ 'ان کے ایک دوسرے کے ساتھ عمل اور ردعمل کرنے اور ایک دوسرے سے رابطہ بنانے کے زیادہ امکانات ہیں۔'
کیمیکلز معدنیات کے ساتھ جُڑے رہنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلے بازی بھی کر سکتے ہیں۔
'ہمارا خیال ہے کہ اس سے ایک قسم کا ایک ایسا ماحول تخلیق کیا جا سکتا ہے جس کی آپ کو ضرورت یہ شروع کرنے کے لیے ہو کہ آپ اس کا مسابقتی فائدہ دیکھ سکیں اور شاید ارتقا سے پہلے کا عمل بھی۔'
جوہڑ قدرتی لحاظ سے معدنیات سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں مثال کے طور پر مٹی۔
کیٹ ایڈا مالا کہتی ہیں کہ وہ آہستہ آہستہ ایک پیچیدہ قسم کے نیکلِک ایسڈ کی آمیزش کے منظر کی جانب بڑھ رہا ہے۔
اس بارے میں کافی شواہد جمع ہو چکے ہیں کہ سورج کی روشنی کی الٹرا وائیلیٹ کے تابکاری اثرات کلیدی حیاتیاتی کیمیکلز کے بننے کے عمل کو شروع کر سکتے ہیں، خاص کر آر این اے، جو ڈی این اے کی طرح کا ایک نیوکلِک ایسڈ ہے اور جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زندگی کی تخلیق میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس قسم کا عمل صرف ایک روشن جگہ پر ہی ممکن ہو سکتا ہے، جو ایک مرتبہ پھر کم پانی کی جانب اشارہ کرتا ہے، نہ کہ گہرے سمندر کی جانب۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج کی ایم آر سی لیبارٹری آف مولیکیولر بائیولوجی کے جان سدرلینڈ کا ایک اہم کردار رہا ہے۔
سنہ 2009 میں انھوں نے سادہ سے کاربن سے آر این اے کی تشکیل میں چار سطحوں میں سے دو کا تجربہ کر کے دکھایا۔ اگر ان پر ایک سادہ سا کام کیا جائے یعنی انھیں الٹرا وائیلٹ میں نہلایا جائے۔
اس کے بعد انھوں نے مزید دکھایا کہ یہی آغاز کرنے والے کیمیکلز پر اگر تھوڑا سے مختلف عمل کیا جائے تو یہ پروٹین بنانے کے مراحل بھی تیار کر سکتے ہیں یا موٹاپے کی چربی تیار کرسکتے ہیں جو ایک خلیے کی جلد کے باہر کو تشکیل دیتی ہے۔
امریکی شہر مینیا پولیس کی یونیورسٹی آف مینیسوٹا سے وابستہ کیٹ ایڈا مالا جان سدرلینڈ کے بارے میں کہتی ہیں کہ 'وہ آہستہ آہستہ ایک پیچیدہ قسم کے نیکلِک ایسڈ کی آمیزش کے منظر کی جانب بڑھ رہا ہے۔'
آخر میں زمین پر جب بہت زیادہ گرمی پڑے گی تو جوہڑ درجہ بدرجہ مکمل طور پر خشک ہو سکتے ہیں اور پھر بارش ہو گی تو دوبارہ سے بھر جاتے ہیں۔ اس طرح کی خشک و تر ہونے کا چکر شاید بے ضرر نظر آئے لیکن ان کا زندگی کے کیمیکلز پر بہت گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔
مثال کے طور پر سدرلینڈ کے سنہ 2009 کے تجربے نے زندگی کے چار مرحلوں میں سے آر این اے کے دو مرحلوں کو دکھایا تھا۔
سنہ 2019 میں جرمنی کے سائنسدانوں نے چاروں مرحلوں کو پیش کر کے دکھا دیا۔
انھو ں نے سادہ سے کاربن سے بنے ایسڈ کو معدنیات کی سطح پر گرم پانی پر رکھا اور ان کو چار مرتبہ خشک و تر کے چکر سے چار مرتبہ گزارا۔
اس عمل کے چند روز ہی آر این اے کی زندگی کے چاروں مراحل بنانے کے لیے کافی تھے۔
