BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 February, 2006, 16:19 GMT 21:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کامیابی پروفیشنلزم کا نتیجہ ہے

 راہول ڈراوڈ
پاکستان میں جیت سے جو اعتماد حاصل ہوا ہے اسے آئندہ بھی برقرار رکھیں گے: راہول ڈراوڈ
بھارتی کپتان راہول ڈراوڈ کراچی کے ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی ٹیم کی کامیابی کو پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بھرپور عکاسی سے تعبیر کرتے ہیں۔

بھارت نے اتوار کو ایک بار پھر پاکستان کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے آٹھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی اس طرح اس نے پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز چار ایک سے جیت لی۔

راہول ڈراوڈ نے کہا کہ ان کی ٹیم نے موجودہ سیریز میں بہت اچھی کرکٹ کھیلی اور ان کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا۔ انہوں نے اپنے حریف کپتان انضمام الحق اور ان کی ٹیم تعریف کے ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ان کی ٹیم کا پوری طرح خیال رکھا گیا۔

پشاور کے پہلے ون ڈے میں پاکستان نے ڈکورتھ لوئس قانون کے تحت سات رنز سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن بقیہ چاروں میچز میں بھارت نے میزبان ٹیم کے مقرر کردہ ہدف کو آسانی سے عبور کیا۔

راہول ڈراوڈ کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم اگرچہ کراچی آنے سے پہلے سیریز جیت چکی تھی لیکن کھلاڑیوں نے ریلکس ہونے کے بجائے اسی اسپرٹ سے میچ کھیلا جس سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی عکاسی ہوتی ہے۔

ڈراوڈ کے مطابق لاہور کے ون ڈے میچ نے ان کی ٹیم کو حوصلہ دیا جس سے پاکستان کی عمدہ کارکردگی کا ٹمپو ٹوٹا۔

بھارتی کپتان نے یوراج سنگھ اور مہندرا دھونی کی زبردست بیٹنگ پرفارمنس کی ربردست تعریف کی۔ ان کا کہنا ہے کہ مہندر دھونی باکمال کھلاڑی ہے جو میچ کا نقشہ بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جبکہ حالیہ برسوں میں یوراج کی بیٹنگ میں بھی غیرمعمولی پختگی آئی ہے۔

اس جیت میں ڈراوڈ اپنے بولرز کو نہیں بھولے ہیں ان کا کہنا ہے کہ تجربہ کار عرفان پٹھان اور ظہیرخان کی کارکردگی اپنی جگہ اہم لیکن آرپی سنگھ اور سری سانتھ کو کسی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

کراچی میں ٹاس جیت کر بیٹنگ نہ کرنے کے بارے میں سوال پر راہول ڈراوڈ کا کہنا ہے کہ وہ تسلسل کو توڑنا نہیں چاہتے تھے اسی لیئے انہوں نے فیلڈنگ کا ہی سوچ رکھا تھا۔

راہول ڈراوڈ کو احساس ہے کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز بہت اہم ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ پاکستان میں جیت سے جو اعتماد انہیں حاصل ہوا ہے اسے وہ آئندہ بھی برقرار رکھیں گے۔

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی گرنے والی انتالیس وکٹوں میں سے تیس وکٹیں تیز بولرز کے حصے میں آئیں جبکہ انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں اسپنرز کا کردار اہم ہوگا اس بارے میں راہول ڈراوڈ کہتے ہیں کہ کمبلے اور ہربھجن ورلڈ کلاس بولرز ہیں جن کی موجودگی میں فاسٹ بولر کے لیئے مواقع بہت کم ہونگے لیکن یہ بات ان کے لیئے مایوس کن نہیں ہونی چاہیئے۔

پاکستانی کوچ باب وولمر اعتراف کرتے ہیں کہ کھیل کے ہر شعبے میں بھارتی ٹیم نے انہیں آؤٹ کلاس کردیا۔ یہ صورتحال اس لئے بھی مایوس کن ہے کہ دو ماہ قبل اسی پاکستانی ٹیم نے انگلینڈ کو شکست دی اور پھر دو ہفتے قبل بھارت کو کراچی ٹیسٹ میں ہرایا۔

سیریز کے بعد تمام خامیوں کا ازسرنوجائزہ لینا ہوگا اور انہیں دور کرنا ہوگا
وولمر کہتے ہیں کہ بھارتی ٹیم نے بھی پاکستانی ٹیم کی طرح کیچز ڈراپ کئے لیکن اس کی گراؤنڈ فیلڈنگ بہت عمدہ رہی

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد