’اظہر کی شمولیت سے متفق نہ تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف سلیکٹر وسیم باری نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اظہرمحمود کی ٹیم میں شمولیت سے متفق نہیں تھے جبکہ کپتان اور کوچ دانش کنیریا کو ٹیم میں شامل کرنے کے حق میں نہ تھے تاہم باہمی اتفاق سے ٹیم سلیکشن کو حتمی شکل دی گئی۔ وسیم باری کو آل راؤنڈر اظہرمحمود کی ٹیم میں شمولیت پر کڑی تنقید کا سامنا ہے جو ورلڈ کپ کے اعلان کردہ تیس ممکنہ کھلاڑیوں میں بھی شامل نہیں تھے لیکن انہیں جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز میں مایوس کن کارکردگی کے باوجود ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل کرلیا گیا۔ وسیم باری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اظہرمحمود کے معاملے پر انہوں نے ٹیم انتظامیہ سے بات کی تھی کہ وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے لیکن مجبوری یہ تھی کہ عبدالرزاق ان فٹ ہوگئے اس لیے تجربے کو فوقیت دی گئی۔ عام حالات میں اظہر محمود کا ورلڈ کپ میں جانا ممکن نہ تھا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ کے تیس ممکنہ کھلاڑیوں میں اظہرمحمود کو شامل نہ کرتے وقت وسیم باری نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ آگے کی طرف دیکھ رہے ہیں پیچھے کی طرف نہیں لیکن پھر انہوں نے یکایک اپنا مؤقف تبدیل کرلیا۔ وسیم باری کا اس بارے میں کہنا ہے کہ موقع کی مناسبت سے فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور لچک رکھنی پڑتی ہے۔
چیف سلیکٹر لیگ سپنر دانش کنیریا کی ورلڈ کپ سکواڈ میں شمولیت کا کریڈٹ خود لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم منیجمنٹ کنیریا کو لینے کے لیے تیار نہ تھی لیکن انہوں نے انہیں قائل کیا کہ ویسٹ انڈیز میں کلائی سے سپن کرنے والے بولر کی ضرورت ہے اور دانش کنیریا وہاں کامیاب ثابت ہوسکتا ہے جس کے بعد کپتان اور کوچ انہیں لینے کے لیے تیار ہوگئے۔ پاکستان کے متعدد سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی جانب سے وسیم باری کو سخت مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔ یہ کرکٹرز جن میں سابق چیف سلیکٹر صلاح الدین سرفہرست ہیں وسیم باری کو’یس مین‘ اور سلیکشن کمیٹی کو ربر سٹمپ قرار دیتے ہوئے یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ سلیکشن کے معاملات میں وسیم باری کو بائی پاس کرکے چیئرمین کرکٹ بورڈ فیصلے کرلیتے ہیں یا پھر کپتان جو کہتے ہیں وسیم باری ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں۔ وسیم باری ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ ایسا کون کپتان ہے جس نے اپنی پسند یا اعتماد کے کھلاڑی نہیں کھلائے؟۔ وہ راشد لطیف کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے ملتان ٹیسٹ میں محمد یوسف کو ڈراپ کرکے فرحان عادل کو کھلادیا اور اس وقت کے چیف سلیکٹر کو پتہ ہی نہ چلا۔ | اسی بارے میں ٹیموں کا اعلان بدھ کوہوگا: وسیم باری13 May, 2006 | کھیل وسیم باری کو وارننگ05 September, 2004 | کھیل آئی سی سی: وسیم باری سے معذرت16 September, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||