کرکٹر فضل محمود انتقال کر گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو پچاس کی دہائی کے فاسٹ میڈیم باؤلر فضل محمود اٹھہتر سال کی عمر میں لاہورمیں ہارٹ اٹیک سے انتقال کرگئے۔ جب انیس سوپچپن میں انہیں وزڈن کرکٹر آف دی ائیر کا خطاب دیا گیا تھا تو کہا گیا تھا کہ وہ مردوں اور لڑکوں کے ہیرو اور عورتوں کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ وہ اپنے وقت کے عمران خان تھے۔ لاہور میں اٹھارہ فروری انیس سو ستائیس میں پیدا ہونے والے فضل محمود کا جسم لمبا اور مضبوط اور آنکھیں بلوری تھیں۔ انہوں نے متحدہ ہندوستان میں شمالی پنجاب کی کرکٹ ٹیم سے رانجی ٹرافی میں حصہ لے کر کرکٹ کا آغاز کیا اور قیام پاکستان کے بعد سولہ اکتوبر انیس سو باون میں بھارت کے خلاف کھیل کر پاکستان ٹیم سے اپنا کیرئر شروع کیا اور دس سال بعد سولہ سے بیس اگست انیس سو باسٹھ میں انگلستان کے خلاف آخری میچ کھیل کر کرکٹ کو الوداع کہا۔ انیس سو پچاس کی دہائی بلے باز حنیف محمد اور بالر فضل محمود کی دہائی تھی۔ حنیف محمد کہتے ہیں کہ اب تک پاکستان نے جتنے باؤلر پیدا کیے ہیں ان میں فضل محمود عظیم ترین تھے اور پاکستان ٹیم کو شروع میں جو کامیابیاں ملیں ان میں ان کا کردار بہت اہم تھا۔ لکھنؤ میں پاکستان نے بھارت کے خلاف جو ٹیسٹ میچ جیتا اس میں فضل محمود نے چورانوے رنز دے کر بارہ وکٹیں لیں اور جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ فضل محمود دائیں ہاتھ کے بلے باز اور دائیں ہاتھ سے گیند کرانے والے فاسٹ میڈیم باؤلر تھے۔ انہوں نے چونتیس ٹیسٹ میچوں میں ایک سو انتالیس وکٹیں حاصل کیں اور تیرہ اننگز ایسی ہیں جن میں انہوں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے ایک سو بارہ انٹرنیشنل میچ بھی کھیلے جن میں انہوں نے چار سو چھیاسٹھ وکٹیں حاصل کیں۔ فضل محمود نے اوول کے میدان پر انگلستان کے خلاف ننانوے رنز دے کر بارہ وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان نے انگلینڈ (ایم سی سی) کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ میچ جیتا۔ اس میچ میں ان کے لیگ کٹرز نے بہت شہرت حاصل کی۔ وہ آف کٹر اور لیگ کٹر دونوں طرح کی گیندیں کرانے کے لیے بہت مشہور تھے اور میٹ کی پچوں پر خاص طور سے بہت مؤثر باؤلر سمجھے جاتے تھے۔ گیند پر زبردست کنٹرول اور پچ پر مسلسل موومنٹ کرانا ان کا امتیاز سمجھا گیا۔ انیس سو چھپن میں آسٹریلیانے پہلی بار پاکستان کا دورہ کیا تو کراچی کے ٹیسٹ میچ میں فضل محمود نے ایک سو چودہ رنز کے عوض تیرہ وکٹیں لیں اور چار مسلسل گیندوں پر تین کھلاڑی آؤٹ کرنے کااعزاز بھی حاصل کیا۔ وہ عبدالحفیظ کاردار کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا اور بھارت کے خلاف ٹیم کی کپتانی کی۔ بھارت کے انیس سو ساٹھ کے دورہ میں پانچوں ٹیسٹ برابر ہوگئے۔ آخری عمر میں وہ مذہب اور اس کی تبلیغ کی طرف مائل تھے اور گڑھی شاہو میں اپنے محلہ کی مسجد میں اذان بھی دیا کرتے تھے۔ ان کا جنازہ منگل کی صبح کو ان کے آبائی محلہ سے اٹھایا جائے گا۔ مرحوم نے پسماندگان میں دو بیٹیاں اورایک بیٹا چھوڑا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||