سیریز چیلنجنگ ہوگی: ڈراوڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ٹیم کے کپتان راہول ڈراوڈ اور کوچ گریک چیپل کا کہنا ہے کہ پاک بھارت سیریز بہت سخت اور چیلنجنگ ہوگی۔ راہول ڈراوڈ کے مطابق دونوں ٹیمیں اینے حالیہ دور میں بہت اچھا کھیل پیش کر رہی ہیں، دونوں ٹیمیں فارم میں ہیں اور دونوں کے پاس حال ہی میں ختم ہونے والی ہوم سیریز جیتنے کا اعتماد بھی ہے لہذٰا یہ ایک کانٹے کا مقابلہ ہو گا اور میچ کے دن جو اچھا کھیلے گا وہی جیتے گا۔ اپنی ٹیم اور کوچ کے ہمراہ منگل کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران راہول ڈراوڈ نے کہا کہ ’پاک بھارت سیریز کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے۔ اس کی ایک تاریخ ہے، اس کی اپنی روایات ہیں اور پوری دنیا کے کرکٹ شائقین اسے دیکھنے کے لیے بے چین ہیں اور دیکھنے والوں کو یہ سیریز دیکھ کر لطف آئے گا کہ ایک اچھی سیریز ہوئی ہے‘۔ بھارتی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ ’ہمارے تمام کھلاڑی اچھے ہیں اور پلیئنگ الیون کیا ہوگی اس کا فیصلہ تو وکٹ اور حالات دیکھ کر ہی کیا جا سکے گا‘۔ راہول ڈراوڈ کا کہنا تھا کہ وہ عید کے موقع پر اپنی ٹیم کے ساتھ عمران خان کے ہسپتال جائیں گے لیکن یہ ان کی ٹیم کا ایک نجی دورہ ہوگا۔ بھارتی ٹیم کے کوچ نے کہا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ میدان میں بہترین ٹیم اتاری جائے اور یہ پچ اور حالات دیکھ کر ہی فیصلہ ہو گا کہ گنگولی گیارہ کھلاڑیوں میں آتے ہیں یا نہیں۔
بھارتی ٹیم کے سٹار بیٹسمین سچن تندولکر نےاس پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں پاکستان میں متوقع باؤنسی وکٹوں سے کوئی پریشانی نہیں اور بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے والا ہر کھلاڑی ہر طرح کی پچ پر کھیلنے کا تجربہ رکھتا ہے اور اس نے ہر وکٹ پر کھیلنے کی تیاری بھی کی ہوتی ہے اور ویسےبھی وکٹ کا فائدہ یا نقصان تو دونوں ٹیموں کو ہوتا ہے۔ سچن تندولکرنے کہا کہ’ سنہ 2004 کی پاک بھارت سیریز جیتنے کی وجہ سے ان کی ٹیم کے پاس اعتماد تو ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ ہمارا یہ اعتماد حد سے زیادہ نہ بڑھے کہ جس سے ہمیں نقصان ہو۔ اہم بات یہ ہے کہ 2004 کے ٹور پر ملنے والے تجربے سے فائدہ اٹھائیں‘۔ سچن نے پاکستان کی ٹیم کی حالیہ اچھی کارکردگی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ سنہ 2004 والی پاکستانی ٹیم سے موجودہ پاکستانی ٹیم میں زیادہ اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ٹیم گزشتہ ایک سال سے کافی اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے پاکستان کی ٹیم میں ایک توازن اور بہتر رویہ نظر آتا ہے ادھر بھارتی ٹیم بھی تین ماہ سے اچھی کرکٹ کھیل رہی ہے لہذا میدان میں بہت زبردست مقابلہ ہوگا‘۔ بھارتی ٹیم کے نائب کپتان وریندر سہواگ نے اس موقع پر کہا کہ وہ اچھی فارم میں ہیں اور گو کہ وہ کچھ عرصے سے بہت زیادہ رنز نہیں بنا پا رہے لیکن یہ صرف ایک اچھی اننگز کی بات ہے اور جیسے ہی انہوں نے لمبا سکور کیا ان کا ’مومینٹم‘ شروع ہو جائے گا۔
سہواگ نے کہا کہ’پاک بھارت سیریز ہمارے لیے ہمیشہ سے خاص اور مشکل سیریز رہی ہے اور مجھے اس کا شدت سے انتظار ہے‘۔ اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان کی ٹیم انہیں جلد آؤٹ کرنے کی پوری کوشش میں ہو گی، سہواگ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے صرف میری وکٹ نہیں بلکہ بیس وکٹیں لینی ہوں گی اور میرے خیال میں پاکستانی بالرز کے لیے ہمارے بیس کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنا آسان کام نہیں ہوگا‘۔ بھارتی ٹیم کے سابق کپتان سورو گنگولی کا کہنا تھا کہ 2004 میں ان کی کپتانی میں پاکستان کے خلاف جیتی گئی سیریز ایک سنگ میل ہے اور ٹیم کو اسی جذبے کے ساتھ کھیلنا چاہیے۔
سورو گنگولی نے کہا کہ جو کچھ بھی متنازعہ باتیں کچھ عرصہ پہلے ہوئیں ان پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اچھی کرکٹ کھیلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2004 میں بھی ان کا کردار ذاتی طور پر اچھی کارکردگی دکھانا اور ٹیم کو جتوانا تھا اور اب بھی ان کی کوشش یہی ہو گی۔ بھارت کے سپن بالر انیل کمبلے کے مطابق وہ 2004 کی سیریز کی طرح اس بار بھی اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کرنے کی بھر پور کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ باؤنسی پچ ہونے کے سبب سپن بالر کا رول کم ہو جائے گا بلکہ وہ جلد ہی حالات سے مطابقت پیدا کر کے اچھی سپن بالنگ کروائیں گے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||