’مذہب نے یوسف کو بدل دیا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے چوتھے دن جب کھیل شروع ہوا تو دنیا بھر میں کرکٹ مبصرین اس فکر میں تھے کہ کیا وہ سنیتالیس رنز بنا کر کرکٹ کی دنیا میں سر کا خطاب پانے والے شہرہ آفاق کھلاڑی ویون رچرڈز کا ایک سال میں سب سے زیادہ رن بنانے کا تیس سال ریکارڈ برابر کر سکیں گے۔ محمد یوسف نے انہتائی اطمینان سے نصف سنچری مکمل کرکے نہ صرف رچرڈز کا ایک سال میں سترہ سو سولہ رن بنانے کا ریکارڈ توڑ دیا بلکہ میچ کے دوسرے سیشن میں انہوں نے اس سال میں نویں سنچری بنا کر ایک نیا ریکارڈ بنا ڈالا۔ وہ ایک سال میں سات سنچریاں بنانے کا ریکارڈ پہلے ہی توڑ چکے تھے جسے انہوں نے ایک اور سنچری بنا کر مزید بہتر کر لیا۔ اسی دوران کسی پاکستانی کھلاڑی کی طرف سے تین ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ پانچ سو تراسی رنز بنانے کا ظہیر عباس کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔ ظہیر عباس نے یہ ریکارڈ انیس سو اٹہتر اور اناسی میں بھارت کے خلاف بنایا تھا۔ چھٹی مسلسل سنچری بنانے کے بعد محمد یوسف کرکٹ کی تاریخی میں جنوبی افریقہ کے ژاک کلس اور سر ڈان بریڈ مین کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے چھ ٹیسٹ میچوں میں چھ سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل کر رکھا ہے۔ باب وولمر نے محمد یوسف کے اس کارنامے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ویوین رچرڈز کے ساتھ کھیلنے اور محمد یوسف کو کوچ کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ رچرڈز کا ریکارڈ توڑنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ سنجے منجریکر نے کہا کہ محمد یوسف کو دیکھ کر لگتا ہے کہ بڑی محویت سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس قدر پرسکون نظر آتے ہیں اور ان کی دماغی کیفیت میں یہ تبدیلی حیران کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ گو محمد یوسف نے زیادہ تر رنز سپاٹ اور کمزور وکٹوں پر بنائے ہیں لیکن اس بات سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نسیم اشرف نے کہا کہ پاکستان کو محمد یوسف کے اس کارنامے پر فخر ہے۔ رمیز راجہ نے کہا کہ محمد یوسف بہتریں کھیل پیش کر رہے ہیں اور انہوں نے دنیا کی بہتریں انڈیا، انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے خلاف یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ محمد یوسف نے اپنی تیکنیک میں کوئی تبدیلی کی ہے بلکہ ان کی دماغی کیفیت بالکل بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا مذہب نے ان کی شخصیت اور دماغی کیفیت کو بدلنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان ٹیم کے سابق کپتان نے کہا کہ انہیں محمد یوسف کی ٹیم کو مشکل صورت حال سے نکالنے کی صلاحیت پر ہمیشہ سے شبہ رہا ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ وہ ٹیم کو کسی بھی صورت حال میں میچ جتواسکتے ہیں۔ | اسی بارے میں آٹھ سنچریاں: یوسف نے ریکارڈ توڑ دیا27 November, 2006 | کھیل ’میں ویون رچرڈز نہیں بن سکتا‘27 November, 2006 | کھیل ویسٹ انڈیز کو پہلا نقصان30 November, 2006 | کھیل یوسف: ریکارڈوں کی ہیٹ ٹرک30 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||