پاکستان برا کھیلا: باب وولمر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کوچ وولمر نے کہا ہے کہ دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن تھی۔ باب وولمر نے کہا کہ اولڈ ٹریفورڈ میں خراب کھیلنے کے لئے کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی پِچ کو الزام دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا نہیں لگتا کہ ہمارے بیٹسمین تیز باؤلنگ سے گھبراتے ہیں مگر اس سے بہتر کھیلنا ہمیں سیکھنا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میچ کے شروع ہی سے سٹیو ہارمیسن کے غیرمعمولی باؤنسروں نے انگلیینڈ کی جیت کو واضح کر دیا تھا۔وولمر نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے کبھی بھی اتنی خراب پہلی اننگز نہیں کھیلی۔ باب وولمر نے کہا’ میچ کی پہلی صبح ہم نے بہت محنت سے کھیلا اور سوچا کہ لنچ کے بعد تک ہمارے پاس صرف دو وکٹوں کے گرانے کی گنجائش ہے۔ مگر ہم نے دو وکٹیں لنچ سے پہلے اور دو لنچ کے بعد ضائع کر دیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم نے اوسط درجے کے کھیل کا مظاہرہ کیا۔ کچھ اچھی شاٹس بھی ہم نے کھیلیں مگر پہلے دن ایک سو انیس رنز بنانے کے بعد ہم انگلینڈ کا مقابلہ نہیں کر سکے۔‘ دنیش کنیریا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’ کنیریا نہایت عمدہ باؤلر ہیں لیکن اس میچ میں قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا ورنہ وہ ہمیں میچ جتا سکتا تھا مگر اس سے پہلے ہمیں انگلینڈ کو دباؤ میں لانا چاہئے تھا۔‘ وہ پر امید ہیں کہ پاکستان اوول میں ہونے والے اگلے میچ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔ | اسی بارے میں دوسرے ٹیسٹ میں بھی چوٹوں کا غلبہ26 July, 2006 | کھیل پاکستان بمقابلہ انگلینڈ، سکور کارڈ27 July, 2006 | کھیل 624 رن کی ریکارڈ شراکت29 July, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||