’نیوٹرل گراؤنڈ پر سیریز نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے خلاف کرکٹ سیریز کا کسی دوسرے ملک میں کروانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پی سی بی آفیسر شفقت نغمی نے کہا کہ آسٹریلین کرکٹ بورڈ پاکستان کے دورے کے بارے میں صورتحال ایک دو روز میں واضح ہو جائے گی۔ آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے سکیورٹی وفد کی پاکستان سکیورٹی کا جائزہ لیے کے لیے آمد مارچ کے پہلے ہفتے میں متوقع تھی لیکن پی سی بی کو ابھی اس کے آنے کی کوئی اطلاع نہیں۔ اس ساری صورتحال سے آسٹریلوی ٹیم کے پاکستان آنے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کسی دوسرے ملک یعنی نیوٹرل وینیو پر یہ سیریز کروانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ شفقت نغمی نے ایسی تمام باتوں کو افواہیں قرار دیا اور کہا کہ ایسی اطلاعات یکسر غلط ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کسی ایسے امکان پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں بہت قباحتیں ہیں کیونکہ پھر تو ہر ملک یہ مطالبہ کرنے لگے گا کہ وہ نیوٹرل وینیو پر کھیلے گا اور اس سے متعلقہ ملک کی کرکٹ تباہ ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کرکٹ شائقین کرکٹ کا کھیل ہے اور وہ اسے سٹیڈیم میں دیکھنا چاہتے ہیں اور کسی دوسرے ملک کے شائقین کو ایسی سیریز میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ پاکستان کرکٹ بورڈ کے دو سابق سربراہوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ آسٹریلوی ٹیم کے پاکستان نہ آنے کی صورت میں نیوٹرل گراؤنڈ پر سیریز نہیں کھیلنی چاہئے۔ لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیر ضیا اور عارف علی خان عباسی کی یہ رائے ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آسٹریلوی کرکٹ بورڈ اپنے دفتر خارجہ سے ملنے والی بریفنگ کے بعد دورۂ پاکستان کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے والا ہے اور آسٹریلوی کرکٹرز ایسوسی ایشن نے اپنا نمائندہ حالات کا جائزہ لینے کے لئے پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا ہے جبکہ ذرائع ابلاغ نیوٹرل گراؤنڈ پر سیریز کے انعقاد کی قیاس آرائیاں کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ 2002ء میں بھی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان نے تین ٹیسٹ کولمبو اور شارجہ میں کھیلے تھے اسوقت پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور ایک حاضر سروس فوجی جرنیل توقیر ضیا کے ہاتھوں میں تھی۔ توقیر ضیا کا کہنا ہے کہ اسوقت حالات آج سے قطعاً مختلف تھے۔اسوقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس کھیلنے کو کرکٹ ہی نہیں بلکہ پیسے بھی نہیں تھے اور ورلڈ کپ کی تیاری کرنی تھی اگر ہم آسٹریلیا سے نہ کھیلتے تو ٹی وی نشریاتی حقوق کی مد میں پیسے بھی نہ ملتے جبکہ آج پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس بہت پیسہ ہے اب یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کی خاطر نیوٹرل مقام پر میچز کھیلتا ہے یا نہیں لیکن ذاتی طور پر وہ نیوٹرل گراؤنڈ پر سیریز کے حق میں نہیں ہیں۔ نہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کا دورۂ پاکستان ممکن نظر نہیں آرہا ہے اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی بھی انہیں یہاں ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ توقیرضیا نے کہا کہ بھارت بنگلہ دیش یا کسی دوسری ٹیم کو یہاں بلانا مسئلے کا حل نہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو عارف علی خان عباسی کا کہنا ہے کہ بم دھماکے صرف پاکستان میں نہیں ہوئے ہیں۔آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے لندن میں سات بم دھماکوں میں پچاس سے زائد ہلاکتوں کے باوجود کرکٹ جاری رکھی پھر وہ پاکستان کے معاملے میں دوہرا معیار کیوں اختیار کئے ہوئے ہے۔ عارف عباسی کے خیال میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز نیوٹرل گراؤنڈ پر کھیل کر ہم نے غلط روایت ڈال دی ہے عارف عباسی نے کہا کہ جو بھی سکیورٹی وفد یہاں آتا ہے کرکٹ بورڈ چار پانچ پولیس موبائلیں ائرپورٹ پر بھجواکر آنے والوں کو پہلے ہی چونکا دیتا ہے۔ عارف عباسی کا کہنا ہےکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کوئی غیر اہم کرکٹ بورڈ نہیں ہے لہذا اسے معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کے بجائے سخت موقف پر قائم رہنا چاہئے۔ | اسی بارے میں آسٹریلیا سیریز کی انشورنس21 January, 2008 | کھیل ’ دورۂ پاکستان تبدیل نہیں ہو گا ‘24 January, 2008 | کھیل ٹیم کا بھی فائدہ، میرا بھی: آصف14 July, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||