اسی طرح امریکی ریاست کیلیفورنیا کی یونیورسٹی آف سانتا کروز سے وابستہ ڈیوڈ ڈیمر نے اس بات کا مظاہرہ کیا کہ خشک و تر کا ایک چکر 'پروٹوسیلز' کے بنانے کے عمل کا آغاز کرسکتے ہیں، جس میں آر این اے جیسا حیاتیاتی مالیکیول اس کے ارد گرد لگی ہوئی چربی میں پنہاں ہوتا ہے۔
سنہ 2017 میں ویلینٹینا ایراسٹووا، جو اب یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے وابستہ ہیں، نے امائینو ایسڈ کا ایک عام سے معدنیات کی سطح سے ایک ربط ثابت کیا بشرطیکہ وہ خشک و تر کے چکر سے گزرے ہوں۔
زندگی کا آغاز
ڈیوڈ ڈیمر کا استدلال ہے کہ 'لاوا اگلنے والے پہاڑوں سے پھوٹنے والے گرم پانی کے چشمے'کا شاید زندگی کے آغاز کا ماحول فراہم کرنے کے زیادہ امکانات ہوں۔
سدرلینڈ کا ایک متبادل نظریہ ہے: کسی شہابی پتھر کے گرنے سے بننے والے گڑھے سے کئی چشمے بہہ رہے ہوں اور وہ کسی ایک جوہڑ میں مل رہے ہوں۔
یہ غیر واضح ہے کہ ان میں کون سے منظر کے درست ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ مزید یہ کہ اب کئی نوجوان سائنسدان ان میں سے کسی بھی منظر کو حتمی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ان کا یہ کہنا ہے کہ ابھی ہمارے پاس اتنا علم نہیں ہے کہا زندگی کا وجود کیسے پیدا ہوتا ہے اس لیے کسی بھی بات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ہے۔
خاص کر جب بہت سارے سائنسدان کئی مشکلات اور مسائل کے باوجود بھی الکلائن کے اخراج کے نظریے کو ابھی بھی سنجیدگی کے ساتھ لے رہے ہوں۔
لینا ونسینٹ کہتی ہیں کہ وہ عمل جو ایک چھوٹے سے نیم گرم جوہڑ میں ہوا وہ اتنی آسانی سے ہوا کہ وہ ہمیشہ ہر وقت اُتنی ہی آسانی سے ہوتے رہتے ہیں۔
بہرحال جو بات واضح ہے وہ یہ کہ ڈاروِن کا نظریہ بہت ہی دور رس تھا۔
کیمیکلز کی مختلف اقسام کو ایک مختصر سی جگہ میں مرتکز ہونے کی ضرورت کے بارے میں سوچا اور حرارت کے ایسے ذریعے کے بارے میں سوچا جو کیمیکل ردعمل پیدا کرسکے۔
ونسنٹ کہتی ہے ’ڈاروِن کے دیگر نظریات کی طرح‘ گرم جوہڑوں کا مفروضہ بھی ’مستقبل بینی‘ کا شاہکار تھا۔
ونسنٹ کہتی ہیں کہ ڈاروِن نے اپنے خط میں ایک اور ’بے نظیر‘ نکتہ اٹھایا تھا۔
لینا ونسینٹ کہتی ہیں کہ وہ عمل جو ایک چھوٹے سے نیم گرم جوہڑ میں ہوا وہ اتنی آسانی سے ہوا کہ وہ ہمیشہ ہر وقت اُتنی ہی آسانی سے ہوتے رہتے ہیں۔
ہم انھیں شاید بہت زیادہ سادہ نہ سمجھیں کیونکہ جب بھی کوئی نیا پروٹین یا اس طرح کی کسی شہ کا وجود پیدا ہوتا ہے تو کوئی ایک بیکٹیریم انھیں فوراً نگل جاتا ہے۔
ونسنٹ کہتی ہیں ’ہم زندگی کے آغاز کے بارے میں اس طرح بات کرتے ہیں جیسے یہ عمل ماضی بعید میں ہوا تھا۔ لیکن یہ ایک ایسا عمل ہے جو شاید اس وقت بھی ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
(مائیکل مارشل برطانیہ کے شہر ڈِوون میں رہتے ہیں اور سائنسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔ اُن کی زندگی کے آغاز کے موضوع پر ایک کتاب ’دی جینیسز کیویسٹ‘ حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔)