BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 April, 2007, 11:24 GMT 16:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سارا اینٹیگا بِیس منٹ میں

سر ووین رچرڈز، کورٹنی والش، رچی رچرڈسن سب موجود تھے
دلکش موسم، گہرا نیلا سمندر، صاف شفاف پانی اور چاروں طرف چھوٹی چھوٹی سرسبز پہاڑیاں، اور آبادی اتنی کہ اس سے زیادہ لوگ کسی بھی وقت دلی یا کراچی کے ریلوے سٹشن پر دیکھ سکتے ہیں۔ اور وہ بھی اس وقت جب سٹیشن پر بھیڑ زیادہ نہ ہو۔

آپ ہوٹل سے نکلیں اور کہیں بھی جائیں ہرجگہ صرف بیس منٹ کے فاصلے پر ہے۔

ٹیکسی والے سے کہیں بھی چلنے کے لیے کہیں، جواب ایک ہی ہوتا ہے: ’ بیس منٹ کا راستہ ہے۔‘

کتنے پیسے ہوں گے؟ ’ بیس یو ایس‘ (یعنی بیس امریکی ڈالر)۔


تو کیا حیرت کی بات ہے کہ ہوٹل پہنچنے کے صرف بیس منٹ کے اندر( یا اس سے ایک دو گھنٹے زیادہ میں) میری ملاقات ایک ہندوستانی نژاد ہندو لڑکے اور ایک پاکستانی نژاد مسلمان لڑکی سے ہوگئی۔ دونوں کے آبا و اجداد کو دوسرے ہزاروں لوگوں کی طرح یہاں کھیتوں میں کام کرنے کےلیے ہندوستان سے لایا گیا تھا۔ لڑکی کے والد کا تعلق برصغیر کے اس علاقے سے جو اب پاکستان میں ہے۔

ہندو لڑکا، مسلمان لڑکی۔ تو چاہے بات تقسیم ہند سے سو ڈیڑھ سو سال پرانی ہی کیوں نہ ہو دلچسپ ضرور ہے، ورنہ اس کہانی پر کئی فلمیں کیوں بنتیں۔

ریشما کے والد ہندو ہیں جبکہ ان کی والدہ بہت مذہبی ہیں، ہفتے میں دو مرتبہ مسجد جاتی ہیں، اور ’انہیں زیادہ خوشی ہوتی اگر میں مسلمان لڑکے سے شادی کرتی ۔۔۔

شوہر ران پرساد اپنے پرکھوں کی آتما کی شانتی کے لیے بدری ناتھ کیدار ناتھ کی یاترا کرنا چاہتے ہیں، لیکن بیوی کے مذہب سے انہیں کوئی لینا دینا نہیں۔

کہانی کافی فلمی ہے۔ تھوڑی اور بات اور کی تو معلوم ہوا کہ ریشما کےوالد نوبل انعام یافتہ مصنف وی ایس نائپال کے بھتیجے ہیں۔ تو پھرکہانی میں اتار چڑھاؤ تو آنے ہی تھے لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے خود وی ایس نائپال مسلمانوں یا اسلام سے زیادہ محبت نہیں کرتے۔

ہندو لڑکا، مسلمان لڑکی۔ بات دلچسپ ضرور ہے، ورنہ اس کہانی پر کئی فلمیں کیوں بنتیں؟

آسٹریلوی ٹیم کی نیٹ پریکٹس دیکھنے سٹیڈیم پہنچا تو معلوم ہوا کہ اینٹیگا کے تمام بڑے سابق کرکٹرز ’سینڈی ہیون بیچ‘ پر بین الاقوامی میڈیا کی ٹیم کے ساتھ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا میچ کھیل رہے ہیں۔

سر ووین رچرڈز، کورٹنی والش، رچی رچرڈسن سب موجود تھے اور جس طرح عام لوگوں کے ساتھ گھل مل رہے تھے، کوئی کہہ نہیں سکتا کہ اس ملک میں یہ لوگ آج بھی سپر اسٹارز ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اینٹیگا میں کوئی نہیں چاہتا کہ ورلڈ کپ ویسٹ انڈیز جیتے، یا کم سے کم ان لوگوں میں سے تو کوئی نہیں چاہتا تھا جن سے میری ملاقات ہوئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ویسٹ انڈیز کی موجودہ ٹیم میں اینٹیگا کا ایک بھی کھلاڑی شامل نہیں ہے۔ موجودہ ’ٹیم پر ٹرینیڈاڈ، جمائکا اور گرینیڈا جیسے بڑے جزیروں کا غلبہ ہے۔‘

اور آخر میں آپکو یہ اور بتا دوں کہ اتوار کو جب آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان میچ ہوگا، تو پورے ملک کی تقریباً چوتھائی آبادی انیس ہزار کی گنجائش والے سٹیڈیم میں موجود ہوگی۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہندوستان میں اگر چوتھائی آبادی کے لئے سٹیڈیم بنانا ہو تو کم سے کم تیس کروڑ لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام کرناہوگا!!

’شمشان گھاٹ‘
سبائنا پارک کی خاموشی اور شفیع کا اداس دل
کرکٹ کا شیدائیسپر ایٹ مرحلہ
آسٹریلیا بمقابلہ ویسٹ انڈیز تصویروں میں
ہوٹل پیگیسز’میدان نہیں ہوٹل‘
میڈیا کی توجہ کرکٹ کی بجائے ہوٹل پیگیسز پر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد