جونیئر ٹیم کا شاندار استقبال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی کرکٹ ٹیم کولمبو میں انڈر19 ورلڈ کپ جیتنے کے بعد منگل کو وطن واپس پہنچی تو اس کا شاندار استقبال کیا گیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے بھارت کو فائنل میں شکست دے کر عالمی اعزاز کا دفاع کرنے والی فاتح ٹیم کے ہر کھلاڑی اور آفیشلز کے لیے دو دو لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان کا کہنا ہے کہ کوشش کی جائے گی کہ یہ کرکٹرز اس شاندار جیت کے بعد گمنامی میں نہ چلے جائیں۔ انہیں نہ صرف آئندہ ہفتے شروع ہونے والے ٹوینٹی ٹوینٹی کپ میں موقع دیا جائے گا بلکہ آئندہ قائداعظم ٹرافی میں بھی نوجوان کرکٹرز کی علیحدہ ٹیم شامل کی جائے گی تاکہ نوجوان کرکٹرز کو تجربہ ملے اور ان کے کھیل میں پختگی آئے۔ شہریار خان کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں ہونے والے جونیئر ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی یقینی طور پر انیس سال سے کم عمر ہیں کیونکہ اس مرتبہ آئی سی سی نے عمر کے معاملے میں سخت قواعد وضوابط رکھے تھے۔ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ یہ جیت سخت محنت کا نتیجہ ہے۔ فائنل کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انہیں یقین تھا کہ اگر ان کے بولرز بھارت کی ابتدائی تین وکٹیں جلد حاصل کرلیتے ہیں تو جیت کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں کیونکہ پورے ٹورنامنٹ میں بھارت کے چار بانچ بیٹسمینوں کو ہی بیٹنگ کا موقع ملا تھا۔ سرفراز احمد کے مطابق بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کے بعد بہت مایوسی ہوئی تھی لیکن کوچ اور منیجر نے حوصلہ دیا تھا کہ آپ لوگ نیوزی لینڈ کو ہراسکتے ہیں۔ کوچ منصور رانا کا کہنا ہے کہ ان نوجوان کرکٹرز کو گمنامی میں جانے سے بچانے کا اہم طریقہ یہ ہے کہ اکیس سال سے کم کا ورلڈ کپ منعقد کیا جائے۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر پاکستان کسی ٹیم سے انڈر21 کی سطح پر سیریز کھیلے تاکہ یہ نوجوان کھلاڑی دوسال میں خود کو مستقبل کے لیے تیار کرسکیں۔ جونیئر ورلڈ کپ میں سب کی توجہ کا مرکز اٹھارہ سالہ فاسٹ بولر انور علی رہے جنہوں نے پندرہ وکٹیں حاصل کیں۔ فائنل میں ان کی پانچ وکٹوں کی شاندار کارکردگی نے بھارتی بیٹنگ کو بکھیر کر رکھ دیا۔ انور علی کا کہنا ہے کہ پریماداسا اسٹیڈیم کی وکٹ سِیم بولرز کے لیے مددگار تھی جس پر دوسری بیٹنگ اور وہ بھی فلڈ لِٹ میں کرنا آسان نہ تھا۔ انور علی کا تعلق کراچی سے ہے۔ میٹرک کے طالبعلم ہیں۔ وہ انٹر سکول کرکٹ سے ابھرے۔ اوپن ٹرائلز کے ذریعے کسٹمز اکیڈمی تک پہنچے جہاں انہیں جلال الدین جیسا پروفیشنل کوچ ملا جنہوں نے نوجوان انور علی کی بولنگ میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد میں یہی کام عاقب جاوید نے قومی اکیڈمی میں انجام دیا۔ انور علی جو خود بھی پٹھان گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں فاسٹ بولر عمر گل کو اپنا آئیڈیل بولر سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمرگل سے ان کی ملاقات ہوئی ہے اور انہوں نے انہیں مفید مشورے دیے ہیں۔ انور علی اس جیت کو زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ سمجھتے ہیں لیکن وہ مستقبل سے بھی غافل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ وہ محنت جاری رکھتے ہوئے پاکستان کی قومی ٹیم تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں پاکستان ورلڈ کپ جیت گیا19 February, 2006 | کھیل پاکستان اور بھارت فائنل میں 18 February, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||