پنجاب کی واپڈا پر فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں ہونے والی پہلی وومین فٹ بال چمپئن شپ ایک سنسنی خیز اور زبردست مقابلے کے بعد صوبہ پنجاب نےصفر کے مقابلے ایک گول سے جیت لی ہے۔ یہ ایک اپ سیٹ مقابلہ تھا کیونکہ صوبہ پنجاب نے زیادہ تجربہ کار اور چیمپئن شپ کی فیورٹ ٹیم کو شکست سے دو چار کیا۔ اس میچ کا دورانیہ ساٹھ منٹ تھا۔ پہلے ہاف میں دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے گول پر حملے کرتیں رہیں لیکن کوئی ٹیم بھی گول نہ کر سکی۔ البتہ پہلے ہاف میں پنجاب کی گول کیپر نے واپڈا کی جانب سے ایک بھر پور حملے کو روکا اور ایک یقینی گول بچایا۔ صوبہ پنجاب کی شیکا نزیر مسیح نے میچ کے تریپنوے منٹ میں اپنی ٹیم کی جانب سے فیصلہ کن گول کیا۔اس لمحے میچ میں بد مزگی بھی ہوئی کیونکہ گول ہونے پر واپڈا کی ٹیم نے سخت احتجاج کیا اور ریفری کو کہا کہ یہ گول صحیح نہیں دیا گیا۔ واپڈا کی ٹیم نے میچ چھوڑنے کی بھی دھمکی دی تاہم منتظمین نے معاملہ سنبھال لیا اور جونہی میچ ختم کرنے کے لیے ریفری نے سیٹی بجائی تو پنجاب کی لڑکیاں خوشی سے جھوم اٹھیں تاہم اسی لمحے ان کی خوشی کافور ہو گئی جب واپڈا کی کھلاڑی خواتین شیکا مسیح پر ٹوٹ پڑیں اور اسے زدو کوب کرنا شروع کر دیا اور ریفری نے پنجاب کی لڑکی کو چھڑوایا۔ پنجاب کی ٹیم نے اس چمپئن شپ کو جیت کر گولڈ میڈل چمپئن شپ کی ٹرافی اور دو لاکھ کی انعامی رقم حاصل کی۔ واپڈا کی ٹیم کو ایک لاکھ اور بلوچستان کی ٹیم کو پچاس ہزار روپے کا چیک دیا گیا۔ شیخوپورا سے تعلق رکھنے والی پنجاب کی فاورڈ شیکا مسیح کو ٹاپ سکورر کا ایوارڈ اور پندرہ ہزار کی انعامی رقم دی گئی۔ پنجاب ٹیم کی کپتان کرن اپنی ٹیم کی کامیابی پر بہت خوش تھیں ان کا کہنا تھا کہ آغاز میں ہماری ٹیم واپڈا کی ٹیم سے ڈری ہوئی تھی کیونکہ وہ باڈی پلے کرتیں ہیں اور ویسے بھی ہماری ٹیم کم عمر کھلاڑیوں پر مشتمل تھی جبکہ واپڈا کی خواتین کافی بڑی اور تجربہ کار تھیں اس کے باوجود ہماری ٹیم نے بہت محنت کی اور حوصلے کے ساتھ کھیلا اور چمپئن شپ کی فیورٹ ٹیم کو مات دینے میں کامیاب ہوئی۔ یہ پنجاب کی ٹیم کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ میچ کے بعد وائس چیف آف آرمی سٹاف لیفٹیننٹ جرنل احسان الحق اور ان کی اہلیہ نے انعامات تقسیم کیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||