انڈین ٹیم پر گواسکر کی تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد ٹیم پر ہونے والی تنقید میں عالمی شہرت یافتہ بلے باز اور سابق کپتان سنیل گواسکر سرِ فہرست ہیں۔ اس آخری ایک روزہ میچ میں انڈیا کو انگلینڈ کے ہاتھوں دو سو بارہ رن کی عبرت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس میچ کی دوسری اننگز میں انڈیا کی ٹیم سو رن پر آؤٹ ہو گئی اور انڈین ٹیم کے آخری سات کھلاڑی صرف پچیس رن پر آؤٹ ہو گئے۔ سنیل گواسکر نے انڈیا کے بڑے مقتدر اخبار ہندوستان ٹائمز میں ایک مضمون میں لکھا کہ ایک روزہ میچوں کی بہتات اور بیٹنگ آڈر میں غیر ضروری تبدیلوں کی وجہ سے انڈین ٹیم کو اس شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ سنیل گواسکر نے کہا کہ شکست نہیں بلکہ جس طریقے سے ٹیم ہاری اس کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انڈیا کے سابق اوپنگ بلے باز سری کانت نے کہا ہے کہ جس طریقے سے انڈین ٹیم نے ہتھیار ڈالے وہ انتہائی ندامت کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میچ کو ڈرا کرنے کے لیے کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا ٹیسٹ کر کٹ کی دنیا میں نمبر دو ہونے کا دعوی کرنے سے ابھی بہت دور ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ انڈیا کی ٹیم نے جس کے پاس اتنے مایہ ناز بلے باز ہیں بالکل کوئی مزاحمت ہی نہیں کی۔ تمام انڈین اخباروں نے انگلینڈ کی ٹیم کی بہت تعریف کی اور خاص طور پر فلنٹاف کی قائدانہ صلاحیتوں کی۔ | اسی بارے میں ’ممبئی میں جیت ایشزکے برابر ہے‘ 23 March, 2006 | کھیل انگلینڈ نےانڈیا کو شکست دے دی22 March, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||