جدید بیٹ، بلے باز کے لیے آسانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روایتی طور پر کرکٹ کے قوانین بنانے والا ادارے دی مارلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کے ایک خصوصی اجلاس میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہیں کرکٹ بیٹ میں کاربن فائبرز اور گریفائٹ جیسے عناصر سے تیار کیے جانے والے جدید کرکٹ بیٹ سے بلے بازوں کو غیر منصفانہ فائدہ تو نہیں مل رہا۔ کرکٹ کے قانون نمبر چھ کے تحت’ گیند اور بلے کے درمیان توازن ہونا چاہیے اور اس اجلاس میں آج کل تیار ہونے والے کرکٹ بیٹس اور ان کے ہینڈلز میں نئے میٹیریل کے استعمال کے تناظر میں میں اسی قانون پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔ کاربن فائبرز اور گریفائٹ جیسے عناصر کے استعمال سے ایک جانب تو کرکٹ بیٹ کی مضبوطی اور طاقت میں اضافہ ہو جاتا ہے وہیں یہ اس کے وزن میں کمی کا سبب بھی بنتے ہیں اور ایم سی سی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کہیں یہ بلے بازوں کے لیے غیر مصنفانہ فائدے کا باعث تو نہیں۔ آج کل کرکٹ بیٹس کے ہینڈل کاربن فائبر کے کھوکلے ڈنڈے پر مشتمل ہوتے ہیں جسے بیٹ سے لکڑی کے ٹکڑے کی مدد سے جوڑا جاتا ہے جبکہ روایتی بلے کا ہینڈل بید اور ربر پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کا وزن کاربن والے ہینڈل سے چھ آؤنس زیادہ ہوتا ہے۔جدید بیٹ کا بلیڈ بھی زیادہ موٹا ہوتا ہے جس سے اس کے درمیانی حصے کی طاقت اور مضبوطی بڑھ جاتی ہے۔ ایم سی سی کے اس خصوصی اجلاس کے بعد کلب کا سالانہ عام اجلاس بھی ہوگا جس میں بھی یہ بات زیرِ بحث آئے گی کہ وہ کیا عناصر ہیں جنہیں قانونی طور پر بیٹ کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت کرکٹ قوانین میں بیٹ کی تیاری کے حوالے سے بہت کم شرائط ہیں جن کے تحت بیٹ لکڑی کا بنا ہونا چاہیے اور اس کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی سوا چار انچ اور لمبائی اڑتیس انچ ہونی چاہیے۔ یاد رہے کہ سنہ 2006 میں کھیلوں کا سامان تیار کرنے والے کمپنی کُوکابرا نے آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان رکی پونٹنگ کے لیے ایک بیٹ تیار کیا تھا جسے اس بنیاد پر غیر قانونی قرار دیا گیا تھا کہ اس کے بلیڈ کے پیچھےگریفائٹ کی پٹی لگی ہوئی تھی اور ایم سی سی کا کہنا تھا کہ’ اس سے کرکٹ بال کی شکل بگڑی سکتی ہے‘۔بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے بھی ایم سی سی کے اس فیصلے کی حمایت کی تھی جس کے بعد کمپنی نے یہ بیٹ واپس لے لیا تھا۔ واضح ہو کہ ایم سی سی کے اجلاس میں کسی قانون میں تبدیلی کے لیے اٹھارہ ہزار ممبران میں سے دو تہائی کی حمایت درکار ہوتی ہے اور اگر بیٹ کی ساخت کے قانون میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو اس کا نفاذ کسی پروفیشنل مقابلے میں یکم اکتوبر سنہ 2008 سے قبل نہیں ہو سکتا۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||