پشاور میں پاک بھارت فٹبال مقابلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان نیشنل بنک فٹبال سیریز کے سلسلے کا دوسرا میچ جمعرات کی رات پشاور میں کھیلا جائے گا۔ کوئٹہ کے پہلے میچ میں ایک دوسرے کو بہتر انداز میں جانچنے کے بعد پشاور میں پاکستان اور بھارت کی فٹبال ٹیمیں زیادہ سخت مقابلے کی توقع کر رہی ہیں۔ تین میچوں کی اس سریز میں کوئٹہ میں پہلے مقابلے میں میچ ایک ایک گول سے برابر رہا تھا۔ پشاور میں فلڈ لائٹس اور میدان میں زیادہ گھاس ہونے کی وجہ سے تیز کھیل کا امکان ہے۔ پاکستان ٹیم کے کوچ طارق لطفی کا میچ کے بارے میں کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے میچ میں اپنی اور بھارتی ٹیم کی خامیاں اور مضبوط شعبے دیکھ لیے ہیں لہذا اب کھیل زیادہ بہتر انداز میں کھیل سکیں گے۔ ادھر بھارتی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ فلڈ لائٹس میں زیادہ بہتر کھیل پیش کر سکے گی۔ بھارتی ٹیم مینجر براہمنند نے میچ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فلڈ لائٹس اور بہتر موسم کی وجہ سے ایک سخت مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ قیوم سپورٹس سٹیڈیم میں موبائل فلڈ لائٹس میں میچ کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں۔ دس ہزار تماشائیوں کی گنجائش کے اس سٹیڈیم میں پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر لوگوں کو نشستیں دستیاب ہونگی۔ یہ مقابلہ سہولتیں نہ ہوتے ہوئے رات کے وقت منعقد کرانے کی وجہ سرحد فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہ سید ظاہر علی شاہ سے دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ پشاور میں جون کے گرم مہینے میں یہ میچ کرانا ممکن نہیں تھا۔ ’اس لیے فٹبال فیڈریشن نے اس میچ کو رات میں کرانے کے لیے ایک نجی کمپنی سے موبائل فلڈ لائٹس نصب کرنے کا ٹھیکہ دیا ہے۔ میچ کے لیے انٹری مفت رکھنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ظاہر شاہ نے کہا کہ اس کا مقصد لوگوں میں اس کھیل کے بارے میں شوق پیدا کرنا ہے۔ ’پشاور میں کافی طویل عرصے کے بعد بین القوامی میچ کی میزبانی کا شرف مل رہا ہے لہذا ٹکٹ لگانا ناانصافی ہوتی‘۔ تاہم انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ہوسکتا ہے کئی تماشائیوں کو واپس لوٹنا بھی پڑے۔ آج بھارتی ٹیم کو تانگوں میں پشاور شہر کے پرانے حصوں کی سیر بھی کرائی گئی۔ راستے میں مقامی تاجروں نے بھارتی کھلاڑیوں پر پھول پاشی کی۔ انیسو باون کے بعد سے دنوں ممالک کے درمیان یہ اب تک کا بیسواں بین القوامی مقابلہ ہے۔ بھارت دس میچوں میں کامیابی کے ساتھ برتری میں ہے جبکہ پاکستان دو میچ ہی جیت پایا۔ سات میچ برابر رہے۔ پشاور میں یہ بیس برسوں کے بعد کوئی بین القوامی میچ منعقد ہو رہا ہے جس کی وجہ سے منتظمین کے علاوہ عوام میں بھی کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||