بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کی فتح کا جشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لا کھوں کی تعداد میں بنگلہ دیشیوں نےڈھاکہ کی گلیوں میں کرکٹ ٹیم کی آسڑیلیا کے خلاف ایک روزہ میچ میں کامیابی کا جشن منایا۔ بنگلہ دیش نے ہفتے کو عالمی کپ کی فاتح آسڑیلوی ٹیم کو شکست دی تھی جسے کرکٹ کی تاریخ کاایک بڑا اپ سیٹ سمجھا جارہا ہے۔ ڈھاکہ کے ایک طالبعلم کایوشک احمد نے کہا کہ یہ صرف میچ کی کامیابی نہیں بلکہ یوں لگتاہے کہ جیسے بنگلہ دیش نےدنیا فتح کر لی ہے۔ بنگلہ دیش کے قومی اخبارات نے ٹیم کی فتح کو بڑی بڑی سرخیوں میں نمایاں بنگلہ دیش کی وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء نے بھی کر کٹ ٹیم کو جیت پر مبارک باد کا پیغام بھیجا ہے اور امید ظاہر کی ہے ٹیم اگلے میچوں میں بھی اسی طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ بنگلہ دیش کی ٹیم بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے چارٹ میں سب سے کم درجہ پر ہے جبکہ آسڑیلوی کرکٹ ٹیم پچھلے چند سالوں میں ناقابل شکست ٹیم کی حیثیت سے سامنے آئی ہے۔ ہفتے کی صبح کارڈف میں بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کے محمد اشرافل نے ایک سینچری بھی بنائی تھی۔ بنگلہ دیش کی فتح کے بعد ڈھاکہ شہر کرکٹ کے شائقین کے نعروں کی آوازوں سے گونج رہاتھا جو’بنگلہ دیش، بنگلہ دیش‘ اور ’اشرافل، اشرافل‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ لوگ فتح کی خوشی میں ملک کا جھنڈا لہراتے رہے اور سڑکوں پر پٹاخے جلائےگئے۔ کرکٹ کے ایک اور شائق نوعمر اقبال احمد کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے لیے بڑا یادگار لمحہ ہے۔ ہم نے عالمی کپ کی فاتح آسڑیلوی ٹیم کوشکست دی ہے اور یہ ثابت کیا کہ ہم نے ٹیسٹ میچوں میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنایا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے چئیرمین علی اصغر لوبی نے کہا کہ یہ میرے لیے فخر کا لمحہ ہے اور اس موقع پر میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم نے ایک سو سات ایک روزہ میچوں میں حصہ لیا اور بمشکل ہی کسی بڑی ٹیم کو شکست دے سکی۔ بنگلہ دیشی ٹیم کو دو دن قبل انگلینڈ کی ٹیم نے دس وکٹوں سے ہرایا تھا۔ برطانوی ذرائع ابلاغ نے بنگلہ دیش کی ٹیم کو ان کی فتح پر مبارکباد دی۔ اور ساتھ ہی آسڑیلوی ٹیم کو ان کی کارکردگی پر شرمسار بھی کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||