BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 June, 2006, 14:31 GMT 19:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سٹیڈیم جا کر میچ دیکھنے کا مسئلہ

میچ
خواتین پر سٹیڈیم میں بیٹھ کر میچ دیکھنے کی پابندی ہے
ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد سے خواتین سٹیڈیم میں بیٹھ کر فٹ بال میچ نہیں دیکھ سکتیں تاہم فٹ بال ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ مقابلوں کے دوران ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے خواتین کو اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ خصوصی حصوں میں بیٹھ کر میچ دیکھنے کی اجازت دے دی تھی۔

ایرانی صدر نے مذکورہ فیصلہ گزشتہ سال ستمبر میں ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں بحرین کے خلاف ایران کی فتح پر خوشی کے اظہار کے لیئےخواتین کے سڑکوں پر نکل آنے کے بعد کیا تھا۔

ان کی اس اجازت سے تنازعات کا ایک طوفان سا اٹھ کھڑا ہوا۔ علماء نے اس امر کی شدید مخالفت کی اور خود ایران کے اعلٰی ترین روحانی پیشوا نے بھی اس اجازت پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس صورت حال کے بعد تو جیسے خواتین کی جلتی بجھتی ہوئی امید کی شمع بالکل ہی گُل ہوگئی ہے۔

فٹ میچ کا انعقاد خواتین کے لیے حوصلہ افزا بات ہے۔

پھر یہ ہوا کہ اسلامی انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ خواتین کو کھلی ہوا میں فٹ بال میچ کھیلنے کی اجازت دی گئی لیکن یہ میچ مکمل پردے میں کھیلا گیا اور یہاں تک کہ ایران کے دورے پر آئی ہوئی جرمنی کی ٹیم کو بھی سختی کے ساتھ مکمل اسلامی لباس کی پابندی کرنی پڑی اور کسی مرد کو بھی اس سٹیڈیم داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

یہ میچ کھیلنے والی ایران کی ٹیم میں شامل معصومہ رضا زادے کا کہنا تھا کہ فٹ میچ کا انعقاد خواتین کے لیے حوصلہ افزا بات ہے۔ اس قسم کا میچ ہونا بڑی مشکل سی بات ہے لیکن ٹیم اچھا کھیل رہی ہے۔

خواتین کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ کھلے میدان میں اور لوگوں کے سامنے کھیلنا روایت کے برعکس ہے کیونکہ خواتین کو کمزور خیال کرتے ہو ئے کہا جاتا ہے کہ وہ نوے منٹ اس قدر بھاگ دوڑ نہیں کر سکتیں۔

خواتین کا میچ دیکھنے کے لیے آئی مرجان آغاوان کا کہنا ہے کہ خواتین مردوں کی طرح کے کھیل کا مظاہرہ تو نہیں کر رہی ہیں تاہم پھر بھی ان کا کھیل اچھا ہے اور کچھ نہ ہونے سےکچھ ہونا بہتر ہے۔

فٹ بال میچ دیکھنے کے لیے آئی خواتین

ابھی یہ تنازعہ سرد نہیں پڑا تھا کہ ایران کی ایک نئی فلم پر بھی پابندی لگا دی گئی جس میں خواتین پر اس قسم کی پابندی کو خرافات قرار دیا گیا ہے۔ فلم کے ڈائریکٹر جعفر پناہی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی سے متاثر ہو کر یہ فلم بنائی۔’ ایک دن میری بیٹی میرے پاس آئی اورگھر کے قریب سٹیڈیم میں فٹ بال میچ دیکھنے کے لیے جانے کا اجازت مانگی۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ نہیں جا سکتی مگر اس نے جانے پر اصرار کیا‘۔ جعفر کا کہنا ہے کہ احمدی نژاد کے سخت رویئے کی وجہ سے ہی خواتین کے فٹ بال میچ دیکھنے کا مسئلہ ایک تنازعہ بنا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد