اولمپک: رشوت کے الزام پر معطلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے ٹیلی ویژن پروگرام پنورما میں عالمی اولمپک کمیٹی کے رکن آئیوان سلاوکو پر رشوت کا الزام لگنے پر انہیں رکنیت سے معطل کردیا گیا ہے۔ پروگرام میں بلغاریہ کے سلاوکو کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ عالمی اولمپک کمیٹی کے ارکان سن دوہزار بارہ کے اولمپک گیمز کے میزبان ملک کا فیصلہ کرنے کے لئے رشوت لینے کو تیار ہیں۔ اس سال کے ایتھنز گیمز کے آغاز سے قبل کمیٹی کی ایک بورڈ میٹنگ میں اولمپک کمیٹی کے صدر ژاک روخے نے سلاوکو کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ روخے کا کہنا تھا: ’مجھے صرف مایوسی ہی نہیں ہوئی۔۔۔ میں غصے میں ہوں۔‘ کمیٹی کے بورڈ نے اخلاقیات سے متعلق عالمی اولمپک کمیٹی کے پینل کی تجویز پر یہ فیصلہ کیا کہ عارضی طور پر سلاوکو کو معطل کیا جائے۔ سلاوکو کے علاوہ ان چار ایجنٹوں کو بھی اولمپک گیمز سے الگ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جنہیں بی بی سی کے ٹی وی پروگرام میں دکھایا گیا ہے۔ سلاوکو نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ایسا انہوں نے اس لئے کیا تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ عالمی اولمپک کمیٹی میں بدعوانیاں عام ہیں۔ انہوں نے کہا: ’میں نے جو کچھ ۔۔۔ بھی کہا اس کا مقصد تھا کہ رشوت لینے والوں کو برسرعام لایا جائے۔‘ بی بی سی کے صحافیوں نے کمیٹی کے ارکان کے ووٹ خریدنے کیلئے یہ کہہ کر رشوت کی پیشکش کی تھی کہ لندن کو دوہزار بارہ اولمپک گیمز کی میزبانی کا موقع دیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||