اوپنرز کو سمجھانا پڑے گا: اکرم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے خلاف کامیابی کے بعد پاکستان کی ٹیم خاص طور پر بلّے بازوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہوگا۔ لیکن اوپنرز کی کارکردگی میں بہتری کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے اوپنرز کو کوچ اور کپتان نے پہلے بھی سمجھایا گیا ہو گا لیکن انہیں مزید سمجھانے کی ضرورت ہے کہ انگلینڈ میں ستمبر کے مہینے میں بال سونگ کرتا ہے اور ابتدائی اووروں میں وکٹ بچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان کے اوپنر ایسے شاٹ کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو پاکستان میں تو کھیلے جا سکتے ہیں لیکن اس ملک میں اس موسم میں ممکن نہیں۔ بھارت کے خلاف میچ میں انضمام نے بہت اچھی کپتانی کی اور اچھی بالنگ چینجز کیں۔ شعیب اختر نے اس میچ میں ثابت کیا کہ وہ پورے میچ میں اچھی بالنگ کر سکتے ہیں۔ ان کے خلاف تنقید کی جاتی کہ وہ مُستقل اچھے اوور نہیں کراتے۔ شعیب بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک میچ میں اچھی کارکردگی کے بعد ریلیکس کر جاتے ہیں۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا کا میچ زبردست ہوگا۔ انگلینڈ کے پاس ہارمیسن اور فلنٹوف کی صورت میں دو تین نوجوان کھلاڑی ہیں جو میچ وِنر ہیں۔ انگلینڈ میں وکٹیں بھی اتنی تیز نہیں جتنی آسٹریلیا میں ہوتی ہیں۔ فلِنٹوف آج کل کرکٹ ’انجوائے‘ کر رہے ہیں اور ہر میچ میں دو تین وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ اچھا سکور بھی کر رہے ہیں۔ لیکن آسٹریلیا کی مضبوط ٹیم ہے اور فلنٹوف پر دباؤ ہوگا۔ آئی سی سی مقابلوں میں ابھی تک بالروں کی کارکردگی بلے بازوں سے اچھی رہی ہے۔ اس کی وجہ موسم ہے جس میں بیٹنگ مشکل ہو جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||