اٹلی: میچ فکسنگ، بڑے کلبوں کوسزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی میں ’میچ فکسنگ‘ میں ملوث پائے جانے پر درجہ اول (سیریز اے) کے تین فٹ بال کلبوں یوئنٹس، لیزیو اور فیورنٹینا کو درجہ دوئم میں ڈال دیا گیا ہے۔ یوئنٹس سے گزشتہ دو مرتبہ سیریز اے میں رہنے کے ٹائٹل بھی واپس لے لیئے گئے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اگلے دو سیزن نچلے درجے میں گزارنے پڑیں گے۔ اے سی میلان اگرچہ سیریز اے میں رہے گا لیکن سزا کے طور پر اسے بھی پندرہ پوائنٹ سے محروم کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد یوئنٹس، اے سی میلان اور فیورنٹینا۔ تینوں چیمپئنز لیگ میں نہیں کھیل سکیں گے جبکہ چوتھا کلب لیزیو اب یوئیفا کپ کے مقابلوں میں حصہ نہیں لے سکے گا۔ متاثر ہونے والے چاروں کلب اس فیصلے پر برھم ہیں اور توقع ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل کریں گے۔ ان کے پاس ملک کی فیڈرل کورٹ میں اپیل کرنے کے لیئے تین دن کی مہلت ہے لیکن انہیں خدشہ ہے کہ جب تک اپیل کا فیصلہ ہوگا لیگ میں کلب کو رجسٹر کرانے کی آخری تاریخ گزر چکی ہو گی اور یہ کلب اس سال لیگ نہیں کھیل سکیں گے۔ یوئنٹس کے صدر کوبالی گگلی نے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’ہمیں ایک متوازن فیصلہ کی توقع تھی۔ ہمیں لگتا تھا کہ سزا کے طور پر ہمیں سیریز بی میں بھیج دیا جائے گا لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ ہمیں تیس پوائنٹ سے محروم کر دیا جائے گا۔ ہم اس کے خلاف اپیل کریں گے۔‘ فیورنٹینا نے اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں فیصلے کو’انتہائی غیر منصفانہ‘ قرار دیا ہے۔ ’فیورنٹینا ہر سطح پر لڑے گا تا کہ اصل حقائق لوگوں کے سامنے لا سکے۔‘ اسی طرح اے سی میلان نے بھی کہا ہے کہ وہ اپیل کرے گا۔ کلبوں کے علاوہ کچھ کلب مینیجرز ذاتی طور پر بھی اس فیصلے کی زد میں آئے ہیں۔لیزیو کے صدر لوٹیٹو، جن پر تین سال کے لیئے پابندی لگ گئی ہے، فیصلے کے بعد شدید غصے میں تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ تفصیلی فیصلے کا انتظار کریں گے اور اس کے بعد ہی اپنی حکمت عملی بنائیں گے۔ یوئنٹس کے سابق مینیجر اور صدر پر پانچ سال جبکہ اے سی میلان کے نائب صدر پر ایک سال کی پابندی لگائی گئی ہے۔ روم میں میچ فکسنگ کی تفتیش کرنے والی عدالت نے کارروائی کے دوران ان الزامات کا جائزہ لیا جن کے مطابق مذکورہ کلبوں کی انتظامیہ، کچھ فٹ بال آفشلز اور ریفری میچوں کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں اور وہ ایسا اپنی پسند کے افراد کو کلبوں کے مینیجرز بنا کر کرتے ہیں۔ فیصلے سےمتاثر ہونے والے چاروں کلبوں نے الزامات سے انکار کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے عالمی کپ جیتنے والی اٹلی کی قومی ٹیم کے تیرہ کھلاڑیوں کا تعلق انہی چار کلبوں سے ہے جنہیں سزا سنائی گئی ہے۔ توقع ہے کہ اپنے کیرئر بچانے کے غرض سے یہ کھلاڑی اب یورپ کے دوسرے کلبوں کا رخ کریں گے۔ | اسی بارے میں اٹلی عالمی فٹبال کپ چیمپئن بن گیا09 July, 2006 | کھیل ’ماں،بہن سےمتعلق بات نےمشتعل کیا‘12 July, 2006 | کھیل ورچوئل ریپلے: ورلڈ کپ فائنل09 July, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||