BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 September, 2008, 10:40 GMT 15:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پی سی بی کو ہائی جیک کرلیاگیا‘

رمیز راجہ
’ کرکٹ کی زبان میں بات نہیں کریں گے تو یہ بے تکی بات ہوگی‘
آئی سی سی کے اجلاس میں وفاقی وزیر کھیل کی شرکت کی خبر پر پاکستانی کرکٹ حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق وزارت کھیل کی جانب سے نئے چیئرمین کی تقرری تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات سنبھالنے کے بعد وفاقی وزیر کھیل نجم الدین خان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ خود چودہ اور پندرہ اکتوبر کو آئی سی سی کی بورڈ میٹنگ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی نمائندگی کریں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹیو عارف عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دراصل پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہائی جیک کرلیا گیا ہے‘ اور انہیں اس کی صرف ایک یہی وجہ نظر آتی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس بہت پیسہ ہے جس نے وزارت کھیل کو مجبور کیا ہے کہ وہ کرکٹ بورڈ کواپنے کنٹرول میں لے لے۔

عارف عباسی نے کہا کہ پیٹرن کی حیثیت سے صرف صدر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات میں مداخلت کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ’پاکستان سپورٹس بورڈ کے ماتحت کئی دوسرے کھیل بھی ہیں جن کی کارکردگی کرکٹ سے کہیں زیادہ ابتر ہے۔ وزارت کھیل اور کھیلوں کے وزیر ان کھیلوں پر کیوں توجہ نہیں دیتے؟‘

عارف عباسی نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ایک کارپوریٹ باڈی ہے جس کی حیثیت ختم کرنے کے ماضی میں بھی کئی جتن ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ’وزیر کھیل کا آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت کرنا خود آئی سی سی کے ساتھ ایک مذاق ہے کیونکہ آئی سی سی بھی ایک رجسٹرڈ کمپنی ہے یہ کوئی اقوام متحدہ نہیں ہے‘۔

سابق کپتان اور پاکستان کرکٹ بورڈ میں چیف ایگزیکٹیو کی ذمہ داری نبھانے والے رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ’آئی سی سی ایک غیر سیاسی فورم ہے جہاں اگر کوئی شخص کرکٹ کی زبان میں بات نہیں کرے گا تو یہ بے تکی سی بات ہوگی۔ آئی سی سی کی سطح پر نمائندگی موثر ہونی چاہیے‘۔

 وزیر کھیل کا آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت کرنا خود آئی سی سی کے ساتھ ایک مذاق ہے کیونکہ آئی سی سی بھی ایک رجسٹرڈ کمپنی ہے یہ کوئی اقوام متحدہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہتر یہی ہوتا کہ آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت کے لیے کسی کرکٹر یا کسی ایسے شخص کو نامزد کیا جاتا، جو کرکٹ سمجھتا ہو۔ کسی نئے شخص کے لیے کرکٹ کا پورا پس منظر اتنی جلدی سمجھنا اور سمجھانا مشکل ہے۔

سابق کپتان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے غیرفعال گورننگ بورڈ کے رکن انتخاب عالم کے مطابق وزیر کھیل کو انٹرنیشنل فورم پر کون جانتا ہے جو وہ پاکستان کی موثر نمائندگی کر سکیں۔ اس سطح پر تعلقات بنانے میں سال بیت جاتے ہیں اور یہ اتنا آسان کام نہیں۔

انتخاب عالم نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات میں وزارت کھیل کی مداخلت اور آئین میں تبدیلی سمجھ سے باہر ہے۔’یہ کام نئے چیئرمین پر چھوڑ دینا چاہیے تھا کہ وہ آ کر اس معاملے کو دیکھتے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد