پاک بنگلہ دیش سیریز کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک کا کہنا ہے کہ وہ یہ دعوی نہیں کرتے کہ وہ بنگلہ دیش سے پانچ میچوں کی سیریز پانچ صفر سے جیت سکتے ہیں بلکہ ان کی کوشش ہے کہ وہ یہ سیریز جیت لیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سریز کا پہلا میچ منگل کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جا رہا ہے۔ پیر کے روز قذافی سٹیڈیم میں دونوں کپتانوں نے سیریز کی ٹرافی کی نقاب کشائی کے اس موقع پر سیریز کو سپونسر کرنے والے ادارے کے نمائندے کے علاوہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی بھی موجود تھے۔ اس سیریز کے لیے پی سی بی کو دو کروڑ 75 لاکھ روپے کی سپونسر شپ حاصل ہوئی ہے جو اس سیریز پر ہونے والے اخراجات سے کافی کم ہے لہذا یہ سیریز خسارے میں جائے گی اور پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کام منافع کمانا نہیں بلکہ کرکٹ کروانا ہے۔ یہ سیریز چونکہ آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے پاکستان آنے سے انکار کے سبب متبادل کے طور پر منعقد کی جا رہی ہے جبکہ اگر آسٹریلیا کی ٹیم آتی تو یہ بہت منافع بخش سیریز ہوتی۔ شفقت نغمی سے دریافت کیا گیا کہ کیا سیریز کی زیادہ سپونسر شپ نہ ملنا آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے درمیان بہت بڑے فرق کے سبب ہے تو ان کا فوری جواب تھا کہ آسٹریلیا سے تو پاکستان کی ٹیم کا بھی کوئی مقابلہ نہیں۔ ٹرافی کی نقاب کشائی کے بعد جب شعیب ملک سے شفقت نغمی کے اس جواب پر رائے چاھی تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے متفق نہیں۔ شعیب ملک کا کہنا ہے تھا کہ کرکٹ ایسا کھیل ہے کہ اس میں میچ کے دن جو بھی ٹیم اچھا کھیلتی ہے جیتتی ہے اور میں پاکستان کی ٹیم کا آسٹریلوی ٹیم یا جنوبی افریقہ کی یا کسی اور ٹیم سے موازنہ نہیں کرتا اور کرکٹ کو کھیل سمجھ کر کھیلتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بنگلہ دیش کی ٹیم کو بھی کمزور نہیں سمجھتے۔ شعیب ملک نے کہا کہ شعیب اختر کے معاملے پر وہ کوئی بات نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ پی سی بی اور ان کے درمیان معاملہ ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو تسلیم نہیں کیا کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے بغیر ان کی ٹیم کا بالنگ اٹیک کمزور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمر گل، سہیل تنویر اور راؤ افتخار بھی بہت اچھے بالر ہیں اور آصف بھی فٹ ہو گئے ہیں اور دو میچوں کے بعد ہو سکتا ہے کہ وہ ٹیم میں ہوں۔ شعیب ملک نے کہا کہ گو کہ ٹیم سیریز کافی عرصے کے بعد کھیل رہی ہے لیکن چونکہ نیشنل ون ڈے میچز ہو رہے تھے اس لیے کھلاڑی فارم میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ سیریز جیتنے کے بعد وہ چاہیں گے کہ زمبابوے کے خلاف سیریز کی طرح بنگلہ دیش کے خلاف بھی نئے کھلاڑی آزمائے جائیں لیکن سیریز جیتنا پہلی ترجیح ہے۔ ادھر بنگلہ دیش کی ٹیم کے کپتان اشرفُل کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم اگرچہ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے لیکن ٹیم باصلاحیت ہے اور ہم نے آئر لینڈ کو 0-3 سے شکست دی جس سے ٹیم کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ اشرفل کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف اچھی کرکٹ سیکھنا اور کھیلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم بہتر ہے لیکن اس بات کا ہماری ٹیم پر کوئی دباؤ نہیں ہماری ٹیم بھی اچھی ہے اور ہم مقابلہ کریں گے۔ | اسی بارے میں ’ہماری ٹیم باصلاحیت ہے‘06 April, 2008 | کھیل شعیب،آصف باہر، بازید کی واپسی30 March, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||