آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
روشنی اور شور سے چڑیوں کے گانے ماند پڑ گئے
دنیا بھر میں ہمیشہ بلبل کا بچہ ’کھاتا تھا کھچڑی، گاتا تھا گانے‘ لیکن اب برطانیہ میں لوگوں کا بلبل کی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک پرندہ شہر کی روشنیوں اور شور سے پریشان ہے اور اس کے گانے میں بھی وہ بات نہیں رہی جو ہوا کرتی تھی۔
یہ بات ساؤتھ ہیمپٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہر کے ایک عوامی پارک میں پائے جانے والی لال چڑیاں یا روبن روشنی اور شور کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔
مذکورہ تحقیق میں ماہرین نے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ اگر ان پرندوں کا مسکن روشنیوں کے قریب اور سڑک کے کنا رے ہو تو ان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کی سربراہ فرانسز ملانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چونکہ روبن یا لال چڑیا برطانیہ کے تقریباً ہر پارک میں پائی جاتی ہے، اس لیے کسی بھی شہری ماحول میں پرندوں کی زندگی کے مطالعے کے لیے روبن ایک بہت اچھا ذریعہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تر نر لال چڑیوں کا تعلق ہے تو وہ بھی دوسرے پرندوں کی نسبت اپنی سرگرمیاں صبح سویرے شروع کر دیتی ہیں، اس لیے ان پر روشنی کے اثرات دیکھنا زیادہ آسان بھی ہے۔‘
’چونکہ نر پرندے اپنے علاقے کا دفاع بہت جارحانہ انداز میں کرتے ہیں اور اس کے لیے خوب شور شرابا کرتے ہیں، اس لیے تحقیق کرنے والوں کو یہ دیکھنے میں آسانی ہوئی ہے کہ یہ ’رعب دار‘ گروہ سڑکوں پر لگی روشنیوں اور گاڑیوں کے شور سے کیسے متاثر ہوتا ہے۔ نر لال چڑیوں کا یہ رعب دار گروہ نہ صرف اپنے علاقے کے دفاع کے لیے شور مچاتا ہے بلکہ مادہ چڑیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے بھی ایسا ہی کرتا ہے۔
تحقیق میں شامل سائنسدانوں نے اس مطالعے کے لیے بھوسے سے بھرے ہوئے نقلی روبن استعمال کیے جن میں انھوں نے روبن کی آواز میں گانے ریکارڈ کیے ہوئے تھے۔ یہ نقلی پرندے شہر کے مرکزی پارک میں مختلف جگہوں پر رکھے گئے اور پھر انھوں نے اس بات کا مطالعہ کیا کہ وہاں پر پائی جانے والی اصلی لال چڑیاں جواب میں کتنے گانے گاتی ہیں یا کتنا شور مچاتی ہیں۔
سائنسدانوں نے دیکھا کہ جو لال چڑیاں پارک میں سڑک کے قریب اور شور والے حصوں میں تھیں، ان کی آوازیں ان چڑیوں کے مقابلے میں بہت کم ہو گئیں جو دوسرے حصوں میں تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانسز ملانی کہتی ہیں کہ ان کے مشاہدہے کے مطابق رات کی مصنوعی روشنیاں اور دن کے وقت کا شور شرابا ان چڑیوں پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور ان سے شہری علاقوں کے پرندوں کا رد عمل تبدیل ہو جاتا ہے۔
اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے یونیورسٹی آف گلاسکو سے منسلک صحتِ حیوانات کے ماہر ڈاکٹر ڈیوڈے ڈامینونو کا کہنا ہے کہ اس تحقیق نے پرندوں پر مصنوعی روشنیوں اور اور شور شرابے کے اثرات پر ’نئی روشنی‘ ڈالی ہے۔
ان کے بقول اب ’اس بات کا تعین کرنا دلچسپ ہو گا کہ لال چڑیوں کے رویوں میں یہ تبدیلی شور اور روشنی کی وجہ سے ہوتی ہے یا اس کی وجہ یہ ہے کہ شہری پارکوں میں رہنے والے پرندوں پر ذہنی دباؤ زیادہ ہوتا ہے اور وہ اپنے علاقے کا دفاع کرنے کے قابل نہیں رہتے۔‘