آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خوش خوراک جانداروں میں بلیو وہیل سرفہرست
عام زندگی میں جن لوگوں کی خوراک زیادہ ہوتی ہے، ان کا مذاق اڑتے ہوئے انھیں پیٹو کہا جاتا ہے۔ کئی لوگ تو کھانا دیکھتے ہی اُس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ غذا کھانے والا جاندار کون سا ہے؟ جی ہاں وہ ہے 'بلیو وہیل۔'
جانداروں میں سب سے زیادہ خوراک بلیو وہیل کی ہوتی ہے۔ اس کی یومیہ خوارک تقریباً چار ٹن ہے۔
وہیل کی یہ نسل روزانہ کرل نامی چار کروڑ سمندری حیاتیات کو اپنی غذا بناتا ہے۔ اتنی غذا کسی اور جاندار کی نہیں ہوتی۔
لیکن صرف وہیل ہی نہیں جو زیادہ خوراک کھاتی ہے بلکہ افریقی نسل کے ہاتھیوں کی خوراک بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔
جنوبی افریقہ میں ہاتھیوں کے ماہر نارمن اوین سمتھ کہتے ہیں کہ افریقی ہاتھی روزانہ اپنے وزن کے ایک فیصد کے برابر غذا کھاتے ہیں۔
ایک افریقی ہاتھی کا اوسطاً وزن چھ ہزار کلوگرام ہوتا ہے یعنی وہ روزانہ تقریباً 60 کلو گرام خشک چارہ کھاتے ہیں جبکہ دودھ دینے والی مادہ ہاتھی روزانہ اپنے وزن کا تقریبا ڈیڑھ فیصد چارہ کھاتی ہے۔
اگر اس چارے میں پانی کی مقدار بھی شامل کر لیں تو افریقی ہاتھی روزانہ تقریبا ڈھائی سو کلو چارہ کھا جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہاتھیوں کی بات کریں تو یہ روزانہ تقریبا 18 گھنٹے کھانے اور اپنے چارے کی تلاش میں صرف کرتے ہیں۔
اسی طرح چینی نسل کا بڑا پانڈا بھی ہر روز تقریباً 14 گھنٹے کھانے اور پینے میں صرف کرتا ہے۔
پانڈا تقریباً ساڑھے بارہ کلو بانس کا چارہ استعمال کرتا ہے تب جا کر اس کی روزمرہ کی غذائی ضرورت پوری ہوتی ہے۔
سبزی خور جانوروں کے مقابلے میں گوشت خور جانوروں کو کم کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
کچھ لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ امریکہ میں پایا جانے والا بھورا چمگادڑ ایک گھنٹے میں ایک ہزار مچھر کھا جاتا ہے۔
اگرچہ اس دعوے پر سائنسدانوں یقین نہیں ہے لیکن پھر بھی چمگادڑ کی اچھی خاصی غذا ہوتی ہے۔
اسی طرح گھروں میں پائے جانے والی چھچھوندر کو بھی بہت غذا درکار ہوتی ہے۔
انھیں ہر دو گھنٹے میں بھوک لگتی ہے اور اس وقفے میں اسے کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ملنا چاہیے۔
چھچھوندر کو روزانہ اپنے وزن کے 80 سے 90 فیصد جتنی غذا چاہیے ہوتی ہے جبکہ چھوٹی چھچھوندریں تو ہر روز اپنے وزن سے بھی زیادہ کھانا کھاتی ہیں۔
دنیا کا سب سے چھوٹا پرندہ 'ہمنگ برڈ' بھی بہت زیادہ غذا کھانے والی ایک مخلوق ہے۔
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ پرندے ہر 15 منٹ میں پھلوں کا جوس چوستے ہیں۔
ہمنگ برڈ کی دنیا بھر میں 300 سے زائد نسلیں پائی جاتی ہیں۔
ان کا وزن ڈھائی سے 25 گرام تک ہو سکتا ہے لیکن آپ کو یہ جان کر اور حیرت ہوگی کہ چھوٹے ہمنگ برڈ بڑے سائز والے ہمنگ برڈ سے زیادہ کھانا کھاتے ہیں۔
بہت سے ایسے کیڑے اور مکوڑے بھی ہیں جو اپنے وزن سے زیادہ غذا کھاتے ہیں۔
ان میں سے پالیفیمس نامی کیڑا زیادہ مشہور ہے۔ فصلوں کو تباہ کر دینے والی ٹڈی کی نسل بھی بہت زیادہ کھاتی ہے۔
اسی طرح جونک بھی اپنے وزن سے سات گنا زیادہ خون پی سکتی ہے۔
ایمیزون اور ایشیا میں پائی جانے والی ان جونکوں کو بے حساب خون چوستے ہوئے دیکھا گيا ہے۔ یہ ایک بار میں اتنا خون پی لیتی ہیں کہ ان کا وزن سات گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جونک کی نقل و حرکت بہت محدود ہوتی ہے۔ اس وجہ سے انھیں شکار کی آمد کا انتظار رہتا ہے، لہذا جب بھی موقع ملتا ہے، وہ کئی دنوں کے لیے خون چوس لیتی ہیں۔