مینڈس واضح فرق ثابت ہوئے: دھونی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہندر سنگھ دھونی اور مہیلا جے وردھنے نے ایشیا کپ فائنل میں اجانتھا مینڈس کو دونوں ٹیموں میں واضح فرق قرار دیا ہے۔ منفرد گیندیں کرانے والے اجانتھا مینڈس کی چھ وکٹوں کی شاندار کارکردگی نے سری لنکا کی سو رنز سے جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ میچ کے بعد بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی نے اعتراف کیا کہ مینڈس کو سمجھنا اور کھیلنا ان کے بیٹسمینوں کے لئے بہت مشکل رہا جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ انہیں پہلے نہیں کھیلے تھے۔ بیٹسمین کھیلنا کچھ چاہتے تھے، گیند کچھ اور ہوتی تھی ۔وہ اپنے بیٹسمینوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مینڈس کی وجہ سے ہی انہیں ٹیم میں اضافی بیٹسمین رابن اتھپا کو کھلانا پڑا تھا لیکن یہ تدبیر بھی کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ مینڈس کے خلاف گیم پلان سے متعلق سوال پر دھونی نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا: ’مسئلہ یہ تھا کہ سری لنکا نے مینڈس کو بھارت کے نیٹ میں پریکٹس کے لئے نہیں بھیجا۔‘ انہوں نے کہا کہ مینڈس کی بولنگ کی وڈیوز دیکھی گئی تھیں لیکن جب تک آپ کسی بولر کو نہ کھیلیں اس کے بارے میں پتہ نہیں ہوتا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں ایسے کئی بولرز ہیں جو پندرہ سال سے بولنگ کر رہے ہیں، ان کا سب کو پتہ ہے کہ وہ کس طرح کے بولرز ہیں لیکن پھر بھی وہ وکٹیں لے رہے ہیں۔
دھونی نے کہا کہ ایشیا کپ کا سب سے مثبت پہلو یہ ہےکہ ان کی ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی جو دوسرے فائنل میں پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ ان کی ٹیم برا کھیلی ۔ بنگلہ دیش میں یونس خان کی سنچری تھی تو اس مرتبہ جے سوریا اور مینڈس قابل ذکر رہے۔ دھونی نے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن ہیں، بیشتر مواقع پر وہ اچھا کھیلی، وہ جن میچوں میں جیتی وہ کامیابیاں واضح تھیں۔ اس سوال پر کہ بھارتی بولرز دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں لیکن پاکستانی وکٹوں پر کامیاب نہیں ہوپاتے، بھارتی کپتان نے کہا کہ ہر جگہ کنڈیشن مختلف ہوتی ہے۔ ان کے بولرز کے لئے اچھا موقع ہے کہ وہ ان وکٹوں پر بولنگ کے تجربے کو سمجھیں اور سیکھیں۔ سری لنکن کپتان مہیلا جے وردھنے کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جیت میں مینڈس کی شاندار بولنگ کا کردار سب سے اہم رہا لیکن جے سوریا کی سنچری کو کسی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جن کی وجہ سے ان کی ٹیم ایک اچھے اسکور تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکی۔ جے وردھنے نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ یہ فائنل یکطرفہ رہا۔انہیں پتہ تھا کہ بھارتی ٹیم کتنی خطرناک ہے اس لئے انہیں بھی اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ جب وریندر سہواگ بیٹنگ کررہے تھے اس مرحلے وہ شدت سے ایک وکٹ کے منتظر تھے اس مرحلے پر مرلی دھرن کو وہ اس لئے بولنگ کے لئے نہیں لائے کہ گیند ان کے لئے نئی تھی۔ انہوں نے مینڈس کو اس لئے بولنگ دی کیونکہ وہ ٹارگیٹ پر گیندیں کرتے ہیں، اسے آپ جوا کہہ سکتے ہیں جو کامیاب رہا اور مینڈس نے ایک ہی اوور میں دو وکٹیں حاصل کرڈالیں۔ جے وردھنے نے کہا کہ اس میچ میں دو مختلف حکمت عملی نظرآئیں۔ انہوں نے ایک اضافی بولر اس لئے کھلایا تاکہ بھارتی بیٹنگ کو کنٹرول کیا جاسکے جبکہ دھونی کا خیال یہ تھا کہ وہ ہدف عبور کرسکتے ہیں اس لئے وہ اضافی بیٹسمین کے ساتھ کھیلے۔ جے وردھنے نے کہا کہ مرلی دھرن کی صلاحیتوں سے انکار نہیں وہ ورلڈ کلاس بولر ہیں لیکن برصغیر کی وکٹوں پر انہیں ایک ساتھی بولر کی ضرورت تھی جو ان کا بوجھ ہلکا کرسکیں۔ انہیں امید ہے کہ مینڈس کے آنے کے بعد اب مرلی زیادہ سکون سے بولنگ کرسکیں گے لیکن مینڈس کو بھی زیادہ محنت کرنی ہوگی کیونکہ انہیں کھیلنے کے بعد بیٹسمین ان کے بارے میں بہت کچھ جان جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||